آ بَیل مُجھے مار
اپنے ہاتھوں مصیبت میں پڑنے یا مفت کا جھگڑا یا مصیبت مول لینے کے موقع پر مستعمل
آ بُوا لَڑیں
بے وجہ جھگڑا اٹھانے اور چھیڑ چھاڑ کے مواقع پر مستعمل، لڑائی کے لیے تیار
آ پَڑوسَن لَڑ
بے وجہ جھگڑا اٹھانے اور چھیڑ چھاڑ کے مواقع پر مستعمل
آ پَڑوسَن لَڑیں
بے وجہ جھگڑا اٹھانے اور چھیڑ چھاڑ کے مواقع پر مستعمل، لڑائی کے لیے تیار
آئی گئی پار پڑی
جو بات ہو چکی اب اس کا ذکر بیکار ہے، جو ہو چکا سو ہو چکا اس کی فکر فضول ہے
آنکھ بَچے کا چانٹا
لڑکوں میں ایک قسم کی شرط بدی جاتی ہے جو جسے بے خبر دیکھے تڑ سے چانٹا مارے
آنکھ پھوٹی پِیڑ گئی
نقصان تو ہوا مگر جان تو چھوٹ گئی، درد کا صدمہ اٹھانے سے اندھا ہوجانا ہی بہتر ہے
آنت بھاری تو مات بھاری
پیٹ کی خرابی سے بیماری پیدا ہوتی ہے، معدے کی خرابی سے درد سر ہوتا ہے، فتور ہضم سے درد سر ہوتا ہے بد ہضمی سے سر پھرتا ہے
آنول نال گڑی ہے
پیدائش کی جگہ سے چونکہ محبت ہوتی ہے اس لیے کسی ایسے شخص کو جسے کسی جگہ سے محبت ہو یہ کہتے ہیں کہ وہاں کیا تمہاری آنول نال گڑی ہے
آؤ دیکھا نہ تاؤ
موقع محل نہیں دیکھنا، جا بے جا نہیں دیکھا، یہ اس موقع پر کہتے ہیں جب کوئی جلدی سے بے محل کوئی کام کر لے یا کوئی بات کہہ دے
آد ہندو بعد مسلمان
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس ملک میں پہلے تو ہندو ہی رہتے تھے مسلمان بعد میں آئے
آدم آیا دم آیا
آدمی کے آ جانے سے حوصلہ بڑھ جاتا ہے، آدمی کے پیدا ہوتے ہی دَم آنا شروع ہو جاتا ہے یعنی سانس آنے لگتی ہے
آدھے اَساڑھ تو بَیری كے بھی بَرسے
اساڑھ کی آدھی بارش سے تو ہر ایک بہ شمول دشمن بھی فیضیاب ہو جاتا ہے مگر وہ بھی میسر نہیں، نہایت افسوس، مایوسی اور ناکامی کی حالت میں یہ کلمہ زباں پر لاتے ہیں
آدھےمیں مُلّا مَوج آدھے میں ساری فَوج
اس شخص كی بابت كہتے ہیں جو اپنے كو سب سے بڑھ چڑھ كر سمجھے اور بڑے حصے كا مستحق جانے (كہا جاتا ہے كہ ایک قاضی قدوہ نامی كے ستر یا چوراسی بیٹے تھے، اس لیے مبالغے كے طور پر یہ مثل مشہور ہوگئی كہ آدھے ہیں كل اولاد آدم اور آدھے میں قاضی قدوہ كی اولاد)
آدھے قاضی قُدْوَہ اَور آدھے باوا آدَم
اس شخص كی بابت كہتے ہیں جو اپنے كو سب سے بڑھ چڑھ كر سمجھے اور بڑے حصے كا مستحق جانے (كہا جاتا ہے كہ ایک قاضی قدوہ نامی كے ستر یا چوراسی بیٹے تھے، اس لیے مبالغے كے طور پر یہ مثل مشہور ہوگئی كہ آدھے ہیں كل اولاد آدم اور آدھے میں قاضی قدوہ كی اولاد)
آدھی رات اَور گھر كا پروسنے والا
(لفظاً) آدھی رات كا وقت ہو اور بان٘ٹنے والا اپنا تو پھر كیوں نہ فائدہ ہو، (مراداً) خوب فائدہ اٹھاؤ، كوئی پوچھ گچھ كرنے والا نہیں (خاطرخواہ فائدہ اٹھانے كی جگہ مستعمل)
آدمی کی دوا آدمی ہے
