زیادہ تلاش کیے گئے الفاظ

محفوظ شدہ الفاظ

سُکُونِ قَلْب

دل کا اطمینان، طمانینت، آسودگی

خِلْقِیَّہ

جبلی، فطری، خلقی

کِھسیانی بِلّی کَھمبا نوچے

جسے غصہ آرہا ہو وہ دوسروں پر اپنی جھلاہٹ اتارتا ہے، بے بسی میں آدمی دوسروں پر غصہ اتارتا ہے، شرمندہ شخص دوسروں پر اپنی شرمندگی اتارتا ہے، کمزور کی جھنجھلاہٹ

سُرُور

دل و دماغ کی شگفتگی یا سکون بخش کیفیت، خوشی، فرحت، انبساط، کیف، سرشاری

بے حِجابی

بے پردہ ہونا، بے پردگی، گھونگھٹ اٹھا دینا، کھلے بندوں پھرنا (عورت کا)

شَرِیکِ حَیات

زندگی کا رفیق یا ساتھی، مراد: عموماً بیوی یا شوہر

مَشْوَرَت

آپس میں سوچ بچار، صلاح یا رائے کا تبادلہ کرنا، صلاح، مشورہ، کنگاش، باہمی تجویز

سِتَم گَر

(عموماً شعرو شاعری میں) معشوق، محبوب

کوشِش

سعی، دوڑ دھوپ، جدوجہد، محنت، قصد(کرنا کے ساتھ)

بے نِیاز

جو کسی شخص کا محتاج نہ ہو، بے پروا، قاطمع، بے غرض، مستغنی

دِید کے قابِل

دیکھنے کے لائق ، دیدنی

قابِلِ دِید

دیکھنے سے تعلق رکھنے والا، دیدنی

آٹھ بار نَو تیوہار

عیش و آرام کا شوق ایسا بڑھا ہوا ہے کہ زمانہ اور وقت اس کو کفایت نہیں کرنے دیتا

چَمَنِسْتان

ایسا باغ جہاں پھول کثرت سے ہوں، ایسی جگہ جہاں دور تک پھول ہی پھول اور سبزہ سبزہ نظر آئے، گلزار، گلستان، باغ، پھولوں کا قطعہ، سبز کھیت

عَوْرَت

بیوی، زوجہ، اہلیہ، گھر والی

طاغُوت

گمراہ، سرکش، شیطان (جو خدا سے منحرف ہو اور گمراہ کرے)

مَن بھاوَن

جو دل کو اچھا معلوم ہو، جو دل کو بھلا لگے، دلچسپ، دل پسند، پسندیدہ، مرغوب خاطر

دادْرا

موسیقی میں ایک قسم کا چلتا نغمہ، ایک قسم کا گان، ایک تال

مَزدُور

اجرت پر محنت و مشقت کا کام کرنے والا، تجارت اور صنعت کے شعبوں میں جسمانی محنت کا کام کرنے والا، دوسروں کے کھیتوں میں اجرت پر کام کرنے والا، محنت فروش

خَیر اَنْدیش

وہ شخص جو کسی کی بھلائی چاہے، بہی خواہ، خیر خواہ، خیر سگال

ضرب الامثال

یہ ہندوستانی ضرب الامثال کی ایک لغت ہے، جو ریکھتا فاؤنڈیشن کا ایک اقدام ہے۔ اس میں صدیوں پر محیط روایتی کہاوتوں اور محاوروں کا ایک قیمتی مجموعہ شامل ہے جو برصغیرِ ہند کی ثقافت، معاشرے اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ لغت ناقدین، محققین، طلبہ اور زبان و ادب کے شائقین کے لیے ایک نہایت مفید اور قابلِ اعتماد حوالہ جاتی ماخذ کے طور پر کام کرتی ہے۔

مشہور ضرب الامثال

ضرب الامثال کی فہرست

متعقلہ نتائج

اَڑے دَڑے قاضی کے سَر پَڑے

مصیبت کس کی کس کو اٹھانا پڑا

اَڑھائی بَکایَن مِیاں باغ میں ، کانی حَرَم مَحَل خانے میں

کم ظرف ہے، اوجھا ہے، زمین پر پانو نہیں رکھتا (بے حقیقت آدمی کے شیخی مارنے کے موقعے پر مستعمل)

اَڑھائی دِن سَقّے نے بھی بادْشاہَت کی ہے

چند روزہ اقتدار قابل فخر نہیں، انقلاب زمانہ سے کبھی ادنیٰ بھی اعلیٰ رتبے پر پہنچ جاتا ہے

اَڑی دَڑی سَب قاضی کے سَر پَڑی

مصیبت میں کس کی کس کو اٹھانا پڑی

اَڑی دَڑی قاضی کے سَر پَڑی

مصیبت کس کی کس کو اٹھانا پڑا

اَڑی دَھڑی سب قاضی کے سر پڑی

پرائی بلا اپنے سر پڑی، دوسرے کی مصیبت اٹھانی پڑی، کسی کام کی بھلائی برائی مرکزی آدمی کے سر آ کر پڑتی ہے

اڑتے سے اڑ جائیے اور چلتے سے چل دور

جو لڑنے پر ہی مصر ہو اس سے دو دو ہاتھ ہو کر فارغ ہو جانا چاہیئے اور جو راستہ جا رہا ہو اسے چھیڑنا نہیں چاہیئے

انْدھیرے گھر میں ڈھینْگر ناچے

ویران گھر کے لئے بھی یہ کہاوت کہتے ہیں

اندھیاری گئی کہ چور

جسے جس کام کی عادت پڑ جاتی ہے موقع ملتے ہی وہ اسے بہرحال کرے گا

اَنگُوٹھے کے بَعْد چَھنگُلیا ہی آتی ہے

عموماً چھوٹے ہی بڑوں کی پیروی کرتے ہیں (جس طرح ناپنے میں جہاں اول انگوٹھا رکھتے ہیں بعد میں وہیں چھنگلیا رکھتے ہیں)

اَنتْڑی میں رُوپ اور بُقچی میں چَھب

غذا سے رنگ روپ نکلتا ہے اور پوشاک سے زیبائش ہوتی ہے

آ بَڑے باپ کی بیٹی ہے تو پَنْجَہ کَرلے

عورتیں کوئی لاف زنی کریں تو کہتے ہیں

آ بَیل مُجھے بَھکوس نَہِیں تو مَیں تُجھے بَھکوسُوں

اپنے ہاتھوں مصیبت میں پڑنے یا مفت کا جھگڑا یا مصیبت مول لینے کے موقع پر مستعمل

آ بَیل مُجھے مار

اپنے ہاتھوں مصیبت میں پڑنے یا مفت کا جھگڑا یا مصیبت مول لینے کے موقع پر مستعمل

آ بَلا گَلے لَگ

مفت کا جھگڑا یا مصیبت مول لینے کے موقع پر مستعمل

آ بَلا گَلے پَڑْ

مفت کا جھگڑا یا مصیبت مول لینے کے موقع پر مستعمل

آ بَلا مجھے مار

مصیبت کو دعوت دینا

آ بَنی سَر پَر آپنے چھوڑ پَرائی آس

مصیبت کے وقت انسان کو دوسرے سے سہارا نہیں رکھنا چاہیے خود دفعیہ کرنا چاہیے

آ بے سونٹے تیری باری کان چھوڑ کَنپَٹی ماری

کسی کام کے کرنے میں جب بار بار نا کامی ہوتی ہے تو اس کی آخری تدبیر کے وقت کہتے ہیں

آ بے سوٹے تیری باری کان چھوڑ کنپٹی ماری

(بازاری زبان) آخری تدبیر ہونے کے موقع پر بولتے ہیں

آ بُوا لَڑیں

بے وجہ جھگڑا اٹھانے اور چھیڑ چھاڑ کے مواقع پر مستعمل، لڑائی کے لیے تیار

آ دَلِدَّر کاندھے چَڑْھ بَیٹھ

کاہل کے لیے مستعمل جو خود دلدر پھیلاتا ہو

آ گَئے بَراتی نَہ خُشْکا نَہ چَپاتی

بد انتظامی کے موقع پر مستعمل

آ پَڑوسَن گَھر کا بھی لے جا

نفع کی بجاے نقصان ہونے کے موقع پر مستعمل

آ پَڑوسَن لَڑ

بے وجہ جھگڑا اٹھانے اور چھیڑ چھاڑ کے مواقع پر مستعمل

آ پَڑوسَن لَڑیں

بے وجہ جھگڑا اٹھانے اور چھیڑ چھاڑ کے مواقع پر مستعمل، لڑائی کے لیے تیار

آ پڑوسن مجھ سی ہو

دوسروں کا برا تکنا یعنی میری طرح تو بھی بیوہ ہوجا

آئے آم جائے لَبیدا

کسی نہ کسی طرح مطلب حاصل ہو، چاہے کچھ ہی کیوں نہ صرف ہو جائے

آئے بِیر بھاگے بِیر

نیکوں کے سامنے بدوں کی کچھ نہیں چلتی، ہمیشہ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں

آئے چیت سہاون پھوہڑ میل چھڑاون

گندی عورت کے متعلق کہتے ہیں کہ پسینہ آئے تو اس کا بدن صاف ہو

آئے ڈَلُّو کے دَس سیرے

گھر گھر پھرنے والے شخص کے لئے مستعمل

آئے کَناگَت پُھولا کانس بامَن اُچْھلیں نَو نَو بانس

کناگت کے دنوں میں برہمنوں کو بہت دعوتیں کھانے کو ملتی ہیں اس لئے وہ بہت خوش رہتے ہیں

آئے کی شادی نہ گئے کا غم

نہ کسی چیز کے حاصل ہونے کی خوشی ہے نہ چلے جانے کا رنج ہے، ہمیشہ خوش رہنا

آئے مِیر بھاگے بِیر

اعلیٰ کے سامنے ادنیٰ نہیں ٹھہر سکتا

آئے نہ جائے

آتا جاتا کچھ نہیں

آئے پِیر بھاگے پِیر

بدوں سے نیک ہمیشہ الگ رہتے ہیں

آئے تھے ہَر بَھجْنے کو اور اَوٹَن لَگے کَپاس

جو کرنا چاہیے تھا اس کے خلاف کرنے لگے، دین کے بہانے دُنیا کمانے لگے

آئے تو جائے کہاں

بے حد غصے میں بھر گیا، ایسا الجھا کہ جان چھڑانا مشکل ہو گئی

آئے تو کوڑھی کا سوانگ لے کر آئے

جہاں جس بات کا موقع ہو کر گزرے

آئیں تو کہاں جائیں

غصہ کی شدت ظاہر کرنے کے لئے کہتے ہیں

آئے گا کُتّا تو پائے گا تِکّا

دوڑ دھوپ کوشش و محنت سے ہی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے

آئے گا کُتّا تو پائے گا ٹُکّا

دوڑ دھوپ کوشش و محنت سے ہی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے

آئی بات رکتی نہیں

من میں آیا خیال ظاہر ہو کر ہی رہتا ہے

آئی بہو آیا کام گئی بہو گیا کام

بیوی گھر میں آتی ہے تو کام کرتی ہے، جب چلی جاتی ہے تو کام بھی ختم یا کم ہو جاتا ہے

آئی گئی پار پڑی

جو بات ہو چکی اب اس کا ذکر بیکار ہے، جو ہو چکا سو ہو چکا اس کی فکر فضول ہے

آئی ہے جان کے ساتھ جائے گی جَنازے کے ساتھ

مراد عادت ہے جو پوری زندگی چھوٹتی نہیں، پکی عادت بدل نہیں سکتی

آئی ہوئی نہیں ٹلتی

موت نہیں رکتی، موت اپنے وقت پر آ جاتی ہے

آئی جان کے ساتھ جائے گی جنازے کے ساتھ

اس کے متعلق کہتے ہیں جس کی عادت نہ بدلے

آئی مائی کو کاجل نہیں، بتائی کو بھر مانگا

عیاش کے متعلق کہتے ہیں، گھر والوں کو کچھ نہیں دیتا، رنڈی کا گھر بھر دیتا ہے

آئی موج فقیر کی دیا جھونپڑا پھونک

بے پرواہ آدمیو ں کو اپنا نقصان کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا

آئی نہ گئی چھو چھو گھر ہی میں رہی

اتفاق سے گھر میں آئی اب نکلتی ہی نہیں، مہمان جو گھر میں آکر بیٹھ رہے، اس کے متعلق کہتے ہیں

آئی نہ گئی کس رشتے بہن

بغیر جان پہچان کے بہت زیادہ رسوخ کا اظہار، زبردستی رشتہ نکالنا

آئی پر چوکے نہیں

موقع نہیں گنوانا چاہئے

آئی پر نہ چوکے

جہاں جس ہات کا موقع ہو کر گزرے

آئی پر نہیں چوکتے ہیں

حاضر جواب ہیں دل میں جو بات آئے کہہ دیتے ہیں

آئی روزی نَہِیں تو روزَہ

کچھ مل گیا تو کھا پی لیا نہیں تو فاقہ کرلیا، توکل و قناعت پر گزر بسر ہے

آئی تھی آگ کو رَہ گَئی رات کو

بے غیرت ہے، بدچلن ہے، بدچلنی کے لئے ذرا سا بہانہ کافی ہے

آئی تھی آگ لینے بن گئی گھر کی مالک

اس عورت کے متعلق کہتے ہیں جو بہانہ سے کسی کے گھر میں داخلہ کر کے مالک سے شادی کر لے

آئی تو نوش نَہِیں تو فَراموش

آئی تو روزی نہیں تو روزہ، کچھ ملا تو اچھی بات نہیں تو صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں

آئی تو رمائی نہیں تو فقط چارپائی

مل گیا تو کھا لیا ورنہ فاقہ، ملی تو روزی نہیں تو روزہ، تفریح ​​کا ذریعہ مل گیا تو ٹھیک نہیں تو فکر نہیں

آئِیں بِیوی عاقِلَہ سَب کاموں میں داخِلَہ

ناواقف کے جا و بے جا کام میں دخل دینے کے موقع پر مستعمل

آئِینَہ لے کے مُنھ تو دیکھو

تم اس قابل نہیں کہ یہ کام انجام دو، تم میں اتنی صلاحیت نہیں، تم اس کے اہل یا مستحق نہیں

آئینہ میں اپنا حال تو دیکھو

کسی کا حال دیکھ کر اس کے سمجھانے کو کہتے ہیں

آئینہ میں بال آنا

آئینے میں ٹوٹنے کی وجہ سے خط پڑ جانا

آئینہ تو مُیسر نہ ہوا ہوگا چَپنی میں مُوت کے دیکھ

اگر کوئی بدصورت آدمی کسی چنچل عورت سے مذاق کرے تو وہ کہتی ہے

آئینے میں صورت تو دیکھو

طنزاً کہتے ہیں اگر کوئی اپنی قابلیت سے بڑھ کر بات کرے یا حیثیت سے بڑھ کر مانگے

آئندہ کو کان ہوئے

آگے کے لیے احتیاط ہوگی

آنکھ پھیرے طوطے کی سی، بات کرے مینا کی سی

بے وفا چرب زبان کی نسبت کہتے ہیں کہ باتیں بہت کرتا ہے مگر وقت پر دھوکا دے جاتا ہے

آندَھر کُکَر سے بَتاسے بَھونکے

اندھا کتا ہوا کی سنسناہٹ سن کر بھون٘کنے لگتا ہے، فضول کام کرنے والے شخص کی نسبت مستعمل

آندَھر کُوٹے بَہرا کُوٹے، چاول سے کام

کام چاہے کوئی کرے مطلب تو اس سے ہے کہ کام ہو جائے

آنْدھی آئے بَیٹھ جائے، مینہ آئے بھاگ جائے

تھوڑی سی تکلیف جسے جھیل سکو تو جھیل لو اور زیادہ ہو تو الگ ہو جاؤ

آندھی کے آگے بینا کی بتاس

آندھی میں پنکھے کی ہوا، بے فائدہ کام کرنا

آنڈو بیل جی کا جوال

سانڈ جنجال ہوتا ہے

آنکھ بَچے کا چانٹا

لڑکوں میں ایک قسم کی شرط بدی جاتی ہے جو جسے بے خبر دیکھے تڑ سے چانٹا مارے

آنکھ بَچی مال دوستوں کا

بے ایمان کی نسبت بولتے ہیں جو ذرا سا موقع پا کر چیز اڑا لے جائے

آنکھ بَچی مال یاروں کا

ذرا غفلت ہوئی اور لوگوں نے چیز اڑالی، ذرا سی چوک میں مال تلف ہو گیا

آنکھ چوپٹ اندھیرے سے نفرت

غیر معمولی بات، فضول نخرا

آنکھ ایک نَہِیں کَجْلَوٹے دو دو

بد صورت کو جب آرائش کا شوق بہت ہوتا ہے تو اس کی نسبت یہ مثل کہی جاتی ہے

آنکھ ایک نَہِیں کَجْلَوٹِیاں نَو نَو

بد صورت ہے مگر آرائش کا بہت شوق ہے

آنْکھ ہی پُھوٹی تو بَھوں کب بھاتی ہے

بیٹی مر جائے تو داماد کے ساتھ کچھ تعلق نہیں ہوتا

آنکھ ہُوئی چار دِل میں آیا پیار، آنکھ ہُوئی اوٹ دِل میں آئی کھوٹ

آمنے سامنے ہوتے ہی دل میں مروت اور محبت آ ہی جاتی ہے اور نگاہ سے اوجھل ہونے پر یہ پاس و لحاظ باقی نہیں رہتا

آنکھ کا اندھا گانٹھ کا پورا

دولت مند بے و قوف جو اسراف سے کام لیتا ہے، بیوقوف مُسرف

آنکھ کا گلا بھووں سے

اس کی نسبت کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے عزیز یا دوست کو برا کہے

آنکھ کدو ناک مدو سوہنی نام

غیر موزوں نام، برعکس نہند نام زنگی کافور

آنکھ کے آگے ناک، سُوجھے کیا خاک

جب کوئی شخص دیکھ کر کام نہ کرے تو مذاقاً کہا جاتا ہے

آنکھ کی برائی بھووں کے آگے

کسی کے عیب یا برائی کا ذکر یا اس کی شکایت اس کے عزیز یا دوست کے سامنے کرنے کا عمل

آنکھ کی برائی بھووں سے

اس کی نسبت کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے عزیز یا دوست کو برا کہے

آنکھ لَجائی دھی پَرائی

نسبت آنے کے موقع پر لڑکی کے سر پرستوں کا شرم سے سر جھکا لینا رضامندی کی علامت ہے

آنکھ میں آنسُو نَہِیں اَور کَلیجَہ ٹُوک ٹُوک

ظاہر میں بہت رنج و افسوس ہے لیکن دل پر ذرا اثر نہیں

آنکھ میں میل ہے اور اس میں میل نہیں

پاکدامن کے لئے مستعمل ہے

آنْکھ میں نور، دانْت نپور

ظاہر میں بہت رنج و افسوس ہے لیکن دل پر ذرا اثر نہیں

آنکھ میں پانی نہیں ہے

بالکل شرم نہیں ہے

آنکھ میں تھی شَرْم دِل کی تھی نَرْم

عورتیں طنزیہ طور پر اس جگہ کہتی ہیں جہاں نہ ماننے والی بات کوئی مروت اور پاس و لحاظ کی وجہ سے مان لے

آنکھ مِچی اور مال دوسْتوں کا

ادھر ذرا چوک ہوئی اور لوگوں نے نقصان پہنچایا، چور اچکے اٹھائی گیرے موقع کے منتظر رہتے ہیں

آنکھ مُند گَئی اَندھیرا پاک

مرنے کے بعد کچھ نظر نہیں آسکتا کہ دنیا میں کیا ہے کیا نہیں

آنکھ مُوچی مال دوستوں کا

ادھر ذرا چوک ہوئی اور لوگوں نے نقصان پہنچایا، چور اچکے اٹھائی گیرے موقع کے منتظر رہتے ہیں

آنکھ نہ دیکھو بہو چاند سی

وہاں کہتے ہیں جہاں بیوی یک چشم ملے

آنکھ نہ دیدہ کاڑھے کشیدہ

کام کرنے کا شعور نہیں پھر بھی کرنے کا شوق

آنکھ نہ ناک بَنّو چاند سی

شکل صورت تو اچھی نہیں پھر بھی چٹک مٹک سے رہنا

آنکھ ناک مکھ موند کے نام نرنجن لے، بھیتر کے پٹ جب کھلیں جب باہر کے پٹ دے

دل کا دروازہ اسی وقت کھلتا ہے یعنی ایمان کی روشنی اسی وقت ملتی ہے جب باہر کے دروازے بند کر دیا جائیں یعنی لالچ اور غصے کا راستہ روک دیا جائے

آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل

جو چیز آنکھ کے سامنے نہیں وہ اگر قریب بھی ہے تو بھی دور ہے

آنکھ اوٹ پَہاڑ اوٹ

جو چیز آنکھ کے سامنے نہ ہو اگر وہ قریب ہو تب بھی دور ہے

آنکھ پَھڑکے دَہْنی ماں مِلے یا بَہْنی، آنکھ پَھڑکے بائِیں بِیر مِلے یا سائِیں

بائیں آنکھ پھڑکے تو شوہر یا بیوی سے ملاقات ہوتی ہے اور دائیں آنکھ پھڑکنے پر ماں یا بہن سے

آنکھ پُھوٹے گی تو کیا بَھوں سے دیکھیں گے

یہ وہاں بولتے ہیں جہاں یہ کہنا ہوتا ہے کہ جو چیز جس کام کے لیے موضوع ہے وہ کام اسی سے نکلتا ہے

آنکھ پھوٹی پِیڑ گئی

نقصان تو ہوا مگر جان تو چھوٹ گئی، درد کا صدمہ اٹھانے سے اندھا ہوجانا ہی بہتر ہے

آنکھیں آسمان پر رہتی ہیں

دھیان سے کام نہیں کرتا

آنکھیں آسمان سے لگی رہتی ہیں

نظر ہر وقت اوپر رہتی ہے، نیچے دیکھتے ہی نہیں

آنکھیں بڑی چیز ہیں

آنکھوں کی تعریف میں یہ فقرے کہے جاتے ہیں

آنکھیں بڑی دولت ہیں

آنکھوں کی تعریف میں یہ فقرے کہے جاتے ہیں

آنکھیں بند ہوتے کیا دیر ہے

مرتے دیر نہیں لگتی

آنکھیں بند کر کے کوئی کام کرنا

بے سمجھے بوجھے کام کرنا

آنکھیں بند کیے چلا جا

بے کھٹکے چلا جا، کوئی ڈر نہیں

آنکھیں چار طرف چکر مکر چلی جاتی ہیں

شوخی سے نگاہ ایک طرف نہیں ٹھہرتی، شوخ دیدہ ہے

آنکھیں ہُوئِیں چار دِل میں آیا پیار، آنکھیں ہُوئِیں اوٹ دِلْ میں آئی کھوٹ

آمنے سامنے ہوتے ہی دل میں مروت اور محبت آ ہی جاتی ہے اور نگاہ سے اوجھل ہونے پر یہ پاس و لحاظ باقی نہیں رہتا

آنکھیں پھیرے توتے کی سی باتیں کرے مینا کی سی

در اصل بے مروت ہے، ظاہر داری سے لگاوٹ کی باتیں کرتا ہے

آنکھیں تو کھلی رہ گئیں اور مر گیا بکرا

غیر متوقع طور پر کوئی حادثہ واقع ہو جانا، یکایک موت آ گئی

آنکھیں ذرا سی جھپکیں اور مال دوستوں کا

ذرا سی غفلت ہوئی اور مال گیا

آنْکھوں دیکھا پَھٹ پَڑا کہ مَیں کانوں سُنا

سچے کو جھوٹا بناتے ہو اور دوسرے کی آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کو اپنی سنی سنائی پر ترجیح دیتے ہو

آنْکھوں دیکھا پَھٹ پَڑا مُجھے کانوں سُنْنے دے

سچے کو جھوٹا بناتے ہو اور دوسرے کی آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کو اپنی سنی سنائی پر ترجیح دیتے ہو

آنکھوں دیکھا سو جانا کانوں سُنا نَہ مانا

انسان جو کچھ آن٘کھوں سے دیکھے اس پر یقین لائے سُنی سنائی بات کا کیا اعتبار

آنکھوں دیکھے مکھی نہیں نگلی جاتی

جان بوجھ کر خلاف شان بات نہیں کی جا سکتی

آنکھوں دیکھی جانوں، کانوں سنی نہ مانوں

خود دیکھی بات پر یقین کرنا چاہیئے، سنی سنائی بات نہیں ماننی چاہیئے

آنْکھوں دیکھی نہ کانوں سُنی

اس امر کا نہ کبھی خود مشاہدہ کیا نہ کسی سے سنا، یہ نہایت عجیب و غریب بات ہے، ناقابل یقین بات

آنکھوں دیکَھتے مَکّھی نَہِیں نِگْلی جاتی

جان بوجھ کر کوئی مصیبت میں نہیں پڑتا

آنکھوں کے آگے بھوؤں کی برائی

کسی کے سامنے اس کے کسی قریبی کی برائی یا شکایت کرنا

آنکھوں کے آگے ناک سوجھے کیا خاک

اس شخص کی نسبت کہتے ہیں جس کو سامنے پڑی چیز دکھائی نہ دے

آنکھوں کے آگے پَلْکوں کی بُرائی

کسی کی موجودگی میں اس کے دوست یا عزیز کی شکایت یا برائی

آنکھوں کے اندھے نام نَین سُکھ

عیب والی چیز اچھا نام رکھنے سے اچھی نہیں ہوسکتی، ناموزوں نام

آنکھوں کی سوئیاں نکالنی رہ گئیں

تھوڑی سی کسر کام کی تکمیل میں رہ گئی

آنکھوں میں حیا نہ ہو تو ڈھیلے اچھے

بے حیائی کی ملامت کرنے پر بولتے ہیں

آنکھوں پر پلکوں کا بوجھ نہیں ہوتا

جس سے محبت ہوتی ہے وہ دل پر گراں نہیں گزرتا، جو اپنے تن بدن کا جزو ہو اسے سب چاہتے ہیں

آنکھوں سکھی نام حافظ جی

غیر موزوں نام، آنکھیں درست مگر نام اندھا، خدا نے آنکھیں دیں پھر بھی نام حافظ

آنْسوؤں سے پیاس نَہیں بُجْھتی

تھوڑی چیز سے گزارا نہیں ہوتا، تھوڑی چیز سے تسلی نہیں ہوتی

آنسو ایک نہیں کلیجہ ٹُوک ٹُوک

مکاری کی ہائے ہائے ہے، درد مندی نہیں محض بناوٹ ہے، جھوٹی ہمدردی دکھانا

آنْت بھاری تو بات بھاری

پیٹ ٹھیک نہ رہنے سے سر بھاری رہتا ہے

آنت بھاری تو مات بھاری

پیٹ کی خرابی سے بیماری پیدا ہوتی ہے، معدے کی خرابی سے درد سر ہوتا ہے، فتور ہضم سے درد سر ہوتا ہے بد ہضمی سے سر پھرتا ہے

آنول نال گڑی ہے

پیدائش کی جگہ سے چونکہ محبت ہوتی ہے اس لیے کسی ایسے شخص کو جسے کسی جگہ سے محبت ہو یہ کہتے ہیں کہ وہاں کیا تمہاری آنول نال گڑی ہے

آنول نال یہیں گرایا

یہاں کی پیدائش ہے

آنولے کا کھایا اور بَڑے کا سَمْجھایا پِیْچھے مَزَہ دیتا ہے

ابتدامیں تو یہ دونوں چیزیں ہی بد مزہ معلوم ہوتی ہیں نتیجے میں نہایت مفید ثابت ہوتی ہیں

آنولے کا کھایا بعد میں مزہ دیتا ہے

بزرگوں کا کہنا پیچھے یاد آتا ہے

آؤ بوا لڑیں لڑے ہماری بلا

جو گلے پڑ کر لڑے عورتیں اس کی نسبت کہتی ہیں

آؤ دیکھا نہ تاؤ

موقع محل نہیں دیکھنا، جا بے جا نہیں دیکھا، یہ اس موقع پر کہتے ہیں جب کوئی جلدی سے بے محل کوئی کام کر لے یا کوئی بات کہہ دے

آؤ مہرباں بڑی راہ دکھائی

آئیے آپ نے بڑا انتظار کرایا

آؤ پڑوسن گھر کا بھی لے جاؤ

جب کہیں سے کچھ ملنے کی امید ہو اور وہ نہ ملے بلکہ گرہ کا بھی چلا جائے تب یہ کہاوت کہتے ہیں

آؤ پَڑوسَن گَھر سے بھی لے جاؤ

کسی نفع کی امید میں نقصان اٹھانے کے موقع پر مستعمل

آؤ پڑوسن لڑیں

خواہ مخواہ لڑائی مول لینے کے موقع پر کہا جاتا ہے

آؤ پوت سلاچنے گھر کا بھی لے جاؤ

شاباش بیٹا گھر میں کچھ نہ چھوڑنا، سب کچھ اجاڑ دینا

آؤ تو جاؤ کہاں

غصہ کی شدت ظاہر کرنے کے لیے کہتے ہیں

آؤ تمہارا گھر، جاؤ کچھ جھگڑا نہیں

ہم ہر طرح راضی ہیں، جیسے تمہاری مرضی ہو

آؤ جاؤ گَھر تُمہارا، کھانا مانگے دُشمَن ہَمارا

زبانی تواضع بہت مگر خرچ سے کترانا

آب آمَد تَیمُم بَرخاست

(لفظاً) پانی مل گیا تو تیمم درست نہیں، (مراداً) اصل کے ہوتے ہوئے فرع کی ضرورت نہیں

آب چو اَز سَر گُزَشْت چِہ یَک نیزَہ چِہ یَک دَسْت

(مراداً) جب مصیبت یا بدنامی حد سے بڑھ گئی تو اس کا اب اتنا ہی رہنا یا اس سے بھی بڑھ جانا دونوں برابر ہیں

آب چو اَز سَر گُزَشْت چِہ یَک نیزَہ چِہ یَک وَجَب

(لفظاً) جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تو ایک بالشت یا نیزہ بھر سب برابر ہے

آب آب کرتے مر گئے سرہانے دھرا رہا پانی

ایسے موقع پر بھی مستعمل جہاں کوئی شخص اپنے خصوصیات چھوڑ کر دوسروں کی تنقید کرنے سے نقصان اٹھائے

آب سرگزشت

پانی سر سے گزر گیا

آب نَدِیدَہ موزَہ کَشِیدَہ

کسی آفت یا مشکل کے پیش آنے سے قبل اس کے اندیشے میں مبتلا ہونے کے موقع پر مستعمل

آد ہندو بعد مسلمان

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس ملک میں پہلے تو ہندو ہی رہتے تھے مسلمان بعد میں آئے

آدم آیا دم آیا

آدمی کے آ جانے سے حوصلہ بڑھ جاتا ہے، آدمی کے پیدا ہوتے ہی دَم آنا شروع ہو جاتا ہے یعنی سانس آنے لگتی ہے

آدَمی اَپنے مَطْلَب کے لیے پَہاڑ کے کَن٘کَر ڈھُوْتا ہے

انسان اپنی غرض کے لیے ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کرتا ہے

آدَر نَہ بھاو جُھوٹے مال کھاؤ

کم عزت آدمی یا کمینہ اگر بے ایمانی کرے تو اس کی عزت میں کچھ فرق نہیں آتا

آدھ جَل گَگْری چَھلْکَت جائے

ناکامل آدمی تھوڑی سی مقدرت میں مغرور ہوجاتا ہے

آدھ پا آٹا چَوبارے رَسوئی

مقدور کم اور لاف زنی بہت

آدھ پاؤ آٹا چوبارے رسوئی

اس شخص کی نسبت کہتے ہیں جس کی حیثیت بہت کم ہو، اور شیخی بہت بگھارے

آدھ پاؤ کے پاتر میں کیسے سیر سمائے

کم ظرف شخص کی نسبت بولتے ہیں

آدھ سیر چنے کی دال

حصول مقصد میں نا کامیاب ہو کر ایک معینہ دھمکی دینا

آدھ سیر کے برتن میں سیر بھر نہیں سماتا

آدھ سیر کے برتن میں سیر چیز نہیں سما سکتی، مطلب یہ ہے کہ نا ممکن کام کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے

آدھا آپ گھر، آدھا سب گھر

كسی كے لالچ اور حرص كی بہتات ظاہر كرنے كے لئے کہا جاتا ہے

آدھا تجے پنڈت، سارا تجے گنوار

عقلمند سوچ کر خرچ کرتا ہے، بیوقوف ساری دولت اجاڑ دیتا ہے

آدھا تِیتَر آدھا بَٹِیر

وہ بات یا كام جو ایک اصول اور ایک انتظام كے تحت نہ ہو، بے میل چیز، مخلوط زبان، دو رنگا

آدھے اَساڑھ تو بَیری كے بھی بَرسے

اساڑھ کی آدھی بارش سے تو ہر ایک بہ شمول دشمن بھی فیضیاب ہو جاتا ہے مگر وہ بھی میسر نہیں، نہایت افسوس، مایوسی اور ناکامی کی حالت میں یہ کلمہ زباں پر لاتے ہیں

آدھے گاؤں دِوالی آدھے گاؤں ہولی

كسی كیفیت صفت یا رائے میں اختلاف كے موقع پر بولتے ہیں

آدھے گاؤں دِوالی آدھے گاؤں پھاگ

كسی كیفیت صفت یا رائے میں اختلاف كے موقع پر بولتے ہیں

آدھے كا ساجھی بَرابَر كی چوٹ

شریک یا حصہ دار كا حق مساوی ہوتا ہے

آدھے ماگھے كملی كاندھے

آدھے ماگھ میں اتنی گرمی ہوتی ہے کہ زمیندار کملی کو کاندھے پر ڈال لیتا ہے

آدھےمیں مُلّا مَوج آدھے میں ساری فَوج

اس شخص كی بابت كہتے ہیں جو اپنے كو سب سے بڑھ چڑھ كر سمجھے اور بڑے حصے كا مستحق جانے (كہا جاتا ہے كہ ایک قاضی قدوہ نامی كے ستر یا چوراسی بیٹے تھے، اس لیے مبالغے كے طور پر یہ مثل مشہور ہوگئی كہ آدھے ہیں كل اولاد آدم اور آدھے میں قاضی قدوہ كی اولاد)

آدھے میاں مَوج آدھے میں ساری فَوج

جب کسی چیز کا آدھا حصہ فرد واحد کو اور باقی آدھا حصہ پوری جماعت کو ملے تو اس وقت کہتے ہیں

آدھے قاضی قُدْوَہ اَور آدھے باوا آدَم

اس شخص كی بابت كہتے ہیں جو اپنے كو سب سے بڑھ چڑھ كر سمجھے اور بڑے حصے كا مستحق جانے (كہا جاتا ہے كہ ایک قاضی قدوہ نامی كے ستر یا چوراسی بیٹے تھے، اس لیے مبالغے كے طور پر یہ مثل مشہور ہوگئی كہ آدھے ہیں كل اولاد آدم اور آدھے میں قاضی قدوہ كی اولاد)

آدھی بات سن پائیں تو ایک ایک کی چار چار دل سے بنائیں

بہت چالاک اور شریر آدمی ہی شرارت کی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہیں

آدھی چھوڑ ساری کو جائے آدھی رہے نہ ساری پائے

جو شخص موجودہ كو چھوڑ كر زیادہ كی طرف جاتا ہے وہ موجودہ كو بھی كھو بیٹھتا ہے، لالچی ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے

آدھی چھوڑ ساری كو جاوے آدھی رَہے نَہ ساری پاوے

جو شخص موجودہ كو چھوڑ كر زیادہ كی طرف جاتا ہے وہ موجودہ كو بھی كھو بیٹھتا ہے، لالچی ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے

آدھی كے بَبَر بھی كوئی اُس كے ہاتھ سے نَہ كھاوے

كسی سے بہت زیادہ كراہت اور نفرت كے موقع پر اس كی تحقیر كے لیے مستعمل

آدھی كو چھوڑ ساری كو دھاوے آدھی بھی ہاتھ نَہ آوے

جو شخص موجودہ كو چھوڑ كر زیادہ كی طرف جاتا ہے وہ موجودہ كو بھی كھو بیٹھتا ہے، لالچی ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے

آدھی كو چھوڑ ساری كو دھاوے آدھی رَہے نَہ ساری پاوے

جو شخص موجودہ كو چھوڑ كر زیادہ كی طرف جاتا ہے وہ موجودہ كو بھی كھو بیٹھتا ہے، لالچی ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے

آدھی كو چھوڑ ساری كو دھاوے اَیسا ڈُوبے تھاہ نَہ پاوے

جو شخص موجودہ كو چھوڑ كر زیادہ كی طرف جاتا ہے وہ موجودہ كو بھی كھو بیٹھتا ہے، لالچی ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے

آدھی رات اَور گھر كا پروسنے والا

(لفظاً) آدھی رات كا وقت ہو اور بان٘ٹنے والا اپنا تو پھر كیوں نہ فائدہ ہو، (مراداً) خوب فائدہ اٹھاؤ، كوئی پوچھ گچھ كرنے والا نہیں (خاطرخواہ فائدہ اٹھانے كی جگہ مستعمل)

آدھی رات اِدَھر رات اُدَھر

ٹھیک آدھی رات كا وقت، اندھیری رات، رات کا سناٹا

آدھی رات کو جماہی آئے، شام سے منھ پھیلائے

وقت سے پہلے كسی كام كی تیاری كرنے كے موقع پر مستعمل

آدمی آدمی انتر کوئی ہیرا کوئی کنکر

سب انسان ایک جیسے نہیں ہوتے کوئی اچھا ہوتا ہے کوئی برا، کچھ لائق ہیں اور کچھ نالائق، برے بھلے سبھی قسم کے انسان ہیں

آدمی اَناج کا کیڑا ہے

آدمی کی زندگی کا مدار کھانے پر ہے، انسان کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا

آدْمی اَنَّ کا کِیڑا ہے

انسان بغیر غذا کھائے زندہ نہیں رہ سکتا، انسانی زندگی کا دار و مدار غذا پر ہے

آدمی اپنے مطلب میں اندھا ہوتا ہے

آدمی کو اپنی غرض حاصل کرنے میں برے بھلے کی تمیز نہیں رہتی

آدمی اپنے مطْلب میں بنْدھا ہے

ہر آدمی اپنے مطلب کی ہی بات کرتا ہے

آدمی چاہئے دل کا پکا پیٹ کا گہرا

آدمی کا افشائے راز نہیں کرنا چاہیے

آدمی چنے کا مارا مرتا ہے

انسانی زندگی کی بے ثباتی ظاہر کرنے کو کہتے ہیں

آدمی ہے کہ بجلی

بہت تیز کام کرتا ہے

آدمی ہو یا جانور

بد تمیزی کرنے والے کو کہتے ہیں

آدْمی جانے بَسے سونا جانے کَسے

آدمی کی اچھائی برائی اس کے امتحان سے معلوم ہوتی ہے جس طرح سونے کا کھرا کھوٹا کسوٹی پر کسے جانے سے معلوم ہو جاتا ہے

آدمی کا آدمی شَیطان ہے

آدمی آدمی ہی کی صحبت سے خراب ہوتا ہے

آدمی کا بال بال گناہ گار ہے

آدمی بڑا گناہ گار ہے

آدمی کا شیطان آدمی ہے

انسان دوسرے کے بار بار بہکانے اور پھسلانے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا

آدمی کی دوا آدمی ہے

آدمی کا جی آدمی سے بہلتا ہے، کیسا ہی رنج و غم ہو چار آدمیوں میں بیٹھ کر دل بہل جاتا ہے

آدْمی کی دو آنکھیں ایک شَرمائے دُوسری فَرمائے

تائید اور اظہار رضامندی کے طریقے مختلف ہوتے ہیں

آدْمی کی کَسَوٹی مُعامَلَہ ہے

آدمی کی اچھائی برائی سابقہ پڑنے سے معلوم ہوتی ہے یا معاملہ پڑنے سے انسان کی شناخت یا پرکھ ہوتی ہے

آدمی کی پیشانی دل کا آئینہ ہے

آدمی کا حال اس کے چہرے سے معلوم ہو جاتا ہے

آدمی کی قدر مرے پر ہوتی ہے

انسان کی قدر مرنے کے بعد ہی ہوتی ہے، انسان کی خوبیاں اس کی موت کے بعد یاد آتی ہیں

آدمی کو آدمیت لازمی ہے

آدمی کو دوسروں سے شرافت سے پیش آنا چاہیئے، آدمی کے لئے انسانیت ضروری ہے

آدْمی کو آدْمی سے سَو دَفْعَہ کام پَڑْتا ہے

جب کوئی کسی کا کام کرنے سے گریز کرے تو قائل کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے

آدمی کو ڈھائی گز زمین کافی ہے

بہت بڑی عمارتیں بنانے یا وسیع اراضی حاصل کرنے کی کوشش بے فائدہ ہے، محل یا مکان بنانا یا اراضی خریدنا فضول ہے

آدمی کیا ہے، سرانْچے کا بانْس ہے

بہت لمبا آدمی ہے، بہت لمبے آدمی پر پھبتی ہے

آدْمی نے کَچّا دُودھ پِیا ہے

آدمی سہو سے خالی نہیں، آدمی کی طبیعت میں خامی ہے (جب کسی شخص سے اس کی شان کے خلاف کوئی بات ہو تو اس کی معذرت میں مستعمل)

آدمی پانی کا بُلبُلا ہے

انسان کی زندگی پانی کے بلبلے کی طرح عارضی ہے

آدمی پیٹ کا کُتّا ہے

پیٹ کی خاطر آدمی ہر ایک کام کرتا ہے، آدمی پیٹ کا غلام ہے

آدْمی را آدْمِیَّت لازِم اَسْت

آدمی وہی ہے جس میں انسانیت بھی ہو، آدمی میں انسانیت ضروری ہے

آدمی سا پَکھیرُو کوئی نہیں

آدمی بہت دوڑ دھوپ کرتا ہے، آدمی سبھی جانداروں میں انوکھا ہے

آدمی صُحبَت سے پَہچانا جاتا ہے

آدمی کی پہچان اس کے پاس بیٹھنے والوں اور دوست احباب سے ہوتی ہے

آفْتاب آمَد دَلِیلِ آفْتاب

سورج کے وجود کے لئے دلیل کی حاجت نہیں، اُس کی روشنی خود ہی دلیل ہے، ایسی بات، جس کے لئے دلیل کی ضرورت نہ ہو، روشن اور واضح بات ہے

آفْتاب پَر تُھوکو اَپْنے ہی مُنھ پَر پَڑے

اعلیٰ پر كسی قسم كا حملہ كرنے سے ادنیٰ ہی كی ذلت ہوتی ہے، پاک دامن كو رسوا كرنے والا خود ہی ذلیل ہوتا ہے

آگ اور بیری کو کم نہ سمجھے

آگ اور باڑھ کے پانی کی خواہش نہیں کرنی چاہیئے

آگ اور خس ایک جا ہو تو ممکن نہیں کہ نہ جلے

اگر مرد اور عورت اکٹھے ہوں تو ضرور زنا کی نوبت آتی ہے

آگ اَور رُوئی کا کیا ساتھ

متضاد مزاج والوں کی دوستی قابل اعتبار نہیں، دشمنوں کا کیا میل ملاپ

آگ اَور رُوئی کیا دوسْتی

متضاد مزاج والوں کی دوستی قابل اعتبار نہیں، دشمنوں کا کیا میل ملاپ

آگ بِن دھواں کہاں

بغیر کسی بات کے افواہ نہیں اڑتی

آگ بِنا دَھر راکھ تَمْباکُو

جیسے بغیر آگ دھرے تمباکو بیکار ہے ویسے ہی ناقص تدبیر بھی بیکار ہوتی ہے

آگ جانے لوہار جانے دھونکنے والے کی بلا جانے

حکم دینے والا ذمہ دار ہے، حکم کی تعمیل کرنے والے کا کوئی قصور نہیں

آگ جانے لُہار جانے دھونْکنے والے کی بَلا جانے

ماتحت کو تعمیل حکم سے غرض ہوتی ہے انجام سے بحث نہیں ہوتی

آگ جنواسا آگری چوتھا گاڑی وان، جیوں جیوں چمکے بیجلی دوں دوں تجے پران

جنواسا ایک پودا ہوتا ہے جو بارش سے مر جاتا ہے، جب بجلی چمکتی ہے تو یہ چاروں بارش کے ڈر سے گھبراتے ہیں

آگ کا جلا آگ سے اچھا ہوتا ہے

گرمی کو گرمی مارتی ہے، بد آدمی بد آدمی ہی سے دبتا ہے

آگ کا جلا آگ سے ہی اچھا ہوتا ہے

بد آدمی بد سے دبتا ہے

آگ کا پُتْلا آگ کو دھائے

ہر ایک چیز اپنی صل کی طرف رجوع کرتی ہے

آگ کہنے سے منہ نہیں جلتا

فقط باتوں سے کام نہیں چلتا، جب تک عمل نہ ہو، خرچ کرنے کی جگہ وعدہ وعید سے کام نہیں چلتا

آگ کَہْتے مُنھ نَہِیں جَلْتا

بری چیز کا نام لینے سے برائی کا اثر ہوتا ہے، بغیر گناہ کیے فقط زبانی کہنے سے آدمی مجرم نہیں ہوتا (فارسی : فعل کفر نباشد) ، اردو میں مستعمل

آگ کے آگے سَب بَھسَم ہَیں

آگ کے اگے جو چیز آجائے گی جل کر رہے گی

آگ کھائے مُنْھ جلے اُدھار کھائے پیٹ

آگ کھانے سے صرف منھ جلتا ہے مگر آگ سے زیادہ قرض سے ڈرنا چاہیے کیونکہ آگ کی سوزش ظاہری جسم کت محدود رہتی ہے اور قرض کی تکلیف سے جی جلتا ہے ، قرض لینا آگ سے جل جانے سے زیادہ تکلیف دہ ہے .

آگ کھائے گا انگارے ہگے گا

برے کام کا انجام برا ہوتا ہے

آگ لگا کر جمالو دور کھڑی

غصے میں کسی کا لحاظ نہیں ہوتا ہے

آگ لگا کے تماشا دیکھے

فتنہ انگیز آدمی کی نسبت کہتے ہیں

آگ لَگائے تَماشا دیکھے

اس موقع پر بولتے ہیں جب کسی کے متعلق یہ ظاہر کرنا ہو کہ وہ فتنہ فساد برپا یا ایذا پہنچا کر اس تماشے کو دیکھتا ہے

آگ لَگَنْتا جھونْپْڑا جو نِکلے سو لابھ

نقصان کا یقین ہوجانے کی حالت میں جو بھی بچ جائے یا جو بھی نفع ہوجائے غنیمت ہے

آگ لَگَنْتا جھونْپْڑا جو نِکلے سو لاؤ

نقصان کا یقین ہوجانے کی حالت میں جو بھی بچ جائے یا جو بھی نفع ہوجائے غنیمت ہے

آگ لَگَنْتی جھونْپْڑی جو نِکلے سو لابھ

نقصان کا یقین ہوجانے کی حالت میں جو بھی بچ جائے یا جو بھی نفع ہوجائے غنیمت ہے

آگ لَگَنْتی جھونْپْڑی جو نِکلے سو لاؤ

نقصان کا یقین ہوجانے کی حالت میں جو بھی بچ جائے یا جو بھی نفع ہوجائے غنیمت ہے

آگ لَگے کَر بَیری ، دَرْشَن مِتر دیکھ بَھرے سَب تَن مَن

مصیبت میں پڑے پر دشمن خوش ہوتے ہیں اور دوستوں کو رنج اور قلق ہوتا ہے

آگ لَگے مَنْڈے بَجَّر پَڑے بَراتی

(بد دعا) منڈھے میں آگ لگے اور براتیوں پر بجلی گرے

آگ لگے پر بِلی کا مُوت ڈھونڈنا

مصیبت میں بے عقلی یا بے تدبیری سے کام لینا

آگ لگے پر کنواں کھودتا ہے

مصیبت سر پر آ پڑنے پر اس کے دفع کرنے کے لیے فضول اور بے فائدہ محنت کرتا ہے

آگ لَگے پَر پانی کَہاں

غصے کے وقت مروت و محبت نیز غرض یا خواہش کے وقت حیا اور غیرت نہیں رہتی

آگ لگے تو بجھے جل سے جل میں لگے تو بجھے کیسے

بچے کو تو درست کیا جاسکتا ہے مگر عادی مجرم کسی طرح نہیں سنور سکتا

آگ لَگے تو بُجھے جَل سے، جَل میں لَگے تو بُجھے کَہو کَیسے

اس موقع پر بولتے ہیں جہاں وہ شخص جس سے فریاد رسی کی امید ہو ظلم کرے

آگ لگے تو گھور بتاوے

جان بوجھ کر کسی کو دھوکے میں رکھنا یا خود دھوکے میں رہنا

آگ لگتا جھونْپڑا جو نکلے سو لاؤ

نقصان ہوتے ہوئے جو چیز بچ جائے اسے نفع سمجھنا چاہیے، نقصان سے جو بچ جائے غنیمت ہے

آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے

جب کوئی آ کر فوراََ جانا چاہے تب کہتے ہیں

آگ لینے آئی گھر کی مالک بن گئی

ذرا سا بہانہ پاکر قبضہ کر لیا

آگ لینے بھیجا ہے ابھی لوٹ کر نہیں آئے

ابھی ناتجربہ کار ہیں، ایسے کتنے آئے اور چلے گئے

آگ لینے کو جائیں پَیَمْبَرِی مِل جائے

ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کسی شخص کو توقع کے خلاف کوئی چیز حاصل ہو جائے

آگ میں باغ نہ لگاؤ

نا ممکن کام نہ کرو

آگ میں دُھواں کَہاں

ہر بات کی بنیاد ضرور ہوتی ہے، ہر علت کے لیے معلول ضرور ہے

آگ میں جو چیز پڑی وہ آگ ہے

صحبت کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے

آگ میں مُوتو یا مُسَلْمان بَنو

کئی صورتوں سے ایک نتیجہ پیدا کرنا

آگ نہ اگل لعل اگل

برا کلام نہ بول، اچھے الفاظ منہ سے نکال

آگ پانی ایک جگہ نہیں رہ سکتے

آگ پانی کا سنجوگ ہے

آگ پانی کا بیر ہے

دو متضاد فطری خوبیوں والی چیزیں ایک جگہ نہیں رہ سکتیں

آگ پھوس ایک جگہ کیسے رہ سکتے ہیں

دو مخالف ایک جگہ نہیں رہ سکتے، اجتماع ضدین

آگ روئی کی کیا دوستی

دو مخالف طبیعتوں کی دوستی کا کوئی اعتبار نہیں، دو جانی دشمنوں کا ملاپ نہیں ہوسکتا

آغا مِیر کی دائی سَبْ سِیکھی سِکھائی

جو عورت سب گنوں میں پوری، نہایت چالاک اور عیار ہو اس کی نسبت کہتے ہیں

آغاز بَد کا اَنجام بَد ہے

آغاز بد انجام برا، جس کام کی ابتدا بری ہوانتہا بھی بری ہوتی ہے

آگے آگے گُرُو پِیچھے پِیچھے چیلا

جہاں کسی اچھے برے کام میں کوئی اپنے بزرگ یا عزیز یا دوست کی پیروی کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ آگے آگے گرو پیچھے پیچھے چیلا، یعنی ان کے بزرگ ہی ایسا کرتے ہیں تو یہ کیوں نہ ایسا کریں

آگے آگے راجا پِیچھے پِیچھے پَرْجا

رعایا حاکم کے طرز عمل کی پیروی کرتی ہے

آگے آگرہ پیچھے لاہور

غلط راستے پر پڑے ہیں

آگے چَلْتے ہیں پِیچھے کی خَبَر نَہیں

فائدے پر نظر ہے نقصان کو نہیں سوچتے

آگے دَوڑ پِیچھے

ایک کام تمام نہ ہوا اور حرص و ہوس میں دوسرا شروع کر دیا ہوس بے جا کے لیے مستعمل

آگے دوڑ پیچھے چھوڑ

پچھلا یاد نہیں آگے پڑھتا جاتا ہے، ایک کام کو ادھورا چھوڑ دوسرے کو کرنا

آگے ہاتھ پِیچھے پات

جسے ستر پوشی کے لیے کپڑا بھی میسر نہ ہو، مفلس

آگے جاتے گُھٹنے ٹُوٹیں پِیچھے دیکھتے آنکھیں پُھوٹیں

اس موقع پر مستعمل جہاں کرنے میں بھی نقصان ہو اور نہ کرنے میں بھی

آگے کُنواں پِیچھے کھائی

کام کرنے میں بھی خرابی اور نہ کرنے میں بھی، ہر طرح خطرہ یا نقصان

آگے لَعَّا نَہ پِیچھے پَتّا

بے سروسامانی اور نہایت تنگدستی اور افلاس کے اظہار میں مستعمل

آگے مار پِیچھے سنوار

لڑائی یا اقدام عمل کے بعد انتقام یا تدارک مشکل ہے

آگے ناتھ نَہ پِیچھے پَگا

جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو، جس کا اپنا کوئی نہ ہو، لا ولد، لاوارث، اکیلا دم

آگے پَتّا نہ پِیچھے لَتّا

جسے ستر پوشی کے لیے کپڑا بھی میسر نہ ہو، مفلس

آگے پُوت نَہ پِیچھے پَگا

جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو، جس کا اپنا کوئی نہ ہو، لا ولد، لاوارث، اکیلا دم

آگے روک پیچھے ٹھوک، سسُرا سرکے نہ جائے تو کیا ہو

آگے راستہ بند ہے پیچھے ڈنڈے پڑ رہے ہیں، ایسی حالت میں وہ سسرا (بیل) سڑک پر آگے نہ بڑھے تو میں کیا کروں

آگل کھیتی آگے آگے پچھلی بھاگ جاوے

وقت پر بوئی فصل اچھی ہوتی ہے، پچھیتری خراب ہو جاتی ہے

آہ و فغاں سے کروبیوں کے کان گنگ ہو گئے

بہت روئے پیٹے، بہت شور و غل کیا

آج آج کا بِچُّھو کَل کا سانپ

جو اب تھوڑا ضرر پہنچا سکتا ہے وہ آئندہ زیادہ ضرر بھی پہنچا سکتا ہے، یہ بچو میاں نہیں بچھو میاں ہے

آج بَرَس کے پِھر نَہ برسُوں

مین٘ھ کی جھڑی لگی ہے، برابر سے جا رہا ہے

آج بسیروا نیار کل بسیروا دور

مسافر ایک دن کہیں تو دوسرے دن کہیں ہوتا ہے

آج گَئے کَل آئے

زیادہ وست نہیں لگایا نہیں لگتا ، چند روز کی بات ہے ، جلد واپس آنے کے موقع پر مستعمل.

آج ہے سو کَل نہیں

روز بروز ابتری ہے، برا وقت آتا جاتا ہے، دنیا میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، جو حالت آج ہے وہ کل نہیں ہوگی

آج ہماری کل تمہاری دیکھو لوگو پھیرا پھاری

دولت کسی شخص کے پاس سدا نہیں رہتی کبھی کسی کی اور کبھی کسی کی، زمانہ بدلتا رہتا ہے، آج عروج تو کل زوال

آج کا کام کل پر مت ڈالو

آج کا کام آج ہی نپٹا دو

آج کا لیپا دیکھو آ

گزشتہ باتوں کو جانے دو

آج کل کی کنیا اپنے منہ سے بَر مانگتی ہے

آج کل کی لڑکیاں بہت بے شرم ہوتی جا رہی ہیں خود اپنی شادی کی بات کرتی ہیں

آج کل اُن کے پیشاب میں چراغ جلتا ہے

بڑے صاحبِ اقبال ہیں، یہ ان کے عروج کا زمانہ ہے

آج کے بَنیے کَل کے سیٹھ

کاروبار میں فوری ترقی ہوتی ہے، جو آج بنیا کہلاتا ہے وہ کل سیٹھ بن جاتا ہے

آج کے تَھپے آج ہی نہیں جلتے

عمل کی پاداش میں وقت لگتا ہے، کسی فعل کی سزا ہاتھ کے ہاتھ نہیں ملتی

آج کی آج، آج کی برس دن میں

کسی معاملے کو وقت پر طے نہ کرنے پر یہ کہاوت کہتے ہیں

آج کیا جاتی دُنیا دیکھی

قریب ہونے یا رہنے کی باوجود مدت میں شکل دکھانے والے شخص کے لیے شکایتہً مستعمل

آج مَیں، کل تُو

آج میری باری ہے تو کل تمہاری، بطورِ تنبیہ موت کی نسبت سے کہتے ہیں کہ وہ ضرور آئے گی یعنی سب کو ایک دن اس دنیا سے جانا ہے

آج مَرا کَل دُوسْرا دِن

زندگی ناقابل اعتبار اور ناپائدار ہے، عمر کا کیْا بھروسا

آج موئے کَل دوسرا دن

مرنے کے بعد سب بھول جائیں گے، سب اپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہوں جائیں گے

آج نہیں کل

یہ امر ناگزیر ایک نہ ایک دن ضرور ہو کر رہے گا

آج سے کل نزدیک ہے

آئندہ زمانے کو دور سمجھ کر اچھے کاموں میں غفلت اور تساہل نہیں کرنا چاہیئے

آج تَک پَڑے ہِینگ ہَگ رھے ہیں

ابھی تک پتلا حال ہے، اب تک حالت خراب ہے

آج زَبان کُھلی ہے کَل بَنْد ہے

زندگی کا اعتبار نہیں ابھی بھلے چنگے تھے اور ابھی چل بسے (عبرت دلانے، زندگی پر بھروسا نہ کرنےاور اور صداقت و ایمانداری کا یقین دلانے کے محل پر مستعمل)

آک کا کیڑا آک میں راضی، ڈھاک کا ڈھاک میں

ہر شخص اپنی مناسب جگہ پر خوش رہتا ہے

آکاش بانْدھیں پَتّال بانْدھیں گَھر کی ٹَٹّی کُھلی

ایسے شخص کی نسبت مستعمل جو بڑے بڑے انتظام کر نے کے دعوے کرے اور گھر کا بندوبست نہ کرسکے

آخ تُھو کَھٹّے ہَیں

کوشش کرنے پر جب کوئی چیز نہ ملے تو من کو سمجھانے کے لئے اسے برا بتانے لگتا ہے

آخر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

آخر اپنے ہاتھ سے اپنا نقصان ہوا

آخر مرو گے روپیہ جوڑ جوڑ کر کیا کرو گے

کنجوس کو کہا جاتا ہے، جب وہ ضرورت کے موقع پر بھی خرچ نہیں کرتا

آخری چہار شنبہ کر دینا

جب کسی کے ہاں بہت برتن ٹوٹتے ہیں تو کہتے ہیں

آلا دے نِوالا

اس موقع پر بولتے ہیں جہاں کوئی دنی الطبع اعلیٰ درجے کو پہنچے مگر فطری دنایت اس کی نہ جائے.

