زیادہ تلاش کیے گئے الفاظ

محفوظ شدہ الفاظ

سُکُونِ قَلْب

دل کا اطمینان، طمانینت، آسودگی

خِلْقِیَّہ

جبلی، فطری، خلقی

کِھسیانی بِلّی کَھمبا نوچے

جسے غصہ آرہا ہو وہ دوسروں پر اپنی جھلاہٹ اتارتا ہے، بے بسی میں آدمی دوسروں پر غصہ اتارتا ہے، شرمندہ شخص دوسروں پر اپنی شرمندگی اتارتا ہے، کمزور کی جھنجھلاہٹ

سُرُور

دل و دماغ کی شگفتگی یا سکون بخش کیفیت، خوشی، فرحت، انبساط، کیف، سرشاری

بے حِجابی

بے پردہ ہونا، بے پردگی، گھونگھٹ اٹھا دینا، کھلے بندوں پھرنا (عورت کا)

شَرِیکِ حَیات

زندگی کا رفیق یا ساتھی، مراد: عموماً بیوی یا شوہر

مَشْوَرَت

آپس میں سوچ بچار، صلاح یا رائے کا تبادلہ کرنا، صلاح، مشورہ، کنگاش، باہمی تجویز

سِتَم گَر

(عموماً شعرو شاعری میں) معشوق، محبوب

کوشِش

سعی، دوڑ دھوپ، جدوجہد، محنت، قصد(کرنا کے ساتھ)

بے نِیاز

جو کسی شخص کا محتاج نہ ہو، بے پروا، قاطمع، بے غرض، مستغنی

دِید کے قابِل

دیکھنے کے لائق ، دیدنی

قابِلِ دِید

دیکھنے سے تعلق رکھنے والا، دیدنی

آٹھ بار نَو تیوہار

عیش و آرام کا شوق ایسا بڑھا ہوا ہے کہ زمانہ اور وقت اس کو کفایت نہیں کرنے دیتا

چَمَنِسْتان

ایسا باغ جہاں پھول کثرت سے ہوں، ایسی جگہ جہاں دور تک پھول ہی پھول اور سبزہ سبزہ نظر آئے، گلزار، گلستان، باغ، پھولوں کا قطعہ، سبز کھیت

عَوْرَت

بیوی، زوجہ، اہلیہ، گھر والی

طاغُوت

گمراہ، سرکش، شیطان (جو خدا سے منحرف ہو اور گمراہ کرے)

مَن بھاوَن

جو دل کو اچھا معلوم ہو، جو دل کو بھلا لگے، دلچسپ، دل پسند، پسندیدہ، مرغوب خاطر

دادْرا

موسیقی میں ایک قسم کا چلتا نغمہ، ایک قسم کا گان، ایک تال

مَزدُور

اجرت پر محنت و مشقت کا کام کرنے والا، تجارت اور صنعت کے شعبوں میں جسمانی محنت کا کام کرنے والا، دوسروں کے کھیتوں میں اجرت پر کام کرنے والا، محنت فروش

خَیر اَنْدیش

وہ شخص جو کسی کی بھلائی چاہے، بہی خواہ، خیر خواہ، خیر سگال

ضرب الامثال

یہ ہندوستانی ضرب الامثال کی ایک لغت ہے، جو ریکھتا فاؤنڈیشن کا ایک اقدام ہے۔ اس میں صدیوں پر محیط روایتی کہاوتوں اور محاوروں کا ایک قیمتی مجموعہ شامل ہے جو برصغیرِ ہند کی ثقافت، معاشرے اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ لغت ناقدین، محققین، طلبہ اور زبان و ادب کے شائقین کے لیے ایک نہایت مفید اور قابلِ اعتماد حوالہ جاتی ماخذ کے طور پر کام کرتی ہے۔

مشہور ضرب الامثال

ضرب الامثال کی فہرست

متعقلہ نتائج

مَنْڈھتے بَنے تو خُوب بَجے

۔ مثل۔ کام بن جاتا ہے تو ڈینگ کی سوٗجھتی ہے۔ ؎

مَنْگائی مِسّی، لے آیا مِٹّی

حکم یا فرمائش کے خلاف کام کرنے والے کے بارے میں کہتے ہیں ؛ نہایت بے وقوف ہے

مَنْگْبُو بَھلو نَہ باپ سے جو اِیشَر راکھے ٹیک

اگر خدا تعالیٰ پناہ (توفیق) دے تو باپ سے بھی کچھ مانگنا نہ چاہیے

مَنْگْنی کی چادَر ٹانْکے پَچاس کی آدَر

منگنی کی چادر وہ پچاس لوگوں کو بھینٹ کر رہی ہے

مَنگنی نَہ ٹَنْگنی، گُڑیا کا بِیاہ

شادی یا منگنی کا محض نام ہی ہے ورنہ ایک کھیل سا ہے، وہاں کہتے ہیں جہاں شادی کا نرا آرام ہی آرام ہو