آدمی کا جی آدمی سے بہلتا ہے، کیسا ہی رنج و غم ہو چار آدمیوں میں بیٹھ کر دل بہل جاتا ہے
آدْمی نے کَچّا دُودھ پِیا ہے
آدمی سہو سے خالی نہیں، آدمی کی طبیعت میں خامی ہے (جب کسی شخص سے اس کی شان کے خلاف کوئی بات ہو تو اس کی معذرت میں مستعمل)
آفْتاب آمَد دَلِیلِ آفْتاب
سورج کے وجود کے لئے دلیل کی حاجت نہیں، اُس کی روشنی خود ہی دلیل ہے، ایسی بات، جس کے لئے دلیل کی ضرورت نہ ہو، روشن اور واضح بات ہے
آگ کَہْتے مُنھ نَہِیں جَلْتا
بری چیز کا نام لینے سے برائی کا اثر ہوتا ہے، بغیر گناہ کیے فقط زبانی کہنے سے آدمی مجرم نہیں ہوتا (فارسی : فعل کفر نباشد) ، اردو میں مستعمل
آگ کھائے مُنْھ جلے اُدھار کھائے پیٹ
آگ کھانے سے صرف منھ جلتا ہے مگر آگ سے زیادہ قرض سے ڈرنا چاہیے کیونکہ آگ کی سوزش ظاہری جسم کت محدود رہتی ہے اور قرض کی تکلیف سے جی جلتا ہے ، قرض لینا آگ سے جل جانے سے زیادہ تکلیف دہ ہے .
آگ لَگائے تَماشا دیکھے
اس موقع پر بولتے ہیں جب کسی کے متعلق یہ ظاہر کرنا ہو کہ وہ فتنہ فساد برپا یا ایذا پہنچا کر اس تماشے کو دیکھتا ہے
آگ روئی کی کیا دوستی
دو مخالف طبیعتوں کی دوستی کا کوئی اعتبار نہیں، دو جانی دشمنوں کا ملاپ نہیں ہوسکتا
آگے آگے گُرُو پِیچھے پِیچھے چیلا
جہاں کسی اچھے برے کام میں کوئی اپنے بزرگ یا عزیز یا دوست کی پیروی کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ آگے آگے گرو پیچھے پیچھے چیلا، یعنی ان کے بزرگ ہی ایسا کرتے ہیں تو یہ کیوں نہ ایسا کریں
آگے دَوڑ پِیچھے
ایک کام تمام نہ ہوا اور حرص و ہوس میں دوسرا شروع کر دیا ہوس بے جا کے لیے مستعمل
آج گَئے کَل آئے
زیادہ وست نہیں لگایا نہیں لگتا ، چند روز کی بات ہے ، جلد واپس آنے کے موقع پر مستعمل.
آج ہے سو کَل نہیں
روز بروز ابتری ہے، برا وقت آتا جاتا ہے، دنیا میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، جو حالت آج ہے وہ کل نہیں ہوگی
آج مَیں، کل تُو
آج میری باری ہے تو کل تمہاری، بطورِ تنبیہ موت کی نسبت سے کہتے ہیں کہ وہ ضرور آئے گی یعنی سب کو ایک دن اس دنیا سے جانا ہے
آج نہیں کل
یہ امر ناگزیر ایک نہ ایک دن ضرور ہو کر رہے گا
آج سے کل نزدیک ہے
آئندہ زمانے کو دور سمجھ کر اچھے کاموں میں غفلت اور تساہل نہیں کرنا چاہیئے
آج زَبان کُھلی ہے کَل بَنْد ہے
زندگی کا اعتبار نہیں ابھی بھلے چنگے تھے اور ابھی چل بسے (عبرت دلانے، زندگی پر بھروسا نہ کرنےاور اور صداقت و ایمانداری کا یقین دلانے کے محل پر مستعمل)
آخ تُھو کَھٹّے ہَیں
کوشش کرنے پر جب کوئی چیز نہ ملے تو من کو سمجھانے کے لئے اسے برا بتانے لگتا ہے
آلا دے نِوالا
اس موقع پر بولتے ہیں جہاں کوئی دنی الطبع اعلیٰ درجے کو پہنچے مگر فطری دنایت اس کی نہ جائے.