آلَسی سَدا روگی

سست آدمی ہمیشہ بیمار معلوم ہوتا ہے

آم املی بھینٹ ہو گئی

دو ایسے شخصوں میں اتفاقیہ ملاقات ہو جانا جو ایک دوسروں سے ملنا نہ چاہتے ہوں

آم کے آم گُٹھلی کے دام

ہر طرح فائدہ ہی فائدہ، ہر صورت سے نفع ہی نفع، دوہرا فائدہ

آم کے آم گٹھلِیوں کے دام

آم کھائیں اور گٹھلیاں بیچ لیں، دوہرا فائدہ، ایسا سودا جس میں ہر لحاظ سے نفع ہو

آم کھانے سے غَرَض یا پیڑ گِننے سے

مطلب سے مطلب رکھو بے فائدہ باتوں یا حجت سے کیا کام

آم کی ہَوَس اِںْبلی اُوپَر

بہتر شے نہ ملنے پر کمتر پر راضی ہوجاتے ہیں

آم مچَھلی کی بھینْٹ ہو ہی جاتی ہے

جب کوئی کسی کو زک دے کر چل دیتا ہے تو زک اٹھانے والا کہتا ہے کہ ’آم مچھلی کا کیا ساتھ نہ ہوگا ‘ یعنی پھر کبھی ملاقات تو ہوگی اس وقت سمجھ لوں گا، اگر آج ہم کو نقصان پہنچا دیا ہے تو کبھی ہم کو بھی اپنا بدلہ لینے کا موقع مل ہی جائے گا (چونکہ مچھلی پکانے میں آم کی کھٹائی دی جاتی ہے اس وجہ سے آم مچھلی کا ساتھ کہا گیا)

آم مَچھلی کا کیا ساتھ نَہ ہوگا

اگر آج ہم کو نقصان پہنچا دیا ہے تو کبھی ہم کو بھی اپنا بدلہ لینے کا موقع مل ہی جائے گا

آم مچھلی کا ساتھ ہے

بہت دوستی ہے، لازم و ملزوم ہیں، اچھا جوڑ ملا ہے

آم پَھلے نِیو چَلے اَرَنڈ پَھلے اِترائے

شریف دولت مند ہوکراوربھی متواضع ہوجاتا ہےاور رذیل مال دارہوکرسرکش اورمغرور بن جاتا ہے

آمَدَنی کے سَر سِہرا ہے

آمدنی ہی سے سارا ٹھاٹھ درست ہوتا ہے، عیش و آرام کا مدار آمدنی پر ہے، آمدنی نہ ہو تو کچھ نہ ہو، جس کے پاس پیسہ ہے وہی بڑا آدمی ہے

آمنے سامنے گھر کروں اور بیچ کروں میدان

بے شرم اور گستاخ عورت کے لئے کہا جاتا ہے

آن سے مارے تان سے مارے، اس پر بھی نہ مرے تو ران سے مارے

عورتیں اشارے یا باتوں سے پھنسا لیتی ہیں، اگر اس پر بھی قابو میں نہ آئے تو تعلق نا جائز پیدا کرکے پھنسا لیتی ہیں

آن سے مارُوں ، تان سے مارُوں ، پِھر نَہ مَرے تو ران سے مارُوں

بازاری عورتیں کسی نہ کسی طرح مردوں کو گرویدہ کر کے لوٹ ہی لیتی ہیں، کسی نہ کسی ڈھب سے اپنا کام نکالنے اور مطلب پورا کر نے کے موقع پر مستعمل

آنا دال الو بھی ہے

اچھائیوں کے ساتھ برائیاں بھی ہیں، ایک سپاہی نے قرضے میں ایک بنئے کو الو یہ کہہ کر لگا دیا کہ یہ باز ہے، اسے بعد میں معلوم ہوا، تو اسے دکان میں رکھ چھوڑا کہ شاید کوئی خرید لے، کوئی دریافت کرتا کہ دکان میں کیا کیا ہے، تو وہ یہ فقرہ کہہ دیتا

آنا نَہ پائی نِری پانو گِھسائی

بیکار دوڑ دھوپ اور بے سود محنت و مشقت کے موقع پر مستعمل

آندھی آئے نَہ مینہ ، بُڑھیا پینٹھ سے نَہ رَہے

اس موقع پر مستعمل جب کوئی شخص اپنی عادت یا کسی کام سے کسی حال میں بھی باز نہ رہے

آپ آئے بھاگ آئے

آپ کے آنے سے قسمت کھل گئی، آپ کا آنا مبارک ہے

آپ اَیسے آپ وَیسے آپ نے چُرائے چَھ ٹَکے پَیسے

خوشامد جس میں تضحیک یا بنانے کا پہلو نکلے

آپ بابُو منگْتے بَاہر کَھڑے دَرْویش

جس کے پاس کچھ نہ ہو، دوسرے کو کیا دے سکتا ہے

آپ بَھلے اَپنا گَھر بَھلا

اپنا گھر جنّت ہے، لوگوں سے میل جول رکھنے کی مذمت اور الگ تھلگ زندگی گزارنے کی تعریف کے موقع پر مستعمل

آپ بھلے تو جَگ بھلا

جو خود اچھا ہو وہ دوسروں کو بھی اچھا سمجھتا ہے

آپ بُھولے اُسْتاد کو لَگائے

اپنی غلطی دوسروں کے سر تھوپنے کے موقع پر مستعمل

آپ بِیْتی کَہُوں کِہ جَگ بِیْتی

اپنے پر جو گزری ہے وہ سناؤں یا دوسرے کی سنی سنائی بیان کروں

آپ بیتی کہوں یا جَگ بیتی

اپنے اوپر جو گزری ہے وہ سناؤں یا دوسرے کی سنی سنائی بیان کروں

آپ چلے بھوئیں شیخی گاڑی پر

ہے تو غریب مگر شیخیاں بہت مارتا ہے، رہنا جھونپڑیوں میں محلوں کے خواب دیکھنا

آپ ڈال ڈال میں تو مَیں پات پات

میں آپ سے زیادہ چالاک چالیا ہوشیار اور عقلمند ہوں

آپ ڈال ڈال تو مَیں پات پات

میں آپ سے زیادہ چالاک، چالباز، ہوشیار اور عقلمند ہوں

آپ دھاپ اَپْنا ہی مُنھ اپَنْا ہی ہاتھ

اپنے ہی فائدے پر نظر ہے دوسرے کے نقصان یا فائدہ کا خیال تک نہیں، ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہے

آپ دُوبے بَہْمَناں جَجْمان ڈُبوئے

اپنے ساتھ دوسروں کا بھی نقصان کیا

آپ ڈوبے تو ڈوبے اور کو بھی لے ڈوبے

اپنے نقصان کے ساتھ دوسرے کا بھی نقصان کیا

آپ ڈُوبے تو جگ ڈُوبا

جب خود ہی تباہ ہو گئے یا مر گئے تو دوسروں کے فائدے اور جینے سے کیا غرض، آپ تباہ ہوئے تو جہان تباہ ہوا

آپ ہارے بَہُو کو مارے

اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لئے دوسروں پر الزام رکھنا، اپنا غصہ دوسروں پر اتارنا

آپ ہی بی بی، آپ ہی باندی

وہ شخص جو خود ہی سب کام کرے اور کوئی دوسرا ہاتھ بٹانے والا نہ ہو

آپ ہی ناک چوٹی گِرَفْتار ہے

بناو سنگار سے فرصت نہیں

آپ ہی تُھوکا آپ ہی چاٹا

وہ کام کرنا بھی جس کو برا سمجھنا

آپ جانیں آپ کا اِیمان

اس (معاملے) کا دارومدار آپ کے ایمان اور نیت پر ہے.

آپ جانِیں اور آپ کا اِیمان

اس (معاملے) ذمہ دار آپ کے ایمان اور نیت پر ہے

آپ جانیں اور آپ کا کام

میں فہمائش کر چکا آپ خود نیک و بد کے ذمہ دار ہیں، سمجھانے کی حد ہو گئی اب جیسا آپ کے جی میں آئے کیجیے (کام سے بری الذمہ ہونے کے موقع پر مستعمل)

آپ جانیں کا کام

میں فہمائش کر چکا اب آپ خود نیک و بد کے ذمہ دار ھیں، سمجھانے کی حد ہوگئی اب جیسا آپ کے جی میں آئے کیجیے (کام سے بر الذمہ ہونے کے موقع پر مستعمل)

آپ کا بایاں قَدَم لِیجِیے

کسی کی چالاکی فتنہ پردازی یا شرارت کے موقع پر مستعمل، مترادف: آپ بڑے چالاک ہیں

آپ کا نَوکَر ہُوں بَیگنوں کا نَوکَر نَہِیں

آپ کے قول کی تائید اور خوشی سے مطالب ہے جھوٹ سچ سے کچھ کام نہیں

آپ کاج مَہا کاج

اپنا کام دوسرے کے کام سے مقدم ہوتا ہے، ہر شخص پہلے اپنا کام کرتا ہے اس کے بعد دوسرے کا

آپ کاج، مَہا کاج

اپنا کام جتنا اچھا اپنے ہاتھ سے ہوتا ہے ویسا دوسرے کے ہاتھ سے نہیں ہوتا، اپنا کام خود ہی خوب ہوتا ہے

آپ کھائے بلّی کو بتائے

چالاک آدمی یا لڑکا، خود مٹھائی پوڑی ہڑپ جائے اور دوسرے کا نام لے کہ اس نے کھایا

آپ خُرادے آپ مُرادے

تن پرور، تنہا خور اور اکل کھرا

آپ کو ہَپ ہَپ اَور کو تُھو تُھو

اپنے کیے کو اچھا دوسرے کے کام کو برا سمجھنا

آپ مَرے سنسار ناس

ہمارے بعد دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے ہمیں کیا مطلب، ہم نہیں تو دنیا بھی نہیں

آپ میاں منگتے باہر کھڑے دَرویش

جب خود ہی محتاج ہیں تو اوروں کو کیا دیں گے، اپنی مدد کر نہیں پاتے دوسروں کی مدد کیا کریں گے

آپ مِیاں صُوبے دار گََھر میں بِیوی جھونکے بھاڑ

مفلسی کی حالت میں امیرانہ ٹھاٹھ بنانے یا شیخی بگھارنے والے شخص کے لیے مستعمل

آپ مِیاں صُوبیدار، گھر میں بیوی جھونکے بھاڑ

گھر میں کھانے کو نہیں باہر شان دکھاتے ہیں

آپ مُوئے تو جَگ مُوا

خود مرگئے تو گویا تمام دنیا مرگئی کسی بات سے کچھ غرض نہیں

آپ موئے تو جہان مُوا

اپنی زندگی سے ہی سب کچھ لگا ہے

آپ نے اُڑائی ہَے ہَم نے بُھون بُھون کھائی ہَے

ہم تم سے زیادہ چالاک ہیں، تمھاری چالوں کو خوب سمجھتے ہیں

آپ نے اُڑائِیں ہَم نے بُھون بُھون کھائِیں

ہم تم سے زیادہ چالاک ہیں، تمھاری چالوں کو خوب سمجھتے ہیں

آپ راہ راہ، دُم کھیت کھیت

ظاہر میں بھولا بھالا ہے اور باطن میں مکار اور عیار، ظاہر میں نیک باطن میں خراب

آپ رہیں اُتَّر کام کریں پَچّھم

شروع سے کام نہ کرنے والوں کے لئے مستعمل

آپ رُوپ مَہارُوپ

اللہ تعالیٰ کا جلوہ سب جلووں کا سردار ہے ؛ انسان درپردہ تجلی الٰہی کا مظہر ہے

آپ سے آئے تو آنے دو

جو چیز خود بخود بلا طلب ملے لے لینی چاہیے، اس موقع پر مستعمل جہاں کسی کا مال بغیر کوشش کے ہاتھ لگے اور لینے والا طمع سے لینے کا ارادہ کرے

آپ سے اَچّھا خُدا

اپنی ذات سے زیادہ عزیز خدا کے سوا کوئی نہیں، اپنی ذات سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے

آپ سے گیا جَگ سے گیا

جو شئے اپنے ہاتھ سے گئی وہ گویا دنیا میں نہیں رہی، اس کی پرواہ یا رنج نہیں ہونا چاہیے

آپ سے خُوب خُدا

اپنی ذات سے زیادہ عزیز خدا کے سوا کوئی نہیں، اپنی ذات سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے

آپ سکھی تو جگ سکھی

اپنے آپ کو راحت ہے تو گویا زمانے بھر کو راحت ہے

آپ سُکھی تو سَب سُکھی

انسان خود اچھا ہو تو دنیا اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی ہے

آپ صُو بیدار بِیوی جھونکے بھاڑ

ایسا شخص جو باوجود استطاعت بیوی کے آرام و آسائش کا دھیان نہ رکھے، (عورتوں کی زبان میں نکھٹّو)

آپ سُوارْتھی سَدا دُکھی پَر سُوارْتھی سَدا سُکھی

خود غرضی میں نقصان ہے اور بے غرضی میں آرام ہے

آپ تو گرم کر کے شربت پلاتے ہیں

پہلے کسی کو تکلیف دینا اور بعد میں آرام، غصہ دلا کر پھر میٹھی میٹھی باتیں کرنا

آپ زندہ جہان زندہ آپ مُردہ جہان مُردہ

اپنا سکھ اورفائدہ اوروں سے مقدم ہے

آپ زِنْدَم جَہان زِنْدَم

(عوام) اپنا فائدہ یا آرام اورروں کے فائدے یا آرام پر مقدم ہے (خود غرض شخص کی بابت مستعمل).

آپا تَجے سو ہَر کو بَھجے

جو خودی کو ترک کرے اور اپنے آپ کو مٹادے وہ خدا کی پوری پرستش کر سکتا ہے

آپن بھل ہو تو جگت پریت کاری

آپ خود ہی نیک ہو تو سب لوگ آپ سے محبت رکھینگے

آرا باش، تیشہ مباش

آپ بھی کھا دوسروں کو بھی دے

آرے سَر پَر چَل گَئے تو بھی مَدار ہی مَدار

تكالیف و مصائب برداشت كرنے پر بھی اپنے ارادے اور عقیدے سے باز نہیں آئے

آرْتی كے وَقْت سو گَئے مال بھوگ كے وَقْت جاگ اُٹھے

اس شخص كی نسبت بولتے ہیں جو اپنے مطلب كے وقت موجود ہوجائے اور محنت یا كام كے وقت كنی كاٹ جانے، كام چور نوالے حاضر

آس بگانی وہ تکے جو جیوت ہی مر جائے

پرایا بھروسہ ڈھونڈنا بڑے شرم کی بات ہے

آس بِرانی جو تَكے وہ جِیوت ہی مَر جائے

پرایا بھروسا كرنے میں سراسر تقصان ہے یا زندہ درگور ہونا ہے

آس بِرانی وہ تَكے جو جِیوت ہی مَر جائے

پرایا بھروسا كرنے میں سراسر تقصان ہے یا زندہ درگور ہونا ہے

آس كا نام دُنیا ہے

امید كے بھروسے پر دنیا كا كاروبار چلتا ہے

آس کَرے تو پاس آوے

جب كچھ عوض یا امید ہو تو اطاعت كرے

آس پاس بَرسے دَلی پَڑی توسے

غیر فائدہ اٹھائیں اور حق دار محروم رہیں، دوسروں كو فیض پہنچے اور اپنے منہ تكیں

آس پاس برسے دلی پڑی ترسے

جس سے دوسروں کو فائدہ ہو اور اپنے محروم رہیں، اس کی نسبت بولتے ہیں

آسا جَیسے نِراسا مَرے

امیدوار امید كے آسرے پر جیتا ہے اور مایوس مرتا ہے

آسا جئے نراسا مرے

امید سے دل کو سہارا ملتا ہے، اور نا امید مرتا ہے

آسا مَرے نِراسا جِیے

امیدوار كی زندگی صدمۂ انتظار سے تلخ ہوتی ہے اس سے تو نومید اچھا كہ اس كو صدمۂ انتظار نہیں اٹھانا پڑتا

آسکتی گرا کنْویں میں کہے ابھی کون اٹھے

کاہل آدمی پر پھبتی کے طور پر بولا جاتا ہے

آسَوج بَیالا دِن دُھوپ رات پالا

اس مہینے میں دن كو گرمی اور رات كو سردی ہوتی ہے

آشنائی کرنا آسان نباہنا مشکل

دوستی پیدا کرلینا آسان بات ہے، مگر دوستی کے فرائض ادا کرنا مشکل ہیں

آشنْائی مُلّا تَا سَبَق

غرض نکل جانے کے بعد بے تعلقی، اس شخص کے لیے مستعمل جو مطلب پورا ہونے کے بعد بیگانہ ہو جائے

آشتی اور جان جی کا ڈر

محبت میں کسی بات کا خوف

آسْكَتی گِرا كُنْویں میں كَہے اَبھی كَون اُٹھے

(طنزاً) سست اور كاہل آدمی كو ملامت كرنے كے موقع پر مستعمل

آسْكَتی گِرا كُنْویں میں كَہے یَہیں بَھلے

(طنزاً) سست اور كاہل آدمی كو ملامت كرنے كے موقع پر مستعمل

آسْمان كا تُھوكا مُنْھ پر آتا ہے

اعلیٰ پر كسی قسم كا حملہ كرنے سے ادنیٰ ہی كی ذلت ہوتی ہے، پاک دامن كو رسوا كرنے والا خود ہی ذلیل ہوتا ہے

آسْمان كی چِیل چَوكَھٹ كی كِیل سے خُدا بَچائے

ہر نقصان پہنچانے والے اور لوٹ كھسوٹ لینے والے كے واسطے مستعمل۔

آسمان كی چِیل زمین كی اَصِیل

آسمان میں اڑتی ہوئی چیل جب تک کسی نے اسے دیکھا نہیں اچھی نسل کی ہی چڑیا تصور کی جائے گی

آسْمان نے ڈالا زَمِین نے جھیلا

غالب اور قوی كے مقابلے میں زور نہیں چلتا اس كی سہنی ہی پڑتی ہے

آسْمان پَر چانْد نِكلا سَب نے دیْكھا

آس موقع پر مستعمل جہاں پہ كہنا ہو كہ یہ كوئی ڈھكی چھپی بات نہیں، اس بات سے سب واقف ہیں، اس امر كو چھپایا نہیں جاسكتا

آسْمان سے گِرا بَبُول میں اَٹْكا

ایک مشكل یا مصیبت سے نكلتے ہی دوسری مشكل یا مصیبت میں پھنس گیا، ایک ركاوٹ دور ہوئی تھی كہ دوسری ركاوٹ واقع ہوگئی

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا

کسی کام کا پورا ہوتے ہوتے رہ جانا

آستین میں سانپ پالا ہے

ایسے شخص سے نیکی کی ہے جو وقت پر دشمنی کرے گا

آتا آؤ جاتا جاؤ

(آنے جانے والے پر) کوئی پابندی نہیں، کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی پروا نہیں آوے یا جاوے

آتا آؤ جاتا جاؤ، آتا آئے جاتا جائے

جس کی مرضی ہے آئے جس کی مرضی ہے جائے

آٹا دال اُلُّو بھی ہے

اچھائیوں کے ساتھ برائیاں بھی ہیں، اچھی چیزوں کے ساتھ بری چیزیں بھی ہیں

آٹا ہے نَہ پاٹا ، مُرْغ کا ہے پَر کاتا

مقدور یا سامان نہیں تھا تو یہ ہنگامہ کیوں برپا کیا

آتا ہو تو ہاتھ سے نہ دیجے، جاتا ہو تو اس کا غم نہ کیجے

ملتی چیز کو چھوڑنا اور گئی ہوئی چیز پر افسوس کرنا نہ چاہئے

آتا جاتا کُچھ نَہیں

کچھ نہیں جانتا ہے، جاہل اور ان پڑھ ہے

آٹا کٹھوتی میں

خود غرض آدمی کے متعلق کہتے ہیں جسے ہر وقت اپنے مطلب کی سوجھتی ہے

آتا نَہ چھوڑْیے ، جاتا نَہ موڑْیے

جو ہاتھ لگے لے لیجیے جو قابو کا نہ ہو اسے جانے دیجیے

آتا نَہ چھوڑْیے ، جاتے کا غَم نَہ کِیجْیے

آئے تو خوب آنے دو جاوے تو بلا سے

آٹا نِبڑا بُوچا سَٹکا

آٹا ختم ہوا اور کتے نے اپنا راستہ لیا

آتا تو سبھی بھلا تھوڑا بہت کچھ، جاتا بس دو ہی بھلے دَلِدَّر اور دکھ

آتی ہوئی چیز تھوڑی ہو یا بہت سب کا آنا اچھا اور جانے والی چیزوں میں دلدر اور دکھ کے سوا کسی کا جانا بھلا نہیں معلوم ہوتا

آتے بَھلے نَہ جاتے

آنا جانا برابر ہے، نہ آنے سے فائدہ نہ جانے سے

آتے جاتے میں نہ پھنسی تو کیوں پھنسارے کوے

جہاں کوئی عقلمند شخص کسی معاملہ میں پھنس جائے اور معمولی بچ جائے تو کہتے ہیں

آٹے کا چراغ گھر رکھوں چوہا کھائے، باہر دَھروں کوّا لے جائے

ہر طرح سے نقصان ہی ہے، کمزور آدمی کو ہر جگہ مصیبت کا سامنا ہوتا ہے

آتے کا مُنھ دیکھتی تھی جاتے کی پِیٹھ

انتظار کی بے تابی ظاہر کرنے کے موقع پر مستعمل

آتے کا نام سَہْجا ، جاتے کا نام مُکْتا

نہ آنے کی خوشی اور نہ جانے کا غم، نہ آتے کو روکنا نہ جاتے کو پکڑنا

آتے آتے آئے گا

رفتہ رفتہ آئے گا، جلدی نہ کرو

آٹھ بار نَو تیوہار

عیش و آرام کا شوق ایسا بڑھا ہوا ہے کہ زمانہ اور وقت اس کو کفایت نہیں کرنے دیتا

آٹھ گاؤں کا چودھری اور بارہ گاؤں کا راؤ، اپنے کام نہ آؤ تو ایسی تیسی میں جاؤ

چاہے کیسا ہی امیر ہو، اگر اپنے کام نہ آیا تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے

آٹھ گانو کا چَودْھری اور بارَہ گانو کا راو، اَپنے کام نَہ آئے تو اَیسی تَیسی میں جاؤ

کوئی کیسا ہی دولت مند یا امیر ہو جب اپنا کام اس سے نہ نکلے تو ایسی امارت سے کیا فادہ، بے فیض کا ہونا نہ ہونا برابر ہے

آٹھ جولاہے نو حُقّا، تِس پر بھی تُھکَم تُھکّا

ضرورت سے زیادہ سامان ہونے کے باوجود جھگڑا ہونے کے موقع پر مستعمل

آٹھ جولاہے نو حُقّہ، اس پر بھی دھکَم دھکّا

باوجود ضرورت سے زیادہ سامان ہوتے کے بھی جھگڑا

آٹھ ملے کاٹھ تلسی ملے جات

آٹھ طرح کی لکڑیاں کیا مل گئیں سمجھ جاٹ مل گیا، جاٹوں پر پھبتی

آٹھوں پہر کال کا ڈنکا سر پر بجتا ہے

موت ہر وقت سر پر کھڑی ہے

آتی بہو جَنَمتا پُوت

بیوی کے آنے پر اور بیٹے کے پیدا ہونے پر ان کی تعلیم و تربیت شروع کردینی چاہیئے

آتی بَھلی کہ جاتی

تھوڑی چیز کا نہ ملنے سے ملنا اور نہ لینے سے لینا بہتر ہے.