آم مچَھلی کی بھینْٹ ہو ہی جاتی ہے
جب کوئی کسی کو زک دے کر چل دیتا ہے تو زک اٹھانے والا کہتا ہے کہ ’آم مچھلی کا کیا ساتھ نہ ہوگا ‘ یعنی پھر کبھی ملاقات تو ہوگی اس وقت سمجھ لوں گا، اگر آج ہم کو نقصان پہنچا دیا ہے تو کبھی ہم کو بھی اپنا بدلہ لینے کا موقع مل ہی جائے گا (چونکہ مچھلی پکانے میں آم کی کھٹائی دی جاتی ہے اس وجہ سے آم مچھلی کا ساتھ کہا گیا)
آمَدَنی کے سَر سِہرا ہے
آمدنی ہی سے سارا ٹھاٹھ درست ہوتا ہے، عیش و آرام کا مدار آمدنی پر ہے، آمدنی نہ ہو تو کچھ نہ ہو، جس کے پاس پیسہ ہے وہی بڑا آدمی ہے
آنا دال الو بھی ہے
اچھائیوں کے ساتھ برائیاں بھی ہیں، ایک سپاہی نے قرضے میں ایک بنئے کو الو یہ کہہ کر لگا دیا کہ یہ باز ہے، اسے بعد میں معلوم ہوا، تو اسے دکان میں رکھ چھوڑا کہ شاید کوئی خرید لے، کوئی دریافت کرتا کہ دکان میں کیا کیا ہے، تو وہ یہ فقرہ کہہ دیتا
آپ بَھلے اَپنا گَھر بَھلا
اپنا گھر جنّت ہے، لوگوں سے میل جول رکھنے کی مذمت اور الگ تھلگ زندگی گزارنے کی تعریف کے موقع پر مستعمل
آپ ڈُوبے تو جگ ڈُوبا
جب خود ہی تباہ ہو گئے یا مر گئے تو دوسروں کے فائدے اور جینے سے کیا غرض، آپ تباہ ہوئے تو جہان تباہ ہوا
آپ جانیں اور آپ کا کام
میں فہمائش کر چکا آپ خود نیک و بد کے ذمہ دار ہیں، سمجھانے کی حد ہو گئی اب جیسا آپ کے جی میں آئے کیجیے (کام سے بری الذمہ ہونے کے موقع پر مستعمل)
آپ جانیں کا کام
میں فہمائش کر چکا اب آپ خود نیک و بد کے ذمہ دار ھیں، سمجھانے کی حد ہوگئی اب جیسا آپ کے جی میں آئے کیجیے (کام سے بر الذمہ ہونے کے موقع پر مستعمل)
آپ کاج مَہا کاج
اپنا کام دوسرے کے کام سے مقدم ہوتا ہے، ہر شخص پہلے اپنا کام کرتا ہے اس کے بعد دوسرے کا
آپ کاج، مَہا کاج
اپنا کام جتنا اچھا اپنے ہاتھ سے ہوتا ہے ویسا دوسرے کے ہاتھ سے نہیں ہوتا، اپنا کام خود ہی خوب ہوتا ہے
آپ مَرے سنسار ناس
ہمارے بعد دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے ہمیں کیا مطلب، ہم نہیں تو دنیا بھی نہیں
آپ رُوپ مَہارُوپ
اللہ تعالیٰ کا جلوہ سب جلووں کا سردار ہے ؛ انسان درپردہ تجلی الٰہی کا مظہر ہے
آپ سے آئے تو آنے دو
جو چیز خود بخود بلا طلب ملے لے لینی چاہیے، اس موقع پر مستعمل جہاں کسی کا مال بغیر کوشش کے ہاتھ لگے اور لینے والا طمع سے لینے کا ارادہ کرے
آپ سے اَچّھا خُدا
اپنی ذات سے زیادہ عزیز خدا کے سوا کوئی نہیں، اپنی ذات سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے
آپ سے گیا جَگ سے گیا
جو شئے اپنے ہاتھ سے گئی وہ گویا دنیا میں نہیں رہی، اس کی پرواہ یا رنج نہیں ہونا چاہیے
آپ سے خُوب خُدا
اپنی ذات سے زیادہ عزیز خدا کے سوا کوئی نہیں، اپنی ذات سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے
آسا مَرے نِراسا جِیے
امیدوار كی زندگی صدمۂ انتظار سے تلخ ہوتی ہے اس سے تو نومید اچھا كہ اس كو صدمۂ انتظار نہیں اٹھانا پڑتا
آتا آؤ جاتا جاؤ
(آنے جانے والے پر) کوئی پابندی نہیں، کوئی روک ٹوک نہیں، کوئی پروا نہیں آوے یا جاوے
آٹا کٹھوتی میں
خود غرض آدمی کے متعلق کہتے ہیں جسے ہر وقت اپنے مطلب کی سوجھتی ہے
آٹھ بار نَو تیوہار
عیش و آرام کا شوق ایسا بڑھا ہوا ہے کہ زمانہ اور وقت اس کو کفایت نہیں کرنے دیتا
آیا تو نوش نہیں تو فراموش
نہایت قانع ہونا، کچھ مل گیا تو کھا لیا ورنہ فاقے ہی پڑے رہے، قناعت کا درجہ یہ ہی ہوتا ہے، ملا تو کھایا نہیں تو صبر فرمایا
اب کی بَچے تو گھر گھر نَچے
اگر اب بچ جائے تو پھر کوئی خطرہ نہیں، چوسر کی گوٹ اس بار بچ جائے تو پھر بے کھٹکے چلتی رہے گی اور پکی ہو جائے گی
ادھیلا نہ دے ادھیلی دے
گڑ نہ دے بھیلی دے، بیوقوف تھوڑا خرچ کرتا ہے مگر نتیجہ میں اس کا زیادہ نقصان ہوتا ہے، جہاں دینا چاہیئے وہاں نہ دیں
افسوس دل گڑھے میں
کسی چیز کو دیکھ دیکھ کے دل للچائے لیکن بس نہ چلے، خواہش کی عدم تکمیلیت
اَگَھن چُولھے اَدَھن
: اگھن کے مہینے میں اتنی سردی پڑتی ہے کہ ہر وقت پانی چولھے پر رہتا ہے ، (مجازاً)
جیسا وقت ہو ویسا کام ہوتا ہے .
اَگْلا لِیپا دے بَہا اَب لِیپا آگے لا
پچھلا احسان بھلا کر نئے احسان کی خواہش، جب کوئی شخص گزشتہ احسانات پر خاک ڈال کر نئے احسانات چاہتا ہے تو اس جگہ عورتیں طنزاً کہتی ہیں کہ یہ تو وہی مثل ہوئی کہ اگلا لیپا دے بہا اب لیپا آگے لا
اگلے پانی پچھلے کِیچ
جو کام میں پہل کرتا ہے فائدہ میں رہتا ہے، پہلے کو پانی پچھلے کو کیچڑ، جو وقت پر پہنچ جاتا ہے وہی مزے میں رہتا ہے
اَجگَر کے داتا رام
سست اور کاہل کی نسبت بولتے ہیں کہ اس کا خدا ہی حافظ ہے وہی اس کو روزی پہنچاتا ہے
اَکیلا چَنا بھاڑ نَہِیں پھوڑتا
تنہا کوشش کرنے والا کسی دشوار کام کو جو کئی آدمیوں کے کرنے کا ہو سر انجام نہیں دے سکتا، بہت سے لوگوں کے کرنے کا کام ایک آدمی نہیں کر سکتا
اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا
تنہا کوشش کرنے والا کسی دشوار کام کو جو کئی آدمیوں کے کرنے کا ہو سر انجام نہیں دے سکتا، بہت سے لوگوں کے کرنے کا کام ایک آدمی نہیں کر سکتا
اَکیلا چَنا کیا بھاڑ پھوڑے گا
تنہا کوشش کرنے والا کسی دشوار کام کو جو کئی آدمیوں کے کرنے کا ہو سر انجام نہیں دے سکتا، بہت سے لوگوں کے کرنے کا کام ایک آدمی نہیں کر سکتا
اَکیلا حُسْنو روئے کِہ قَبْر کھودے
تنہا شخص جس پر مصیبت کے وقت میں کئی کئی ذمہ داریاں ہوں وہ کس کس کام کو سنبھالے (اس موقع پر مستعمل ہے جب کہ مصیبت اور پریشانی کی حالت میں کام کثرت سے پیش آئیں اور سنبھالنے والا تنہا ہو)