آتی ہے ہاتھی کے پاؤں جاتی ہے چیونٹی کے پاؤں

بیماری کے آنے میں دیر نہیں لگتی ہے، اور جاتی آہستہ آہستہ ہے

آتِش کا جَلا پانی کو دَوڑے

رک : آگ کا جلا پانی کو دوڑے.

آتْما کی آنچ بری ہوتی ہے

ماں باپ محبت سے مجبور ہوتے ہیں

آتما میں پڑے تو پرماتما کی سُوجھے

پیٹ بھرا ہونے پر ہی کام میں دل لگتا ہے، پیٹ بھر جانے پر اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے

آتوں کو آنے دو، جاتوں کو جانے دو

جس کی مرضی ہے آئے جس کی مرضی ہے جائے

آو دیکھا نَہ تاو

بے محل، بے موقع، جلدی سے، بے سوچے سمجھے، بےسمجھے بوجھے

آو جا گَھر تُمہارا کھانا مانگے دُشمَن ہَمارا

زبانی تواضع بہت مگر خرچ سے کترانا

آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را

بد باطن اشخاص کی وجہ سے کسی کی روزی کم نہیں ہوتی

آوت ہائی جاوت سنتوکھ

آنے پر خوشی حاصل ہوتی ہے چلا جائے تو صبر کرنا چاہیے

آوے ہاتھی کی چال ، جاوے چِیوْنٹی کی چال

بیماری آتے دیر نہیں لگتی اور جاتی دیر میں ہے

آوے کا آوہ اوندھا ہے

سب کا ایک حال ہے

آوے کا آوا بگڑا ہے

پورا خاندان بگڑا ہوا ہے، کل گروہ خراب ہے

آوے نَہ جاوے بِرْہسْپَت کَہْلاوے

آتا جاتا کچھ نہیں اور لائق مشہور ہے

آؤلی ٹلے برساتوں جیے

آفت دفع ہونے سے بہت لوگوں کے لیے آرام ہو جاتا ہے

آیا آدْمی آیا رِزْق گَیا آدْمی گَیا رِزْق

مہمان یا مولود اپنا رزق اپنے ساتھ لاتا ہے

آیا بندہ آئی روزی، گیا بندہ گئی روزی

ہر شخص کے لئے اس کی قسمت کا رزق موجود ہے

آیا کاتک اٹھی کتیا

کاتک کے مہینے میں کتیا مست ہو جاتی ہے

آیا کر تو جایا کر ٹٹی مت کھڑکایا کر

آنے جانے کی تجھے اجازت ہے مگر دروازہ مت کھٹکھٹا

آیا کُتّا کھا گیا تُو بَیٹھی ڈھول بَجا

اپنی دھن میں اتنا مست ہو جانا کہ دوسری طرف کیا ہو رہا ہے اس کا پتا نہ لگے

آیا مَنگسیر جاڑا رَنگ سیر

ماگھ میں سردی اپنے شباب پر ہوتی ہے

آیا نہ گھاؤ وید منگاؤ

معمولی نقصان پر واویلا کرنا

آیا پَیْسَہ آئی مَت، گَیا پَیْسَہ گَئی مَت

دولت انسان کو نئی نئی باتیں سمجھا دیتی ہے اور مفلسی اس کی مت مار دیتی ہے

آیا رمضان بھاگا شیطان

نیک آدمی کے آنے پر بد آدمی بھاگ جاتا ہے

آیا تو نوش نَہِیں فَراموش

کچھ مل گیا تو کھالیا ورنہ فاقے ہی سے پڑ رہے

آیا تو نوش نہیں تو فراموش

نہایت قانع ہونا، کچھ مل گیا تو کھا لیا ورنہ فاقے ہی پڑے رہے، قناعت کا درجہ یہ ہی ہوتا ہے، ملا تو کھایا نہیں تو صبر فرمایا

آیا تو نوش نَہِیں وَرْنَہ خاموش

کچھ مل گیا تو کھا لیا ورنہ فاقے ہی پڑے رہے

آیَندہ اختیار بدستِ مختار

کسی کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے وقت کہتے ہیں، ہم نے سمجھا دیا آگے تمہاری مرضی مانو یا نہ مانو

آیت و حدیث کے برابر ہے

کسی کی بات کی بزرگی جتانے کے لیے کہا جاتا ہے

آیتوار تب جانیے جب ہَٹی لیپیں بانیے

اصل چھٹی اس دن سمجھنی چاہیے جب بنیے دکان کی لپائی کریں

آزادی خدا کی نعمت ہے

آزادی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، آزادی خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے

آزمُودَہ را آزمُودَن جَہْل اَسْت

آزمائے ہوئے كو آزمانا جہالت ہے، كسی كو ایك دفعہ آزما كر پھر آزمانا حماقت ہے

اَب جُگ ٹُوٹا، پَو ماری جائے گی

اتحاد ختم ہونے پر ابتری یقینی ہے

اب کے مڑِیہَیں ہو راجا

او راجا! تمہارے بغیر اب لوگوں کے بال کون بنائے گا

اب کے مڑیئے ہو راجا

اگر اب بھی واپس آؤ تو جو چاہو کرو

اَب کھائی تو کھائی اَب کھاؤُں تو رام دُہائی

جو کچھ ہوا سو ہوا، آئندہ نہ ہوگا

اَب کی بات اَب کے ساتھ جَب کی بات جَب کے ساتھ

جو کچھ تھا وہ گزر گیا اب جو رنگ زمانے کا ہے ویسا کرنا چاہیے

اب کی بَچے تو گھر گھر نَچے

اگر اب بچ جائے تو پھر کوئی خطرہ نہیں، چوسر کی گوٹ اس بار بچ جائے تو پھر بے کھٹکے چلتی رہے گی اور پکی ہو جائے گی

اب کی چھانی کی نرالی باتیں

عجیب زمانہ آ گیا ہے، ناتجربہ کاری کے باوجود بڑی بڑی باتیں

اَب پَچھتائے کیا ہوت جَب چِڑیاں چُگ گَئیں کِھیت

موقع ہاتھ سے نکل جانے پر افسوس کا اظہار کرنا بے معنی ہے

اَب پَچْتائے کیا ہوت جَب چِڑِیاں چُگ گَئِیں کھیت

موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پچھتانے سے کیا حاصل

اَب رَنگ لائی گِلَہْری

اب اصل حقیقت سامنے آئی، اب گن کھلے

اَب سَتوَنتی ہو کَر بَیٹھی لُوٹ کھایا سَنسار

بہت سی سیاہ کاریوں کے بعد نیکی اختیار کی تو کیا، نو سو چوہے کھا کر بلّی حج کو چلی، تمام دنیا کو لوٹ کر اب پرہیز گار بن گئے

اَب سے آئے گَھر سے آئے

ابھی آ رہے ہیں اور گھر سے آ رہے ہیں

اَب تو ہُوں میں اُونی اُونی جب ہونگی سب سے دُونی

ابھی کیا ہے، ابھی تو تھوڑی خرابیاں ہیں، آگے چل کر کھل کھیلے گی

اَب وہ پانی مُلْتان بَہہ گَیا

موقع ہاتھ سے جاتا رہا، وقت گزر گیا، حالت بدل گئی

اَبھی چَھٹی کا دُودھ نَہِیں سُوکھا

ہنوز نادان بچے ہیں، کچھ تجربہ نہیں رکھتے، کم عقل لونڈے ہیں

اَبِھی دِلّی دُور ہے

ابھی تو بہت راستہ طے کرنا ہے، بہت کام کرنے کو پڑا ہے

ابھی ایک بُونْٹ کی دو دال نہیں ہوئے ہیں

ابھی کام مکمل نہیں ہوا ہے، ابھی معاملہ طے نہیں ہوا

ابھی کل کی بات ہے

تھوڑے عرصہ پہلے کا واقعہ ہے

اَبھی مُنہ دابْیے چُلُّو بَھر چَھٹی کا دُودھ نِکَل پڑے

ہنوز نادان بچے ہیں، کچھ تجربہ نہیں رکھتے، کم عقل لونڈے ہیں

اَبھی مُنہ کی دال نَہیں جَھڑی

ہنوز نادان بچے ہیں، کچھ تجربہ نہیں رکھتے، کم عقل لونڈے ہیں

ابھی سیر میں سے پونی بھی نہیں کتی ہے

ابھی تو کام کا بہت تھوڑا حصہ ہوا ہے، ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے

ابھی تو بیٹی باپ ہی کے گھر ہے

ابھی تک معاملہ قابو سے باہر نہیں ہوا، اصلاح حال ممکن ہے

ابھی تو دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے

نا سمجھی یا کم سنی کا زمانہ ہے

ابھی تو منہ کی دال بھی نہیں جھڑی

کمسن ہے، اب بھی بچے ہو یعنی عقل کی کمی ہے

ابھی تو تم ماں کا دودھ پیتے ہو

ابھی ناتجربہ کار ہو، ابھی بچے ہو، ابھی نادان ہو

ابھی تو تمہارے دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے

طنزاً کہتے ہیں کہ کچھ تجربہ نہیں، ہوش نہیں سنبھالا ہے

اَبرَا کی جُورو سب کی بَھاوَجْ

غریب یا کمزور کی عورت سے سب ہنسی کرتے ہیں

اچھے ہیں پر خدا کام نہ ڈالے

یہ کہاوت اس شخص کی نسبت طنزاََ کہتے ہیں جس کا ظاہر اچھا ہو اور باطن خراب

اچھے برے میں چار انگل کا فرق ہے

اچھے کام کرنے میں برے کام کرنے سے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، بری بات کی نسبت اچھی بات کرنے میں زیادہ تکلیف نہیں ہوتی

اچھا کیا رحمان نے، برا کیا شیطان نے

خدا کے سب کام اچھے ہوتے ہیں برے کام تو شیطان کرتا ہے، خدا ہمیشہ بھلائی کرتا ہے اور شیطان ہمیشہ برائی کرتا ہے

اَچّھےکی صُحْبَت بَیٹْھے کھائے ناگ٘ر پان ، بُرے کی صُحْبَت بَیْٹھے کَٹائے ناک اور کان

اچھی صحبت مفید ہے اور بری صحبت مضر ، جیسی سنگت ویسا ہی اس کا پھل ملتا ہے .

اچھی بھئی گُڑ سترہ سیر

بہت سستی چیز کے لئے مستعمل ہے خصوصاََ ہنود کا روز مرہ

اَچّھوں کے اَچّھے ہی ہوتے ہَیں

اچھے آدمی کی اولاد اور ذریت بھی اچھی ہی ہوتی ہے، اچھے خاندان میں اچھے ہی پیدا ہوتے ہیں

اَچّھوں کی سَبھی اَچّھی ہوتی ہے

حسینوں یا دولت مندوں کی بری بات کو بھی لوگ اچھا ہی کہتے ہیں

اچھے گھر بیعانہ دیا

اچھے گھر سے رشتہ کیا بری طرح قابو آئے، برے شخص سے معاملہ پڑا

اَدّھی کی ھانڈی بھی ٹھونک بَجا کَرْ لیتے ہَیں

کسی بڑے معاملے میں بے سوچے سمجھے فیصلہ نہیں کیا جاتا.

ادھیلا نہ دے ادھیلی دے

گڑ نہ دے بھیلی دے، بیوقوف تھوڑا خرچ کرتا ہے مگر نتیجہ میں اس کا زیادہ نقصان ہوتا ہے، جہاں دینا چاہیئے وہاں نہ دیں

اَدْھ جَل گَگْری چَھلْکَتْ جائے

کم ظرف آدمی تھوڑا سا مقدور ہونے پر اترانے لگتا ہے

افیم یا کھائے امیر یا کھائے فقیر

امیروں کو شوقیہ یا عادۃً افیون کھانے کے لیے روپیے کی کمی نہیں اور فقیر کو مانگ کر کھا لینے میں عار نہیں ہوتی

افیمی تین منزل سے پہچانا جاتا ہے

کسی قسم کی لت رکھنے والے کی وضع قطع چھپی نہیں رہتی

افلاطون کے ناتی بنے پھرتے ہیں

اپنی عقل پر بڑا گھمنڈ کرتے ہیں، بڑے مغرور ہیں

افسوس دل گڑھے میں

کسی چیز کو دیکھ دیکھ کے دل للچائے لیکن بس نہ چلے، خواہش کی عدم تکمیلیت

افسوس دل گڑھے میں چکی کا پاٹ گلے میں

یعنی عشق میں مبتلا ہیں، کسی کےعاشق زار ہیں

اگڑم بگڑم کاٹھ کا ٹھمبر

بے کار اشیا کا ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی لکڑی کے تختوں اور شہتیروں کا ڈھیر، کوئی کام کی چیز نہیں

اَگَر چِہ گَنْدَہ مَگَر ایِجادِ بَنْدَہ

رک ' ایجاد بندہ ، اگر چہ گندہ ' جو زیادہ مستعمل ہے.

اگر کوہ ٹلے تو ٹلے، نہ ٹلے فقیر

پہاڑ بھلے ہی اپنی جگہ سے ہٹ جائے لیکن فقیر نہیں ہٹتا، وہ بھیک لے کر ہی دروازہ چھوڑتا ہے

اگّم بدھ بانیا پچھم بدھ جاٹ

بنیا بڑا چالاک ہوتا ہے اور جاٹ بے عقل ہوتا ہے

اَگھانا بگلا، پوٹھیہ تِیت

پیٹ بھرا ہونے پر کوئی بھی چیز اچھی نہیں لگتی

اَگَھن چُولھے اَدَھن

: اگھن کے مہینے میں اتنی سردی پڑتی ہے کہ ہر وقت پانی چولھے پر رہتا ہے ، (مجازاً) جیسا وقت ہو ویسا کام ہوتا ہے .

اَگِن کے بَچّے کھجُور میں بَتانا

کچھ کا کچھ بتانا ، زمیں کو پوچھنے پر آسماں کی کہنا .

اَگلا گِرا پِچھلا ہوشِیار

ایک کو کسی بات سے نقصان پہنچے تو دوسرا اس سے سبق لیتا ہے

اَگْلا گِرا پِچْھلا ہُشْیار

ایک کو کسی بات سے نقصان پہنچے تو دوسرا اس سے سبق لیتا ہے

اگلا کرے پچھلے پر آوے

حاکم کی غلطی کا الزام ماتحت پر آتا ہے، بڑوں کی بھول چھوٹوں کو بھگتنی پڑتی ہے

اَگْلا لِیپا دے بَہا اَب لِیپا آگے لا

پچھلا احسان بھلا کر نئے احسان کی خواہش، جب کوئی شخص گزشتہ احسانات پر خاک ڈال کر نئے احسانات چاہتا ہے تو اس جگہ عورتیں طنزاً کہتی ہیں کہ یہ تو وہی مثل ہوئی کہ اگلا لیپا دے بہا اب لیپا آگے لا

اَگْلے آہل بھی جاتے رَہے

فائدے کی امید میں الٹا نقصان اٹھایا، پہلی بنائی صورت ابھی بگڑ گئی

اَگْلے بَھئے پِچھلے، پِچھلے ہُوئے پَرْدھان

قدیم خیر خواہ یا نوکر وغیرہ پس پشت ڈال دیے گئے اور نئے لوگوں کو ترجیح دی جانے لگی

اگلے کو گھاس نہ پچھلے کو پانی

مہمانوں کی تواضع میں بڑی بد نظمی ہے

اَگْلے نے کِیا پِچْھلے پَرْ آئی

بڑے نے قصور کیا چھوٹے نے سزا پائی، افسر نے خطا کی ماتحت ملزم ٹھہرا، کیا کسی نے تھپ گئی کسی کے سر

اگلے پانی پچھلے کِیچ

جو کام میں پہل کرتا ہے فائدہ میں رہتا ہے، پہلے کو پانی پچھلے کو کیچڑ، جو وقت پر پہنچ جاتا ہے وہی مزے میں رہتا ہے

آگْری نَہ کھاگْری نِرا لاڈ ہی لاڈ

بغیرکچھ دیےصرف باتوں میں ٹالنا

اَہار چُوکے وہ گَئے بِیوہار چُوکے وہ گَئے دَربار چُوکے وہ گَئے سُسرال چُوکے وہ گَئے

جس نے خور و نوش میں سوداگری میں حاکم کے سامنے یا سسرال میں تکلف سے کام لیا یا غلطی کی اس نے نقصان اٹھایا.

اَہیر دیکھ گڑریا مستانہ

اہیر کو نشے میں دیکھ کر چرواہا بھی مست ہوا، دوسروں کی غلط پیروی کرنا

اہیر گاڑی جات گاڑی، نائی گاڑی کجات گاڑی

اہیر کی گاڑی ہی سچی گاڑی ہے نائی کی گاڑی گاڑی نہیں کیونکہ گاڑی چلانا اہیر کا ہی کام ہے نائی کا نہیں

اَہِیرکا کیا ججمان، لَپسی کا کیا پَکوان

جس طرح لپسی کوئی بہت اچھا پکوان نہیں اسی طرح اہیر بھی کوئی بہت اچھا ججمان نہیں کیونکہ وہ اچھی بھیک نہیں دے سکتا

اہیر سے تب گن نکلے بالو سے جب گھی

اہیر میں خوبی کا ہونا اتنا مشکل ہے جتنا ریت میں گھی، دونوں باتیں ناممکن ہیں

اَحْمَد کی بَلا مَحْمُوْد کے سَر

خطا کسی کی مواخذہ کسی سے

اَحْمَد کی داڑھی بَڑی یا مَحْمُود کی

اس موقعے پر مستعمل جہاں یہ مقصد ہو کہ بے فائدہ بحث و تکرار سے کیا حاصل ، کام سے کام ہے حجت کیا سے غرض

احمد کی پگڑی محمود کے سر

بے تکا کام، خلاف قاعدہ اور بے ترتیب کام کرنے کی جگہ مستعمل ہے

اَے بادِ صَبا اِیں ہَمَہ اَوُرْدَۂ تُسْت

اب پتا چلا کہ یہ سارا فساد تمھارا ہی (یا ان کا ہی) اٹھایا ہوا ہے

اَے بَسا آرْزُو کہ خاک شُدَہ

ہائے افسوس ، ایسی کتنی ہی آرزوئیں پوری نہ ہوئیں

اَینچَن چھوڑ گَھسِیٹَن میں پَڑْنا

ایک آفت تو تھی ہی دوسری اس سے بڑھ کے آ پڑی

اَینچَن چھوڑ گَھسِیٹَن میں پَھنسْنا

ایک آفت تو تھی ہی دوسری اس سے بڑھ کے آ پڑی

اَیسا جَیسے رُوپے کے ٹَکے بُھنا لِیے

کھرا اور معاملے کا بالکل صاف

اَیسا گَیا جَیسے مَحْفِل سے جُوتا

جھٹ پٹ روپوش اور غائب ہوگیا

اَیسا کَہْنا پَکّا کِہ باسی تَھکّا

اتنا پکانے کی ضرورت ہی نہیں کہ جو دوسرے دن کے لیے رکھا رہے

اَیسا وَیسا بھاتا نَہِیں، خوان مَلُوکا آتا نَہِیں

ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کسی شخص کو جو نصیب ہے وہ پسند نہ ہو اور جو دل چاہتا ہے وہ نصیب نہ ہو