اَلقَرْضُ مِقْراضُ الْمُحَبَّت
قرض دینے لینے سے محبت میں فرق آجاتا ہے، قرض دار اور قرض خواہ کے تعلقات عموماً بگڑ جاتے ہیں، قرض لینے کے بعد آپس میں وہ محبت نہیں رہتی
اَن مِلی کی کُسَل ہے
ملاقات نہ ہو تو ہی اچھا، جب کسی شخص سے ہم دور رہنا چاہتے ہیں تو اس کے متعلق کہتے ہیں
اَناڑی کا سونا بارَہ بانی
اناڑی کا مال کھرا اور قابل اعتماد ہوتا ہے کیونکہ چیزوں میں آمیزش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لئے اس کا مال خالص ہوتا ہے
ان دیکھا چور باپ بَرابَر
جس طرح سالے سے کوئی پردہ نہیں ہوتا وہ گھر میں سب جگہ بے روک ٹوک آ جا سکتا ہے، اسی طرح جس چور کو چوری کرتے نہیں دیکھا اس سے کچھ کہا نہیں جا سکتا اسے گھر میں پوری آزادی رہتی ہے
اَنْدھا دوزخی بَہرا بَہِشتی
اندھے کو اوروں کی طرف سے بددیانتی کا وسوسہ رہتا ہے اور بہرا اپنی اور دوسروں کی برائیاں سننے کے گناہ سے محفوظ رہتا ہے۔
اَنْدھا جِیا بُرے حالوں
اندھے کی زندگی بری طرح کٹتی ہے ، (اُس موقع پر مستعمل جب کسی کے ذرائع محدود ہوں اور گزر بسر مشکل سے ہوتی ہو)۔
اَنْدھا نیوتے دو جَنے آئیں
اندھے کو بلائیں تو دوسرا اس کے ساتھ پہنچانے کے لیے آتا ہے، اُس موقع پر مستعمل جب ایک کو کچھ دیں تو دوسرے کو بھی دینا پڑے ، ایک کا لحاظ کریں تو دوسرے کا بھی لحاظ کرنا پڑجائے۔
اندھے کے حساب دن رات برابر
بیوقوف نیک و بد میں تمیز نہیں کر سکتا، بیوقوف کو اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی کیونکہ اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا
اندھی پیسے کُتّا کھائے
اس کہاوت کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اپنی محنت سے تیار کردہ شے کا استعمال نہ کرسکے اور دوسرے اس سے لطف اندوز ہوں
اَنْدھوں نے بازار لوٹا
ایسا کام کیا جو ممکن نہ تھا، ایسی بات کی جو انہونی تھی (کسی سے نہ ہوسکنے والی بات کے ہوجانے پر اظہار تعجب کی جگہ)
اَن ہوت میں اولاد
غربت میں بہت سے بچے کا ہونا، غریب کثیر الاولاد ہوتا ہے، غریبی میں بہت اولاد کا ہونا اکھرتا یا کھلتا ہے
انجان کی مٹی خراب
ناتجربہ کار ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے، لاعلمی مشکل کی وجہ ہوتی ہے اور اس سے کام نہیں بنتا
اَنت بھلا سو بھلا
آخرت کی بھلائی سب سے بہتر ہے، جس کام کا انجام یا نتیجہ اچھا ہو وہ اچھا ہے ورنہ برا
انت بُرے کا بُرا
برے کا انجام برا ہی ہوتا ہے، جو کسی کا برا کرتا ہے آخر میں خود اس کا برا ہوتا ہے
اَپْنا بھی خُدا ہے
کوئی ساتھ دے یا نہ دے مضائقہ نہیں، خدا ہمارا مالک و مددگار ہے (سب کی طرف سے مایوس ہونے کے موقع مستعمل)
اپنا لینا کیا، پرایا دینا کیا