اَیسے آدمی کے دِیدے میں پیچ پَسا دِیجِیے

بہت شوخ دیدہ اور ڈھیٹ ہے، اس کی آنکھیں پھوڑ دو تو دل نہ دکھے

اَیسے اَیسے مَداری ہَم نے بَہُت چَنْگے کِیے ہیں

ان جیسے بہت سے شخصوں کو ہم نے درست کر دیا ہے

اَیسے اَیسے تو میری جیب میں پَڑے رَہْتے ہَیں

میرے سامنے ان کی کوئی حقیقت نہیں، میں ان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوشیار ہوں

اَیسے گَئے جَیسے گَدھے کے سَر سے سینْگ

کسی جگہ سے چپ چاپ اٹھ کر چلے آنا

اَیسے ہی تُم نے سونْٹْھ بھیْجی ہے

جب کوئی فضول میں کسی پر اپنا رعب جمائے تب بھی کہتے ہیں

اَیسے لَڑکے بَہت کِھلائے ہیں

داؤں یا بہلانے پھسلانے میں آنے والے نہیں

اَیسے پَر تو اَیسی کاجَل دِیے پَر کَیسی

سادگی میں تو اتنی خوبصورت پھر کاجل لگانے پر نہ جانے کتنی خوبصورت لگے گی

اَیسے اُوت رِواڑی جائیں آٹا بیچ کے گاجَر کھائیں

ایسے بیوقوف بھلا رِواڑی جا کر کیا کریں گے جو آٹا بیچ کر گاجر کھاتے ہیں

ایسی بَہُو سَیَانی جو پَینْچا مانْگے پانی

بیوی ایسی چالاک ہے کہ پانی بھی عاریتاً مانگتی ہے (اس لیے کہ دوسرے لوگ اس سے کوئی بھی چیز مفت میں نہ مانگیں اور اگر مانگیں بھی تو فوراََ لوٹا دیا کریں)

ایسی ہوتی کاتَن ہاری، تو کاہے پِھرْتی ماری ماری

ایسی ہنرمند یا ہوشیار ہوتی تو کیوں ماری ماری پھرتی

اَیسی کیا قاضی جی کی گَدھی چُرائی ہے

کیا ہم نے کچھ قصور یا خطا کی ہے، کوئی جرم یا گناہ نہیں کیا تو پھر کیا ڈر ہے

اَیسی کیا قاضی کی گَدھی چُرائی ہے

کونسا ایسا بڑا جرم کیا ہے، بے جرم کو کس کا ڈر ہے

اَیْسی کیا تیرے ہی تَلے گَنْگا بَہْتی ہے

شیخی خورے یا مغرور کے بارہ میں کہا جاتا ہے

اَیسی میْخ ماری کہ پار نِکَل گَئی

دل کو گہری چوٹ پہونچنے پر کہتے ہیں

اجگر کرے نہ چاکری پنچھی کرے نہ کام، داس ملوکا یوں کہے سب کے داتا رام

چاہے کوئی کام کرے یا نہ کرے پر خدا سب کو کھانا دیتا ہے

اَجگَر کے داتا رام

سست اور کاہل کی نسبت بولتے ہیں کہ اس کا خدا ہی حافظ ہے وہی اس کو روزی پہنچاتا ہے

اجیرن کو اجیرن ہی ٹھیلے، نہیں تو سر چوہٹے کھیلے

طاقتور کا طاقتور ہی مقابلہ کر سکتا ہے کمزور کرے تو جان سے جائے

اکال نہیں کال ہے

قحط نہیں موت ہے، سخت قحط ہے

اَکاس باندھیں ، پَتّال باندھیں ، گَھر کی ٹَٹّی کُھلی

سارے زمانے کا انتظام کرتے پھریں مگر اپنے گھر کے بندوبست سے غافل

اَکَل کُھرا جَگ سے بُرا

بد مزاج یا حامد شخص سے سب کو شکایت پیدا ہوجاتی ہے.

اَکَل کُھری کُھری جَگ سے بُری

اکل کھرا جگ سے برا (رک) کی تانیث.

اکیلا چلیئے نہ باٹ، جھاڑ بیٹھیئے کھاٹ

سفر میں اکیلا نہیں چلنا چاہیئے اور چارپائی جھاڑ کر بیٹھنا چاہیئے

اَکیلا چَنا بھاڑ نَہِیں پھوڑتا

تنہا کوشش کرنے والا کسی دشوار کام کو جو کئی آدمیوں کے کرنے کا ہو سر انجام نہیں دے سکتا، بہت سے لوگوں کے کرنے کا کام ایک آدمی نہیں کر سکتا

اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا

تنہا کوشش کرنے والا کسی دشوار کام کو جو کئی آدمیوں کے کرنے کا ہو سر انجام نہیں دے سکتا، بہت سے لوگوں کے کرنے کا کام ایک آدمی نہیں کر سکتا

اَکیلا چَنا کیا بھاڑ پھوڑے گا

تنہا کوشش کرنے والا کسی دشوار کام کو جو کئی آدمیوں کے کرنے کا ہو سر انجام نہیں دے سکتا، بہت سے لوگوں کے کرنے کا کام ایک آدمی نہیں کر سکتا

اَکیلا حُسْنو روئے کِہ قَبْر کھودے

تنہا شخص جس پر مصیبت کے وقت میں کئی کئی ذمہ داریاں ہوں وہ کس کس کام کو سنبھالے (اس موقع پر مستعمل ہے جب کہ مصیبت اور پریشانی کی حالت میں کام کثرت سے پیش آئیں اور سنبھالنے والا تنہا ہو)

اَکیلا نَہ روتا بَھلا نَہ ہَنْستا

جب تک دو چار آدمی کسی خوشی یا غم کی تقریب میں نہ ہوں لطف نہیں آتا

اکیلا پُوت کمائی کرے، گھر کرے یا کچہری کرے

اکیلا کمائی کرنے والا کیا کیا کرے، گھر کا کام کرے یا محنت مزدوری کرے

اَکیلا سو باوْلا، دُوکیلا سو سَنگ، تِکیلا سو کَھٹ پَٹ، چَوکیلا سو جَنگ

آدمی تنہا ہو تو اسے وحشت ہوتی ہے دو ہوں تو دل مضبوط ہوتا ہے تین ہوں تو باہم کھٹ پٹ شروع ہوجاتی ہے اور چار (یا زیادہ) ہوں تو لڑ بیٹھتے ہیں

اَکیلا سُورْما چَنا بھاڑ نَہِیں پھوڑْ سَکْتا

رک : اکیلا چنا بھاڑ نہیں بھوڑ سکتا

اَکیلے چَلْیے نَہ باٹ جھاڑ بَیٹْھیے کھاٹ

(لفظاً) تنہا سفر نہیں کرنا چاہیے اور پلنگ کو ہمیشہ جھاڑ کر اس پر بیٹھنا چاہیے، (مراداً) سفر ہو خواہ حضر دونوں حالتوں میں احتیاط سے کام کرنا چاہیے

اَکیلے دُکیلے کا اللہ بیلی

یتیم کا اللہ ہی مددگار ہوتا ہے

اکیلی کہانی گُڑ سے میٹھی

تنہا چیز سب سے اچھی تو مانی ہی جائے گی کیوں کہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسری اچھی چیز موجود نہیں

اکیلی لکڑی کہاں تک جلے

کسی چیز یا شخص سے اس کی قوت و وساطت سے زیادہ کی امید نہیں کرنی چاہیئے

اَکّھو مَکّھو سَب کا دِل رَکّھو

ہر ایک کے منھ پر اسی کی سی کہنا

اَل جاؤُں بَل جاؤُں جَلوے کے وَقْت ٹَل جاؤُں

(لفظاً) صدقے ہو جاؤں قربان ہو جاؤں لیکن رونمائی کے وقت (جب کہ کچھ دینا پڑتا ہے) موقع سے ہٹ جاؤں ، (مراداً) زبانی محبت جتاتے ہیں مگر وقت پر کام نہیں آتے

اَلالُوں بَلالُوں صَحْنَک سَرکالُوں

چکنی چپڑی باتیں کر کے اپنا مطلب نکالنے پر خوشامدی کے لیے ظنزاً مستعمل

اَلَگ رَہے پَر اُلُّو

تنہائی سے انسان کو وحشت ہوتی ہے

اَلَکھ پُرُش کی مایا کَہِیں دُھوپ کَہِیں سایا

خدا کی شان ہے، کہیں دھوپ ہے کہیں چھاؤں، خدا کی قدرت ظاہر کرنے کے لیے دو مخالف چیزیں لی گئی ہیں، کوئی امیر ہے تو کوئی غریب، کوئی دکھی ہے تو کوٗی سکھی وغیرہ

اَلَوَنی سِل چَٹورا کُتّا

لالچی ناکام رہتا ہے حاصل کچھ نہیں ہوتا

اَلبَل خُدا بَل

قوت و طاقت خدا کی تائید سے ہوتی ہے

اَلبیلی نے پَکائی کِھیر دُودھ کی جَگَہ ڈالا نِیر

کرنا کچھ تھا کر ڈالا کچھ، بیوقوفی کی وجہ سے کام بگاڑ دینا

اَلفَرْبَہ خواہ مخَواہ مَرْد آدْمی

لمبا تگڑا آدمی دیکھنے میں تو ہمت والا معلوم ہی پڑتا ہے پھر چاہے وہ ویسا ہو یا نہ ہو

اَلاِنْتِظارُ اَشَدُّ مِنَ الْمَوت

انتظارموت سے بھی شدید تر ہوتا ہے، انتظار کی گھڑیاں گننے سے مر جانا آسان ہے

اَلکَرِیمُ اِذا وَعَدَ وَفا

شریف آدمی جب کوئی وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا بھی کرتا ہے

اَللہ دے اَللہ دِلاوے، بَندَہ دے مُراد پاوے

دیتا تو اللہ ہی ہے، جب انسان کچھ دیتا ہے تو اللہ اس کی خواہش پوری کرتا ہے

اَللہ دے اور بَنْدَہ لے

کسی شے کی فراوانی یا شدت و کثرت ظاہر کرنے کے لئے

اللہ دے بنْدہ سہے

انسان پر جیسی بھلی بری بنتی ہے سہتا ہے

اللہ دے، بندہ پاوے

دیتا اللہ ہے، انسان اپنے اچھے اعمال کا پھل پاتا ہے

اللہ دو سینگ دیوے تو وہ بھی قبول ہیں

جو کچھ اللہ بھیجے برداشت کرنا پڑتا ہے، اللہ کی رضا پر راضی ہونا چاہیے

اَللہ غَنی تو کاہے کی کَمی

اللہ پر نظر رکھو اور مایوس نہ ہو

اَللہ کا دِیا نُور کَبھی نَہ ہووے دُور

بالوں کی سفیدی خضاب کے باوجود جھلکتی رہتی ہے

اَللہ کا نام لو

اللہ سے ڈرو

اَللہ کَرے سو ہو فَقِیر کَہے سو ہو

اللہ تعالیٰ کی مشیت اور فقیر کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری ہو کر رہتی ہے

اَللہ کے گَھر میں کِس چِیز کی کَمی ہے

خدائے تعالیٰ کسی بندے کو دینا چاہے تو سب کچھ دے سکتا ہے، خدا ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے

االله کے گَھر میں کِس چِیز کی کَمی ہَے

خدائے تعالیٰ کسی بندے کو دینا چاہے تو سب کچھ دے سکتا ہے، خدا ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے

اَللہ کی لاٹھی میں آواز نَہِیں

اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں، اللہ ظالم کو اس طرح سز ا دیتا ہے جس کا گمان بھی نہیں ہوتا

اَللہ مِیاں کے بَڑے بَڑے ہاتھ

خدا کا فضل و کرم بے پایاں ہے، مایوس نہ ہو وہ فلاح کی کوئی نہ کوئی سبیل نکا لے گا

اَللہ رَکّھے تو کَون چَکّھے

جس کو خدا بچانا چاہے اسے کون گزند پہنچا سکتا ہے

اَللہ شَکَّر خورے کو شَکَّر ہی دیتا ہے

خدا ہر شخص کو اس کے حوصلے، نیت اور ہمت کے مطابق دیتا ہے

اَللہ شُکْر خورے کو شُکْر دیتا ہے

خدا ہر شخص کو اس کے حوصلے، نیت اور ہمت کے مطابق دیتا ہے

اَللہ یار تو بیڑا پار

خدا مددگار ہے تو سب کام ہو جائے گا

اَلقَرْضُ مِقْراضُ الْمُحَبَّت

قرض دینے لینے سے محبت میں فرق آجاتا ہے، قرض دار اور قرض خواہ کے تعلقات عموماً بگڑ جاتے ہیں، قرض لینے کے بعد آپس میں وہ محبت نہیں رہتی

اَلْسی کا جھُوْڑا نَہ گَدھَا کھائے نَہ گھُوڑا

کسی کام کا نہیں، کسی مصرف کا نہیں، عمر رسیدہ شخص اپنے متعلق کسرِ نفسی کے طور پر کہتا ہے

اَلْسی کا جھُوڑَا نَہ گَدھَا نَہ گھُوڑا

کسی کام کا نہیں، کسی مصرف کا نہیں، عمر رسیدہ شخص اپنے متعلق کسرِ نفسی کے طور پر کہتا ہے

امانت میں خیانت تو زمیِن بھی نہیں کرتی

خیال یہ ہے کہ سونپ دینے سے زمین بھی لاش میں تصرف نہیں کرتی اس لئے امانت میں خیانت ہوجانے پر یہ مقولہ بطور ملامت کہا جاتا ہے

اَمانی ابا دانی اجارہ اجاڑا

جو کام اپنی نگرانی میں ہو وہ اچھا ہوتا ہے، ٹھیکے کا کام اچھا نہیں ہوتا

اَمِیر کا پاد بھی خُوشبُودار ہوتا ہے

دولت جملہ عیوب کی پردہ پوشی کرتی ہے

امیر کا اُگال غریب کا آدھار

امیر جس چیز کو نیچ اور بیکار سمجھ کر پھینک دیتا ہے، غریب کا اس سے ہی بہت کام چلتا ہے

اَمِیر کے پَڑوس میں خُدا قَبْر بھی نَہ بَنوائے

غریب کے لیے امیر کا ہمسایہ ہونا اچھا نہیں ہوتا

اَمِیر کے پاس قَبْر بھی نَہ ہو

غریب کے لیے امیر کا ہمسایہ ہونا اچھا نہیں ہوتا

اَمِیر کی دائی سِیکھی سِکھائی

امیر کے نوکر سب فنون سے واقف اور ہوشیار ہوتے ہیں

امیر کو جان پیاری فقیر کو ایک ایک دَم بھاری

امیر کو جان زیادہ عزیز ہوتی ہے اور غریب کو دوبھر، امیر مرنا اور فقیر جینا نہیں چاہتا

اَمِیر نے گُو کھایا تو دَوا کے لِئے اَور غَرِیب نے کھایا تو پیٹ بَھر نے کے لِئے

کوئی برا کام اگر کسی دولت مند سے سرزد ہو تو اس کو اچھا سمجھا جاتا ہے اور وہی کام کوئی غریب آدمی کرے تو اس پر لعنت ملامت کی جاتی ہے

اَمِیر نے پادا صِحَت ہُوئی غَرِیب نے پادا بے اَدَبی ہُوئی

کوئی برا کام اگر کسی دولت مند سے سرزد ہو تو اس کو اچھا سمجھا جاتا ہے اور وہی کام کوئی غریب آدمی کرے تو اس پر لعنت ملامت کی جاتی ہے

اَن کے دَھن پر چور راجا

دوسرے کی کمائی ہوئی دولت پر مزے کرنا

اَن مانْگے موتی مِلے، مانْگے مِلے نَہ بِھیک

اکثر بے محنت و تلاش بڑا کام بن جاتا ہے اور بعض اوقات معمولی سا کام بھی محنت کے باوجود نہیں بنتا

اَن مِلی کی کُسَل ہے

ملاقات نہ ہو تو ہی اچھا، جب کسی شخص سے ہم دور رہنا چاہتے ہیں تو اس کے متعلق کہتے ہیں

اَناڑی کا سَودا بارَہ باٹ

ناواقف کا سودا یا کام اعتبار و اعتماد کے قابل نہیں ہوتا تتر اور منتشر ہوتا ہے

اَناڑی کا سونا بارَہ بانی

اناڑی کا مال کھرا اور قابل اعتماد ہوتا ہے کیونکہ چیزوں میں آمیزش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لئے اس کا مال خالص ہوتا ہے

اناج کال نہیں راج کال ہے

گرانی حاکموں کی بد انتظامی کی وجہ سے ہے اناج کی وجہ سے نہیں

اندر چُھوت نہیں، باہر کہیں دُور دُور

اس شخص کے لئے کہا جاتا ہے جو دکھاوا کرتا ہے

اَنْڈے بَبُول میں، بَچّے کَھجُور میں

کوئی چیز کہیں ہے کوئی کہیں، ایک بھی ٹھکانے سے نہیں

اَنْڈے ہوں گے تو بَچّے بَہُت ہو رَہیں گے

اسباب مہیا ہوں تو نتیجہ برآمد ہونا بھی یقینی ہے، جڑ بنیاد ہوگی تو اس پر عمارت بھی تعمیر ہوجائے گی

اَنْڈے سیوے فاخْتَہ ، کَوّے میوے کھائیں

مشقت کرے کوئی اور مزے اڑائے کوئی

انڈے سیوے کوئی، بچے لیوے کوئی

محنت کوئی کرے اور فائدہ کوئی اٹھائے

ان دیکھا چور باپ بَرابَر

جس طرح سالے سے کوئی پردہ نہیں ہوتا وہ گھر میں سب جگہ بے روک ٹوک آ جا سکتا ہے، اسی طرح جس چور کو چوری کرتے نہیں دیکھا اس سے کچھ کہا نہیں جا سکتا اسے گھر میں پوری آزادی رہتی ہے

اَنْدھا بانٹے ریوڑی اَپنوں ہی کو دے

اس موقع پر مستعمل جب کوئی مستحق کی بجائے ہر صورت سے اپنے عزیز یا دوست ہی کو نفع پہنچائے

اَندھا بانْٹے ریوَڑِیاں اَپنوں ہِی کو دے

اس موقع پر مستعمل جب کوئی مستحق کی بجائے ہر صورت سے اپنے عزیز یا دوست ہی کو نفع پہنچائے

اَنْدھا بادشاہ لَنگڑا وَزِیر کاٹھ کا گھوڑا لوہے کا زِین

جب نائب و منیب (یا پورا عملہ یا گھرانا وغیرہ) سب نکمے ٹھہرے تو کام سلیقے سے کیونکر ہو

اندھا بَگُلا کیچڑ کھائے

غافل، جلد باز، بدسلیقہ آدمی ہمیشہ ٹھوکر کھاتا اور نقصان اٹھاتا ہے

اَنْدھا بَٹے رَسّی اَور پِیچھے بَچھڑا کھائے

ادھر کام کرتا جاتا ہے اور ادھر غفلت سے سارا کیا کرایا خراب ہوتا چلا جاتا ہے (غافل یا احمق کے متعلق مستعمل)

اندھا چوہا تھوتھے دھان

ناواقف کو اچھی چیز نہیں ملتی، بد نصیب یا بیوقوف ناکام رہتا ہے

اَنْدھا دیکھے تو پَتیائے

مراد پوری ہوجائے تو اطمینان ہو، کام ہوجائے تو جانیں

اَنْدھا دوزخی بَہرا بَہِشتی

اندھے کو اوروں کی طرف سے بددیانتی کا وسوسہ رہتا ہے اور بہرا اپنی اور دوسروں کی برائیاں سننے کے گناہ سے محفوظ رہتا ہے۔

اَنْدھا گائے بَہرا بَجائے

سب نالائق ہیں (اس موقع پر مستعمل جہاں سب نااہل جمع ہوں)

اَنْدھا ہادی بَہرا مُرشِد

مشیر مصاحب سب نااہل

اَنْدھا ہاتھی اَپنی ہی فَوج کو مارے

نافہم آدمی اپنے رفیقوں کو نقصان پہنچاتا ہے

اَنْدھا جانے آنکھوں کی سار

کسی چیز کی قدر اسی کو خوب ہوتی ہے جو اس سے محروم ہو

اَنْدھا جِیا بُرے حالوں

اندھے کی زندگی بری طرح کٹتی ہے ، (اُس موقع پر مستعمل جب کسی کے ذرائع محدود ہوں اور گزر بسر مشکل سے ہوتی ہو)۔

انْدھا کہے میں سرگ چڑھ موتوں اور مجھے کوئی نہ دیکھے

ظالم و جابر کھلم کھلا قابلِ مذمت عمل کر کے چاہتا ہے کہ اس کے کاموں کا پتہ کسی کو نہ چلے تو یہ کیسے ممکن ہے

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں

یہ کہاوت اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی کی خواہش کے بارے میں پوچھا جاتا ہے

اَنْدھا کیا جانے بَسَنت کی بَہار

جو کسی چیز کی حقیقت سے واقف نہ ہو، وہ اس کی کیا قدر کرسکتا ہے، جسے کسی بات کا تجربہ نہ ہو، وہ اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہے

اَنْدھا لَکڑی ایک ہی بار کھوتا ہے

ایک ہی بار اعتبار کیا جاتا ہے، اگر کوئی دھوکا دے تو دوسری بار اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا

اَنْدھا مانْگے دو آنْکھیں

یہ کہاوت اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی کی خواہش کے بارے میں پوچھا جاتا ہے

اندھا مُلّا ٹوٹی مَسِیت

جیسے اندھے مُلا جی ویسے ان کی ٹوٹی مسجد مطلب دونوں ایک سے

اَنْدھا نیوتے دو جَنے آئیں

اندھے کو بلائیں تو دوسرا اس کے ساتھ پہنچانے کے لیے آتا ہے، اُس موقع پر مستعمل جب ایک کو کچھ دیں تو دوسرے کو بھی دینا پڑے ، ایک کا لحاظ کریں تو دوسرے کا بھی لحاظ کرنا پڑجائے۔

اَنْدھا راجا چَوپَٹ راج

عالم و جاہل اور برے بھلے میں تمیز نہ ہونے کے موقع پر بولتے ہیں

اَنْدھا تَب پَتیائے جَب دو آنْکھیں پائے

مراد پوری ہوجائے تو اطمینان ہو، کام ہوجائے تو جانیں

اَنْدھے کے آگے ہِیْرا کَنْکَر

رک : اندھے کو رات دن برابر ہے ۔

اَنْدھے کے آگے رونا اَپْنے دِیدے کھونا

نا اہل کو نصیحت کرنا مفت کا سر درد مول لینا ہے، بے حس انسان سے اپنا درد دکھ بیان کرنا ہے سود ہے

اَنْدھے کے آگے رونا اَپْنے نَین کھونا

نا اہل کو نصیحت کرنا مفت کا سر درد مول لینا ہے، بے حس انسان سے اپنا درد دکھ بیان کرنا ہے سود ہے

اَنْدھے کے آگے رونا اَپْنی آنْکھیں کھونا

نااہل کو نصیحت کرنا مفت کا درد سر مول لینا ہے، بے حس انسان سے اپنا درد دکھ بیان کرنا بے سود ہے

اَنْدھے کے آگے رونا اَپْنی آنْکھیں کھونا

نا اہل کو نصیحت کرنا مفت کا سر درد مول لینا ہے، بے حس انسان سے اپنا درد دکھ بیان کرنا ہے سود ہے

اَنْدھے کے ہاتھ بَٹیر لگی

کوئی چیز اتفاقیہ طور پر یا خلاف توقع ہاتھ آگئی، کم حوصلہ کو اس کی لیاقت سے زیادہ مل گیا

اندھے کے حساب دن رات برابر

بیوقوف نیک و بد میں تمیز نہیں کر سکتا، بیوقوف کو اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی کیونکہ اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا

اَنْدھے کے پاؤں تَلے بَٹیر دَب گَئی، کَہا ہَر روز شِکار کھائیں گے

اتفاقی بات پر بھروسا نہیں ہو سکتا، کیا جانے پھر اتفاق ہو یا نہ ہو

اندھے کی داد نہ فریاد

جابر اور ظالم کو کون ٹوک سکتا ہے

اَنْدھے کی جورُو کا خُدا رَکْھوالا

بے وقوف کا مال جس کا جی چاہتا ہے کھاتا ہے

اَنْدھے کی لاٹھی

ضعیفی کا سہارا، بڑھاپے کی اولاد

اَنْدھے کی لَکْڑی

ضعیفی کا سہارا، بڑھاپے کی اولاد

اَنْدھے کو انْدھیرے میں بَہُت دُور کی سُوجھی

اُس موقع پر مستعمل جب کوئی بے وقوف اتفاقاً عقل کی بات کہہ دے

اَنْدھےکو اَنْدھا کَہا وہ لَڑْ پَڑا

عیب دار کو عیب کی گرفت بری لگتی ہے بے عیب کو نہیں لگتی

اَنْدھے کو اَنْدھا راسْتَہ کیا بَتائے

جو خود ہی گمراہ ہے وہ اوروں کی رہبری کیا کرے گا

اَندھے کو جُوا مُعاف

ناواقف کے قصور پر گرفت نہیں ہوتی ہے

اندھے نے چور پکڑا، دوڑیو اے میاں لنگڑے

ایک مضحکہ خیز بات، اندھا نہ تو چور ہی پکڑ سکتا ہے اور نہ لنگڑا دوڑ سکتا ہے

اندھیر نگری چَوپٹ راجا

عالم و جاہل اور برے بھلے میں تمیز نہ ہونے کے موقع پر بولتے ہیں

اَن٘دھیری نَگْری چَوپَٹ راج

عالم و جاہل اور برے بھلے میں تمیز نہ ہونے کے موقع پر بولتے ہیں

اَنْدھی نایَن آئِینے کی تَلاش

ایسی چیز کا حوصلہ کرنے والا جس کی اہلیت نہ ہو

اَنْدھی نَگْری چَوپَٹ راج

عالم و جاہل اور برے بھلے میں تمیز نہ ہونے کے موقع پر بولتے ہیں

اندھی پیسے کُتّا کھائے

اس کہاوت کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اپنی محنت سے تیار کردہ شے کا استعمال نہ کرسکے اور دوسرے اس سے لطف اندوز ہوں

اندھوں میں کانا راجا

بیوقوفوں میں تھوڑا پڑھا لکھا ہی ماہر سمجھا جاتا ہے

اَنْدھوں نے بازار لوٹا

ایسا کام کیا جو ممکن نہ تھا، ایسی بات کی جو انہونی تھی (کسی سے نہ ہوسکنے والی بات کے ہوجانے پر اظہار تعجب کی جگہ)

اندھوں نے گاؤں مارا دوڑیو بے لنگڑو

جب کسی شخص سے ایسا کام بن جائے جس کی امید نہ ہو تو یہ کہاوت کہتے ہیں

اَن ہونی ہونی نہیں اور ہونی ہووَنہار

ناممکن بات کبھی نہیں ہوتی اور مقدر کی لکھی ہرگز نہیں ٹلتی، جو قسمت میں لکھا ہے ضرور ہوتا ہے

اَن ہوت میں اولاد

غربت میں بہت سے بچے کا ہونا، غریب کثیر الاولاد ہوتا ہے، غریبی میں بہت اولاد کا ہونا اکھرتا یا کھلتا ہے

ان ہوتی کو ہوت کو تاکت ہے سب کو، ان ہونی ہونی نہیں ہونی، ہووے سو ہوئے

جو قسمت میں ہے ضرور ہوگا، جو قسمت میں نہیں وہ کبھی نہیں ہوگا، اگرچہ بہت سے لوگ ناممکن بات کی امید رکھتے ہیں، مگر ناممکن بات ہوتی نہیں

اَنی کی ٹَلی ہَزار بَرَس

مصیبت تھوڑی دیر کے لیے ٹلنا بھی بسا غنیمت ہے، جان بچ جائے تو سمجھو بزار برس کی زندگی ملی ۔

انجان کی مٹی خراب

ناتجربہ کار ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے، لاعلمی مشکل کی وجہ ہوتی ہے اور اس سے کام نہیں بنتا

انکر کھیتی انکر گائے، وہ پاپی جو مارن جائے

دوسروں کے کام میں دخل دینا بیوقوفی ہے

اَنّ دھن انیک دھن، سونا روپا کتیک دھن

بڑی دولت اناج ہے، سونا چاندی بے فائدہ ہے

اَلنّاسُ عَلیٰ دِیِن مُلوکِہِم

لوگ عموماً لباس اور نشست و برخاست وغیرہ کے آداب میں اپنے بادشاہ حکومت امرا یا بزرگوں کے طور طریقے کی پیروی کرتے ہیں

انوکھے گاؤں اونٹ آیا تو لوگوں نے کہا پرمیسُر آیا

ناواقف ہر انوکھی چیز سے بہت مرعوب ہوتے ہیں

اَنوکھے کے گَھر گھوڑی

کم ظرف ، چھچھورے یا کمینے کے گھر دولت یا نعمت۔

اَنوکھی جُروا ساگ میں شُروا

شوربہ عموماََ گوشت کا ہی بنتا ہے لیکن بیوقوف عورت نے ساگ کا ہی شوربہ بنا دیا

انوکھی کے ہاتھ آئی کٹوری، پانی پی پی ہوئی انوکھے گھر کٹورا

کمینے کے ہاتھ کوئی چیز آ جائے تو اُسے دکھانے کے لئے اُس کا بہت استعمال کرتا ہے

اَنت بھلا سو بھلا

آخرت کی بھلائی سب سے بہتر ہے، جس کام کا انجام یا نتیجہ اچھا ہو وہ اچھا ہے ورنہ برا

انت بھلے کا بھلا

بھلے کا بھلا ہوتا ہے یا بھلے کی اولاد بھی بھلی ہوتی ہے

انت بُرے کا بُرا

برے کا انجام برا ہی ہوتا ہے، جو کسی کا برا کرتا ہے آخر میں خود اس کا برا ہوتا ہے

اَنْت مِٹا سو مِٹا

اپنا حق حاصل کرنے میں کوشش ضرور کرنا چاہیے.

اپنا اپنا ہے پرایا پرایا ہے

جہاں اپنا آدمی کام آ سکتا ہے وہاں پرایا نہیں

اپنا بیل کلہاڑی ناتھیں

اپنے بیل کی ناک میں چاہے تو کلہاڑی سے چھید کریں

اَپْنا بھات پَرائے ہاتھ

اپنا مال دوسرے کے حوالے کرنا یا اپنی دولت دوسرے کے لیے چھوڑ جانے کے موقع پر مستعمل

اَپْنا بھی خُدا ہے

کوئی ساتھ دے یا نہ دے مضائقہ نہیں، خدا ہمارا مالک و مددگار ہے (سب کی طرف سے مایوس ہونے کے موقع مستعمل)

اَپْنا بِسْمِ اللہ دُوسرے کا نَعُوذُ بِاللہ

لوگ اپنی چیز کی تعریف کرتے ہیں، اور دوسرے کی چیز پر نفریں بھیجتے ہیں

اَپنا دام کھوٹا پَرَکھنے والے کا کیا دوش

عموماََ اس وقت کہتے ہیں جب اپنے گھر کے لڑکے یا کسی دوسرے شخص کی غلطی سے اوروں کو شکایت کا موقع مل جاتا ہے

اَپنا دے لَڑائی مول لے

قرض دینا، دشمن بنانے کے برابر ہے، قرض مقراض محبت ہے

اَپنا دے، بَلَیّا لے

قرض دے اور پھر خوشامد کرے، احسان کرے اور پھر دبے

اَپنا دَھونْسا آپ بَجاؤ

اپنے مسائل سے خود ہی نپٹیں، اپنا ڈھول خود ہی پیٹیں

اَپنا دَھونْسا آپ لے جاؤ اَپنے ہاتھ بَجاؤ

اپنا کام آپ کرو ہم تمھارے ساتھ شریک نہیں ہوتے

اَپنا دِیجیے دُشْمَن کِیجیے

قرض دینا، دشمن بنانے کے برابر ہے، قرض مقراض محبت ہے

اپنا دل دل ہے دوسرے کا لوتھڑا

اپنی غرض کے آگے دوسرے کی غرض کی اہمیت نہیں ہوتی

اپنا گھر اپنا باہر

خود غرض کے لئے یہ کہاوت کہتے ہیں

اَپْنا گَھر دُور سے سُوجھتا ہے

گھر کے آرام چین کی قدر گھر میں نہیں ہوتی، مسافرت میں گھر کا آرام چین برابر یاد آتا ہے

اَپنا گَھر ہَگ بَھر، پَرائے گَھر تُھوک کا ڈَر

اپنی چیز کو چاہے جس طرح برتیں، دوسرے کی چیز کی احتیاط کرنی پڑتی ہے

اَپنا گَھر خُوشی بھائے سو کَر

اپنی چیز کو چاہے جس طرح برتیں، دوسرے کی چیز کی احتیاط کرنی پڑتی ہے

اَپنا گَھر سَو کوس سے نَظَر آتا ہے

ہر شخص اپنی کسی خوبی یا کمزوری کو خوب جانتا ہے

اَپنا گھولو اَپنا پِیو

گرہ کا پیسا لگاؤ اور آرام کرو

اَپنا گُھٹْنا کھولیے اور آپ ہی لاجوں مَریے

اپنوں کے عیب کھولنے سے خود ہی خفت و ندامت اٹھانی پڑتی ہے، اپنی عزیز چیز کی رسوائی خود اپنی رسوائی ہے

اَپنا گُھٹْنا کھولیے اور آپ ہی مَریے لاج

اپنوں کے عیب کھولنے سے خود ہی خفت و ندامت اٹھانی پڑتی ہے، اپنی عزیز چیز کی رسوائی خود اپنی رسوائی ہے

اپنا ہارا اور مہری کا مارا کون کہتا ہے

جواری اپنا نقصان اور جورو سے مار کھانے والا اپنی ذلت بیان نہیں کرتا، ہر شخص اپنی ذلت اور خواری پر پردہ ڈالتا ہے

اَپنا ہاتھ اَپنے سَر پَر

کوئی سرپرست اور ولی وارث نہیں، کوئی پرسان حال نہیں

اَپنا ہاتھ جَگَن ناتھ

خود مختاری بڑی بات ہے، اختیار دوسرے کی بجائے اپنے پاس ہونا اچھا ہے

اپنا ہے ہی نا دوسرے کے دانی

خود کھانے کو نہیں دوسرے کو خیرات دینے کو تیار

اَپنا ہی مال جائے اور آپ ہی چور کَہلائے

اپنے نقصان کا الزام اپنے ہی سر آیا کیا ستم ظرفی ہے

اپنا ہی مطلب سوجھتا ہے

خود غرضی ظاہر کرنے کے موقع پر کہتے ہیں کہ ہر شخص کو اپنے فائدے کا خیال رہتا ہے

اَپنا کَہے مُنہ بَند ہوتا ہے، غَیر کَہے سے مُنہ کُھل جاتا ہے

یگانہ مانگے تو مروت میں منہ بند ہو کر رہ جاتا ہے، انکار نہیں کیا جاتا، البتہ غیر کی فرمائش پر انکار کر سکتے ہیں (قربت داری میں لڑکی کے لیے لڑکے کا پیام دیتے وقت اپنائیت کا دباؤ ڈالنے کے لیے مستعمل)

اَپنا کے بیری بِیڑی دوسرے کے کِھیر پُوڑی

اپنے گھر جو آئے اسے پان کھلا کر ٹال دے اور خود دوسروں کے گھر جا کر اچھے کھانے کھائے

اَپنا کے جُڑے نا اُن کا کے دانی

اپنے پاس تو کچھ نہیں دوسروں کو دینے کا وعدہ

اَپنا لال گَنوائے کے دَر دَر مانگے بِھیک

اپنی پونجی تلف کر کے محتاج پھرتا ہے

اپنا لینا کیا، پرایا دینا کیا

بد معاملہ نادہندہ کے لئے پھبتی کے طور پر مستعمل ہے یعنی جو آدمی لین دین کے معاملے میں غیر محتاط ہو اس کی نسبت کہتے ہیں

اپنا مال چھاتی تلے

نعلین در بغلین، مال عرب پیش عرب

اَپنا مارے چھاؤں میں بِٹھائے غَیر مارے دُھوپ میں بِٹھائے

اپنے پھر اپنے ہوتے ہیں، غیروں کی بہ نسبت اپنوں کا آسرا لینا بہتر ہے چاہے نا مہربان ہوں

اَپنا مارے چھاؤں میں ڈالے غَیر مارے دُھوپ میں ڈالے

اپنے پھر اپنے ہوتے ہیں، غیروں کی بہ نسبت اپنوں کا آسرا لینا بہتر ہے چاہے نا مہربان ہوں

اَپنا مارے گا تو پِھر چھانْو میں بِٹھائے گا

اپنے پھر اپنے ہوتے ہیں، غیروں کی بہ نسبت اپنوں کا آسرا لینا بہتر ہے چاہے نا مہربان ہوں

اَپنا مَکان کوٹ سَماں

اپنے گھر کی حیثیت قلعے کی سی ہوتی ہے جس میں انسان خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہے

اَپنا مَرَن جَگَت کی ہانْسی

اپنی تباہی جگت کی ہنسی یعنی لوگ دوسرے کے نقصان پر ہنستے ہیں

اپنا نکال مجھے ڈالنے دے

اپنے فائدے کے لئے دوسرے کے نقصان کا خواہش مند ہونا

اَپنا پیسہ کھوٹا پَرَکھنے والے کا کیا دوش

عموماََ اس وقت کہتے ہیں جب اپنے گھر کے لڑکے یا کسی دوسرے شخص کی غلطی سے اوروں کو شکایت کا موقع مل جاتا ہے

اَپنا پَیسا کھوٹا تو پَرَکْھنے والے کا کیا دوس

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپنا پَیسا کھوٹا تو پَرَکْھنے والے کا کیا دوش

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپنا پَیسا کھوٹا تو پَرَکْھنے والے کا کیا لاگ

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپْنا پیٹ تو کُتّا بھی پالْتا ہے

تن پروری کوئی خوبی نہیں، دوسروں کے کام آنا بڑی بات ہے

اَپنا پُوت اور پَرایا ڈھینْگر

اپنے بیٹے، عزیز و اقارب یا دوست وغیرہ نے خطا کی تو وہ قصور وار نہیں اور دوسرے نے خطا کی تو وہ مجرم ہے

اپنا رکھ پرایا چکھ

خود غرض شخص کے لئے کہا جاتا ہے

اَپنا سونا کھوٹا پَرَکْھنے والے کو کیا دوکھ

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپنا سونا کھوٹا پَرَکْھنے والے کو کیا دوس

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپنا سونا کھوٹا پَرَکْھنے والے کو کیا دوش

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپنا سونا کھوٹا، پَرَکھنے والے کو کیا دوش

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپْنا سُوپ مجھے دے تُو ہاتھوں پَچھوڑ

جب کوئی کسی کی ضرورت کی چیز مانگے اور اس کے دینے میں ہرج ہو

اَپنا ٹِھیک نَہِیں اَور کا نِیک نَہِیں

نہ خود عقل سے کام لیتے ہیں نہ دوسرے کی راے پر عمل کرتے ہیں

اَپنا تو تَن پَہلے ڈھانْکو دُوسرے کو نَنْگا پِیچھے کَہنا

اول اپنے عیب دور کرو دوسرے کو برا پھر کہنا

اَپنا توشا اَپنا بَھروسا

اپنی محنت اور کمائی کا سہارا ہے، اپنی ذات اور اپنی صلاحیت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے

اَپنا اُلُّو کَہِیں نہیں گیا

مقصود ہر طرح حاصل ہے، بات یوں بھی بنتی ہے

اپنے باؤلوں کو روئے دوسرے کے باؤلوں کو ہنسے

اپنے پاگلوں کو رونا اوردوسرے کے پاگلوں کو ہنسنا، اپنے نقصان پر افسوس کرنا اور دوسرے کے نقصان پر خوش ہونا

اَپْنے بَچّے کو اَیسا مارُوں کہ پَڑوسَن کی چھاتی پَھٹے

اس موقع پر فقرے کے طور پر بولتے ہیں جب دوسرے کی جلن میں یا دوسرے کو دکھانے کے لیے کو ئی شخص اپنا نقصان کرے

اَپْنے بَچھڑے کے دانْت دُور سے مَعلُوم ہوتے ہیں

اپنے آدمیوں کے لچھنوں یا گنوں سے سب با خبر ہوتے ہیں

اَپْنے بَچھڑے کے دانت سَب کو مَعلُوم ہوتے ہَیں

اپنے آدمیوں کے لچھنوں یا گنوں سے سب با خبر ہوتے ہیں

اَپْنے بَچھڑے کے دانت سَبھی پَہچانْتے ہَیں

اپنے آدمیوں کے لچھنوں یا گنوں سے سب با خبر ہوتے ہیں

اَپْنے دام بَناویں کام

جس کو پیسا دیں گے وہی کام کر دے گا

اَپْنے دام کھوٹے تو پَرَکھنے والے پَر کیا دوش

اپنی چیز یا اولاد ناقص ہو یا اپنے میں کوئی کمی ہو تو اعتراض کرنے والے کو کیا الزام دیا جائے