بد معاملہ نادہندہ کے لئے پھبتی کے طور پر مستعمل ہے یعنی جو آدمی لین دین کے معاملے میں غیر محتاط ہو اس کی نسبت کہتے ہیں
اَپْنے گَھر میں کُتّا شیر ہے
اپنے علاقے میں ہر شخص کی جرات و ہمت بڑھ جاتی ہے، بزدل بھی حمایتی کے بھروسے پر بہادر ہو جاتا ہے (ایسے شخص کے لیے بولتے ہیں جو دوسرے کی حمایت کے بل پر دھمکائے یا اینٹھے)
اَپْنے کئے کو بُھگتنا
اپنے اعمال کی سزا پانا، جیسا کرنا ویسا بھرنا، جیسا کیا ویسا پاؤ، کوئی اس میں کیا کرے
اَپْنے مُوئے رام نَہِیں
جب خود مر گئے تو پھر کسی زند، کے انجام کی کیا فکر، اپنی موت کے بعد زندوں کا حشر جو ہو سو ہو، مترادف: از سرمن کن فیکون شد شد با شد
اَپْنی گَلی میں کُتّا بھی شیر ہوتا ہے
اپنے علاقے میں ہر شخص کی جرات و ہمت بڑھ جاتی ہے، بزدل بھی حمایتی کے بھروسے پر بہادر ہو جاتا ہے (ایسے شخص کے لیے بولتے ہیں جو دوسرے کی حمایت کے بل پر دھمکائے یا اینٹھے)
اَپْنی مُونْچھ مُنڈا دُوں
ہار ماننے کا اعتراف کرنا، ہار ماننا(اپنی بات پر زور دینے کے لیے، اس موقع پر مستعمل جب یہ کہنا ہو کہ اگر ایسا نہ ہو (یا ہو) تو مجھے مرد نہ سمجھنا)
ارَنڈ کی جڑ چاکری
نوکری کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا خدا جانے کب چھوٹ جائے (جیسے ارنڈ کی جڑ جو اتنی بودی ہوتی ہے کہ ذرا سی تیز ہوا چلی اور درخت گرا)
اَرْہَر کی ٹَٹّی گُجْراتی تالا
گجراتی تالا بہت مضبوط ہوتا ہے اور ارہر کی ٹٹی بہت کچی ہوتی ہے اس کو تالا لگانا فضول ہوتا ہے کیونکہ چور اسے آسانی سے ہٹا سکتا ہے
اَرْزاں بَعِلَّت
چیز اگر سستی ہے اس میں ضرور کچھ نہ کچھ خامی ہوگی (کبھی اس کے ساتھ گراں بحکمت بھی کہا جاتا ہے)
اَشَرْفِیاں لُٹیں اور کوئلوں پر مُہر
بڑے بڑے مصارف ہوتے ہیں اور ذرا ذرا سی باتوں میں جز رسی سے کام لیا جائے (اس شخص کی نسبت بولتے ہیں، جو یوں تو ہزاروں روپے لٹا دے مگر بعض ضروری کاموں میں کم حوصلگی سے کام لے)
اصل اصل ہے نقل نقل ہے
اصل اور نقل کی عمدگی اور خوبی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، نقلی چیز اصلی کی برابری نہیں کر سکتی
اَسّی لُسّی
بڑھاپے کو ناتوانی اور کمزوری لازم ہے ، بوڑھے آدمی کی حرارت غریزی بہت کم اور رطوبت زیادہ ہوتی ہے .
اَٹَل ہے
اپنی بات سے نہیں پھرتا، اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا
اٹکا بَنیا سودا دے
یہ کہاوت وہاں کہتے ہیں جہاں کوئی پھنسا ہوا آدمی اپنی غرض کے لئے کوئی کام کرے
اَوْروں کو نَصِیْحَت خود مِیَاں فَضِیْحَت
تم اور لوگوں سے تو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنی خبرتک نہیں لیتے (سورت البقرہ)، دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے، خود برے کام کرے اور دوسروں کو نصیحت کرے