اَپْنے دَہی کو کَون کَھٹّا کَہتا ہے

اپنی چیز کو سب اچھا بتاتے ہیں

اَپْنے دَہی کو کوئی کَھٹّا نَہیں کَہتا

اپنی چیز کو سب اچھا بتاتے ہیں

اَپْنے گَھر میں کُتّا شیر ہے

اپنے علاقے میں ہر شخص کی جرات و ہمت بڑھ جاتی ہے، بزدل بھی حمایتی کے بھروسے پر بہادر ہو جاتا ہے (ایسے شخص کے لیے بولتے ہیں جو دوسرے کی حمایت کے بل پر دھمکائے یا اینٹھے)

اَپْنےگُھْٹنے کھولو آپ ہی لاجوں مَرو

اپنوں کے عیب کھولنے سے خود ہی خفت و ندامت اٹھانی پڑتی ہے، اپنی عزیز چیز کی رسوائی خود اپنی رسوائی ہے

اَپنے ہاتھ کے بَل بَل جائِیے جَیسا مَن ہو تَیسا کھائِیے

اپنے ہاتھ کا کام عین مرضی کے مطابق ہوتا ہے (کاریگر پسند کے قابل کام کرنے کے بعد فخریہ کہتا ہے)

اَپْنے حَلْوے مانْڈے سے کام

اپنے فائدے سے غرض، اپنے مطلب سے، مطلب، دوسرے کے نفع نقصان سے غرض نہیں

اَپْنے ہی گَھر سے آگ لَگی ہے

اپنوں ہی کا اٹھایا ہوا فساد، کسی غیر کی شرارت نہیں

اپنے جھونپڑے کی خیر مانگو

اپنی خیریت کی دعا مانگو، اپنے بچاؤ کی کوشش کرو، اپنی خیر مناؤ پھر دوسرے کی فکر کرنا

اَپْنے جھوپْڑے کی خَیْر مانگْو

تمھیں دوسروں کی کیا پڑی اپنی تو خبر لو

اَپْنے کئے کو بُھگتنا

اپنے اعمال کی سزا پانا، جیسا کرنا ویسا بھرنا، جیسا کیا ویسا پاؤ، کوئی اس میں کیا کرے

اپنے لگے تو پیٹھ میں اور کے لگے تو بھیٹ میں

دوسروں کی تکلیف کا کسی کو احساس نہیں ہوتا

اَپْنے مال کو قاضی کی دُہائی کیا

جو کام اپنے قابو کا ہو اس میں دوسرے کی مدد نہیں لینا چاہیے

اپنے مَن سے جانیے پرائے مَن کی بات

دوسرے آپ سے کیا چاہتے ہیں یا آپ سے کیسے برتاؤ کی توقع رکھتے ہیں اسے خود اپنے دماغ سے سمجھ جانا چاہیئے

اَپْنے مَنْڈَن میں دُوسروں کا کَھْنڈَن

اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا نقصان کرنا

اپنے مَرے بِن سُوَرْگ نَہِیں مِلْتا

اپنا کام بغیر اپنی محنت و جانفشانی کے ٹھیک نہیں ہوتا

اَپْنے مُوئے رام نَہِیں

جب خود مر گئے تو پھر کسی زند، کے انجام کی کیا فکر، اپنی موت کے بعد زندوں کا حشر جو ہو سو ہو، مترادف: از سرمن کن فیکون شد شد با شد

اپنے نین گنوا کے در در مانگے بھیک

جو شخص اپنی کسی چیز کی حفاظت نہیں کرسکتا اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اپنی دولت اجاڑ کر اب مانگتے پھرتے ہیں

اَپْنے نَیْناں مُجھے دے اَور تُو جُھلاتی پِھر

اپنے کام اور ضروت کی چیز تمھیں دے دیں تو ہمارا کام کیونکر چلے گا، ہماری ضرورت کی چیز تم لے گئے اب ہم اپنی ضرورت پر کس سے مانگتے پھریں

اَپنے اَوڑ بَٹائے وا کی رَہ جانے

اپنے کام سے کام دوسروں سے کیا مطلب

اَپْنے پَتّوں سے مُولی بھاری

جب اپنے ہی بوجھ میں دبے بیٹھے ہیں تو دوسرے کا بوجھ کس طرح سنبھالیں گے

اپنے پُوت کنوارے پھریں پڑوسن کے پھیرے

اپنے بیٹے کی شادی کی فکر نہیں، پڑوسیوں کی شادی کرواتے پھرتے ہے

اپنے سے بچے تو اور کو دیں

پہلے ہم تو اپنی ضرورت پوری کر لیں پھر دوسروں کو دیں

اَپْنے سُوئی نَہ جانے دو، دُوسرے کے بھالے کونچو

خود تھوڑی تکلیف بھی گوارا نہیں دوسرے پر بڑی بڑی آفتیں ڈھائی جاتی ہیں

اَپْنے تَن کا پھوڑا سَتاتا ہے

عزیزوں، قریبوں سے ہی دکھ پہنچتا ہے

اپنے اپنے گھر سب بادشاہ ہیں

ہر شخص اپنے گھر میں مالک و مختار ہے، اپنے گھر میں سب بڑے ہیں

اپنے اپنے قدح کی سب خیر مناتے ہیں

ہر کوئی اپنی بھلائی چاہتا ہے، سب اپنا پیالہ بھرا رکھنا چاہتے ہیں، سب اپنا غرض دیکھتے ہیں

اَپْنی اَپْنی ڈَفْلی اَپْنا اَپْنا راگ

سب کی متفرق یا انفرادی آواز، کوشش یا عمل وغیرہ

اَپْنی اَپْنی گور، اَپْنی اَپْنی مَنْزِل

کوئی کسی کا شریک حال نہیں، ہر شخص اپنے اعمال کو خود ذمے دار ہے

اَپْنی اَپْنی کَرنی آپ پار اُتَرنی

جو مصلحت کے خلاف کام کرے گا اس کا نتیجہ بھگتے گا ، جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا

اپنی عقل اور پرائی دولت بڑی معلوم ہوتی ہے

ہٹ دھرم آدمی اپنی رائے کو دوسروں سے بہتر اور رشک یا حسد میں دوسروں کو اپنے سے زیادہ دولتمند سمجھتا ہے

اپنی بڑائی اپنے ہاتھ ہے

اپنی آبرو اپنے ہاتھ ہے، اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہے

اَپْنی بَیر گھولَم گھالا دُوسرے کی بیر ٹالَم ٹولا

اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد دوسرے کا کام پڑنے پر ٹال مٹول کرنا

اَپْنی بُرائی دُوسرے پر چھائی

ایک کی بلا دوسرے کے سر جا پڑی

اَپْنی چھاچھ کو کوئی کَھٹّا نَہِیں بَتاتا

اپنی چیز کے بارے میں کسی کا اپنا قول معتبر نہیں ہوتا

اپنی چھاچھ کو کوئی کَھٹّا نہیں کہتا

ہر ایک اپنی چیز کو اچھا سمجھتا ہے

اپنی داڑھی سب بجھاتے ہیں

اپنی تکلیف دور کرنے کی کوشش سب کرتے ہیں

اَپْنی ڈَفْلی اَپْنا راگ

سب کی متفرق یا انفرادی آواز، کوشش یا عمل وغیرہ

اَپْنی گانٹھ کا پَیسا پَرایا آسرا کَیسا

جو خود کماتا کھاتا ہے دوسروں کا محتاج نہیں ہوتا

اَپْنی گَلی میں کُتّا بھی شیر ہوتا ہے

اپنے علاقے میں ہر شخص کی جرات و ہمت بڑھ جاتی ہے، بزدل بھی حمایتی کے بھروسے پر بہادر ہو جاتا ہے (ایسے شخص کے لیے بولتے ہیں جو دوسرے کی حمایت کے بل پر دھمکائے یا اینٹھے)

اَپْنی غَرَض باوْلی

غرض کے پیچھے آدمی پاگل سا بن جانا ہے، غرض مندی آدمی کو مجبور کر دیتی ہے

اَپْنی غَرَض کو گَدھے چَراتے ہیں

اپنی ضرورت یا فائدے کے لیے ذلیل سے ذلیل کام کرنا پڑتا ہے

اَپْنی گِرَہ کا کیا جاتا ہے

اُس کا کیا بگڑتا ہے

اَپْنی ہائی اَور پَر گَنْوائی

اپنا قصور دوسرے کے سر منڈھ دیا، اپنی برائی اور پر تھوپ دی

اَپْنی ہائی اَور پَرچھائی

اپنا قصور دوسرے کے سر منڈھ دیا، اپنی برائی اور پر تھوپ دی

اپنی ہائی مرائی کوئی نہیں بھولتا

اپنی مصیبتیں کوئی نہیں بھولتا، اپنا نقصان سب کو یاد رہتا ہے

اپنی عِزت اپنے ہاتھ

دوسرے کو اس بات کا موقع نہ دے کہ وہ اسے ذلیل کرے

اَپْنی کَرنی اَپنی بَھرنی

جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا، نیک اعمال پر جزا اور برے اعمال پر سزا ملے گی

اپنی کرنی پار اترنی

اپنی ہی محنت سے کام پورا ہوتا ہے، اپنے کئے کا پھل ہمیں خود بھوگنا پڑتا ہے

اَپْنی کَرنی پَروان کیا ہِنْدُو کیا مُسَلْمان

اپنے اعمال کی جزا سزا ہر اچھے برے کو ملے گی

اَپْنی کوکھ کا پُوت نَوشادَر

اپنی اولاد سب کو اچھی لگتی ہے

اپنی لِٹّی پر سب آگ رکھتے ہیں

ہر ایک اپنے لئے کوشش کرتا ہے، اپنی روٹی سب سینکتے ہیں یعنی سب اپنا غرض دیکھتے ہیں

اپنی مصلحت ہر شخص خوب جانتا ہے

ہر شخص اپنی بہتری کو سمجھتا ہے، ہر آدمی اپنی کمزوریاں یا پریشانیاں اچھی طرح جانتا ہے

اَپْنی مُونْچھ مُنڈا دُوں

ہار ماننے کا اعتراف کرنا، ہار ماننا(اپنی بات پر زور دینے کے لیے، اس موقع پر مستعمل جب یہ کہنا ہو کہ اگر ایسا نہ ہو (یا ہو) تو مجھے مرد نہ سمجھنا)

اَپْنی ناک کَٹی تو کَٹی پَرائی بَد شُگُونی تو ہو گَئی

اپنا نقصان یا رسوائی ہوئی تو کیا، دشمن کو تو اذیت پہنچ گئی

اَپْنی پِیڑ پَرائی باتیں

انسان اپنے ہی دکھ درد کو محسوس کرتا ہے دوسرے کی تکلیف کا احساس نہیں کرتا

اَپْنی پِیٹھ نَہِیں دِکھائی دیتی

انسان کو اپنے عیب نظر نہیں آتے

اَپْنی پُشْت نَہِیں سُوجْھتی

انسان کو اپنے عیب نظر نہیں آتے

اَپْنی ران کھولنا آپ لاجوں مَرنا

اپنوں کے عیب کھولنے سے خود ہی خفت و ندامت اٹھانی پڑتی ہے، اپنی عزیز چیز کی رسوائی خود اپنی رسوائی ہے

اپنی ٹانگ کھولنا آپ ہی لاجوں مرنا

اپنوں کے عیب کھولنے سے خود ہی خفت و ندامت اٹھانی پڑتی ہے، اپنی عزیز چیز کی رسوائی خود اپنی رسوائی ہے

اَپْنی تو خَبَر لو پِھر دُوسرے کی کَہْنا

دوسرے پر اعتراض کرنے سئ پہلے اپنے عیب پر نظر کرنا ضروری ہے

اپنی تو یہ دیہ بھی نہیں

انسان کا اپنا جسم بھی مالک حقیقی کی ملکیت ہے

اپنی اپنی سب گاتے ہیں

سب اپنی کہنا چاہتے ہیں، کوئی دوسروں کی سننا نہیں چاہتا

ارَنڈ کی جڑ چاکری

نوکری کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا خدا جانے کب چھوٹ جائے (جیسے ارنڈ کی جڑ جو اتنی بودی ہوتی ہے کہ ذرا سی تیز ہوا چلی اور درخت گرا)

اَرے میرے کَرْم جہَاں ٹَٹولا وَہِیں ںَرْم

آج کل تو ہر کام میں قسمت یاورے پر ہے

اَرْہَر کی ٹَٹّی گُجْراتی تالا

گجراتی تالا بہت مضبوط ہوتا ہے اور ارہر کی ٹٹی بہت کچی ہوتی ہے اس کو تالا لگانا فضول ہوتا ہے کیونکہ چور اسے آسانی سے ہٹا سکتا ہے

اَرْزاں بَعِلَّت

چیز اگر سستی ہے اس میں ضرور کچھ نہ کچھ خامی ہوگی (کبھی اس کے ساتھ گراں بحکمت بھی کہا جاتا ہے)

اصل کہے سو داڑھی جاڑ

سچی بات کہے وہ اپنی بے عزتی خود کرائے

اصل کے اصل ہوتے ہیں

شریف کی اولاد شریف ہوتی ہے، اچھے خاندان میں اچھے ہی پیدا ہوتے ہیں

اَسباب میں اَسباب، ایک چنْگ ایک رَباب

عیاش آدمی انجام کار کنگال ہو جاتا ہے

اَشَرْفِیاں لُٹیں اور کوئلوں پر مُہر

بڑے بڑے مصارف ہوتے ہیں اور ذرا ذرا سی باتوں میں جز رسی سے کام لیا جائے (اس شخص کی نسبت بولتے ہیں، جو یوں تو ہزاروں روپے لٹا دے مگر بعض ضروری کاموں میں کم حوصلگی سے کام لے)

اشراف کے لڑکے بگڑتے ہیں تو بھڑوے بنتے ہیں

شریف آدمیوں کے لڑکے برے لوگوں کی صحبت میں پڑ کر جب بگڑتے ہیں تو پھر کسی کام کے نہیں رہتے

اَشْراف پانو پَڑے، کَمِینَہ سَر چَڑھے

شریف کی شرافت کا اثر کمین پر الٹا ہوتا ہے، شریف کی نرمی سے ذلیل شیر ہو جاتا ہے

اَصِیل گھوڑے کو چابُک کی ضَرُورَت نَہِیں

جس طرح اچھے گھوڑے کو مارنے کی ضرورت نہیں پڑتی، اسی طرح اچھے لڑکے کو پڑھنے کے لیے اچھے آدمی کو کام کے لیے تنبیہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی

اَصِیل مُرْغے کی ایک ٹانْگ

اپنی ضد پر قائم، ہٹ پر اڑا ہوا

اصیل مرغی ٹکے ٹکے

اچھی چیز کی قدر نہ ہونا

اصل اصل ہے نقل نقل ہے

اصل اور نقل کی عمدگی اور خوبی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، نقلی چیز اصلی کی برابری نہیں کر سکتی

اصل سے خطا نہیں، کم اصل سے وفا نہیں

شریف کبھی برائی نہیں کرتا اور رذیل کبھی بھلائی نہیں کرتا، جو واقعی اعلیٰ ہے وہ کبھی دھوکا نہیں کھاتا

اَسّی بَرَس کا جَھڈُّو نام مِیاں مَعْصُوم

بوڑھا ہو گیا ارو بچوں کی سی حرکتیں کرتا ہے

اَسّی سائی اَسے بَدھائی

ایک شخص کا امید دلا کر دوسرے سے معاملہ کر لینے کے موقع پر مستعمل

اَسّی لُسّی

بڑھاپے کو ناتوانی اور کمزوری لازم ہے ، بوڑھے آدمی کی حرارت غریزی بہت کم اور رطوبت زیادہ ہوتی ہے .

اَت کا بَھلا نَہ بَرَسنا، اَت کی بَھلی نہ دُھپ، اَت کا بَھلا نَہ بولنا، اَت کی بَھلی نَہ چُپ

ہر چیز کی کثرت بری ہوتی ہے، درمیانی راہ بہتر ہے، میانہ روی خوب ہے

اَت کا بھولا سونجھنا ڈال پات سے جائے

جو حد سے گذرتا ہے نقصان اٹھاتا ہے

اَٹَل ہے

اپنی بات سے نہیں پھرتا، اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا

اٹکا بَنیا سودا دے

یہ کہاوت وہاں کہتے ہیں جہاں کوئی پھنسا ہوا آدمی اپنی غرض کے لئے کوئی کام کرے

اَٹکل پَچُّو غیر مقرر

غیر مستند یا صرف اندازے پر مبنی بات کے لئے کہتے ہیں

اَونْدھا کھائے لَوندا

بے حیا اور بے شرم اپنا کام ہر طرح نکال لیتے ہیں.

اَوندھے مُنہ شَیطان کا دَھکا

کوئی نا پسندیدہ شخص نقصان اٹھائے تو کہتے ہیں کہ اچھی سزا ملی

اَونْدھی کھوپَڑی، اُلْٹی مَت

بے وقوف کے متعلق کہتے ہیں

اَودُھو بَن آئے کی بات ہے

کسی کام میں ایسے راستے سے جس کا گمان تک نہ ہو کامیابی ملنے پر کہتے ہیں

اَودُھو تُجھے دُوارْکا جانے

تم جیسے ہو ہم تمھیں خوب جانتے ہیں۔

اَوگَھٹ چَلے نَہ چَوپَٹ گِرے

جو شخص اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرے نقصان اٹھاتا ہے، جلد بازی سے نقصان ہوتا ہے

اَولاد کی آنچ بُری ہوتی ہے

اولاد کی محبت آدمی کو بیقرار کر دیتی ہے، اولاد کے لیے انسان ہر قسم کی تکلیف برداشت کرتا ہے

اَولْتی کا پانی بَڑَیڑی پَہُنچا

بات کہاں سے کہاں جا پہنچی

اَولْتی کا پانی مَگْری پَر نَہِیں جاتا

سفلہ اور شریف برابر نہیں ہو سکتے

اَولتِیوں بَھنگ چُوادی

سب کو بیوقوف بنادیا، بیوقوفوں کا دڑبا کھول دیا

اَور کے داؤں اَنڈے بَچّے ہَمارے داؤں کُڑُک

دوسروں کو بہت کچھ ملتا ہے ہمیں کچھ نہیں ملتا

اور کی بُھوک نہ جانے، اَپنی بُھوک آٹا سانے

دوسروں کی بھوک کی فکر نہیں اپنے لئے آٹا گوندھتے ہیں

اَور کی کَھٹائی اَپنے آگے آئی

دوسرے کی تکلیف یا ذمہ داری کو خود اٹھانا پڑا

اور کی پُھلّی دیکھتے ہَیں، اَپنا ٹینْٹ نَہِیں نِہارتے

دوسروں کا چھوٹا سا نقص نظر آتا ہے مگر اپنا بہت بڑا نقص بھی نظر نہیں آتا

اَوْروں کو نَصِیْحَت خود مِیَاں فَضِیْحَت

تم اور لوگوں سے تو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنی خبرتک نہیں لیتے (سورت البقرہ)، دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے، خود برے کام کرے اور دوسروں کو نصیحت کرے

اَوسَر چُوکی ڈومْنی گائے تال بے تال

جو وقت پر چوک جائے اسے پچھتانا پڑتا ہے

اَوسَر کا چُوکا آدمی ڈال کا چُوکا بَندَر نَہِیں سَنْبَھلتا

موقع ہاتھ سے جاتا رہے تو پھر کام نہیں بنتا

اَوسَر کی دَوسَر پَڑ جانا

مصیبت پر مصیبت آنا

اوّل مرنا آخر مرنا پھر مرنے سے کیا ڈرنا

خطرے کے کام میں حوصلہ بڑھانے کے لئے بولتے ہیں

اَیانا جانے ہِیا سِیانا جانے کیا

بچہ محبت کو جانتا ہے ہشیار لینے دینے کو سمجھتا ہے

اَز خِرْس مُوئے بَس اَسْت

نا اہل تھوڑی سی بھی صلاحیت کی بات کرے تو بہت ہے، کنجوس اگر کچھ بھی دے نکلے تو کافی ہے

حوالہ جات: ریختہ ڈکشنری کی ترتیب میں مستعمل مصادر اور مراجع کی فہرست دیکھیں ۔

بولیے

Delete 44 saved words?

کیا آپ واقعی ان اندراجات کو حذف کر رہے ہیں؟ انہیں واپس لانا ناممکن ہوگا۔

Want to show word meaning

Do you really want to Show these meaning? This process cannot be undone