مَنگنی سے مِیٹھی نَہِیں اَور چَوتھی سے کَڑوی نَہِیں

منگنی بہت اچھی چیز ہے، منگنی میں زیادہ مزہ آتا ہے اور چوتھی کی رسم میں اکثر جھگڑا ہو جاتا ہے

ما ایلی باپ تیلی، بیٹا شاخِ زَعْفَران

مجہول النسّب یا کمینے شیخی باز کے حق میں بولتے ہیں اور جب کوئی ادنیٰ فخرِ خاندان ہو جائے تو اس کی نسبت بھی کہا جاتا ہے.

ما بیٹِیوں میں چِھنالا نَہِیں چُھپْتا

پاس رہنے والوں سے عیب نہیں چُھپ سکتا.

ما بیٹوں میں لڑائی ہوئی لوگوں نے جانا بَیر پَڑا

اپنوں کی لڑائی کو لڑائی نہیں سمجھنا چاہیے ، اپنوں کی لڑائی یا خفگی دیرپا نہیں ہوتی۔

ما بَھٹیاری پُوت فَتح خاں

رک: ماں بھٹیاری باپ فتخ خاں الخ۔

ما چِیل باپ کَوّا

کم اصل، دوغلہ.

ما فَقِیْرنی پُوت فَتْحِ خاں

کم قدر، مجہول النسّب یا کم اصل مغرور آدمی کی نسبت کہا جاتا ہے.

ما کے پیٹ سے لے کر کوئی نَہِیں آتا

سیکھا سکھایا کوئی پیدا نہیں ہوتا (کم شوق کی توجّہ، دلچسپی اور حوصلہ افزائی کے لیے کہا جاتا ہے).

ما کے پیٹ سے لے کَرْ نِکَلْنا

سیکھا سکھایا پیدا ہونا، ساتھ لے کر پیدا ہونا، سیکھے بغیر کچھ حاصل کرنا جو محال امر ہے.

ما مارے تو بھی ما ہی پُکارے

اپنوں کی فریاد اپنوں ہی سے کی جاتی ہے، اپنوں کی سختی بھی بُری نہیں لگتی، جس طرح بچّہ ما سے کیسا ہی پٹے مگر ما، ما کہتا جائے گا.

ما مَرے مَوسی جِیے

یعنی ما مر جائے گی تو خالہ پال لے گی یعنی ما اور خالہ میں کچھ فرق نہیں ہے.

ما نَہ ما کا جایا سَبھی لوگ پَرایا

اجنبی مقام کی نسبت بولتے ہیں.

ما پَسَنْہاری بَھلی، باپ ہَفْت ہَزاری بُرا

ماں کی محبّت باپ سے زیادہ ہونے کی نسبت بولتے ہیں، ما تو پسنہاری بھی پرورش کر لیا کرتی ہے باپ خبر بھی نہیں لیتا.

ما ٹینی باپ کَلَنگ، بچّے نِکلے رَنگ بَرَنگ

نالائق کن٘بہ یا خاندان اور بداطوار اولاد کی نسبت کہا جاتا ہے.

مائی باپ کے لاتیں مارے مہری دیکھ جڑائے، چاروں دھام جو پھرے آوے تبہوں پاپ نہ جائے

جو اپنی بیوی کی خاطر ماں باپ کو مارے اگر وہ ساری دنیا کے تیرتھ پھر آئے پھر بھی اس کا گناہ معاف نہ ہو سکے گا

مائِیاں تو بَہُت مِلی ہیں پَر بابُو کوئی نَہیں مِلا

سب کمزور ہی ملے ہیں ، زبردست سے واسطہ نہیں پڑا ؛ اب تک تمھارا پالا کمزوروں سے پڑا ہے کسی طاقت ور کو نہیں دیکھا یعنی شریروں کے سزا دینے والے بھی موجود ہیں

مائِیاں تو بَہُت مِلی ہیں پَر باپُو کوئی نَہیں مِلا

سب کمزور ہی ملے ہیں ، زبردست سے واسطہ نہیں پڑا ؛ اب تک تمھارا پالا کمزوروں سے پڑا ہے کسی طاقت ور کو نہیں دیکھا یعنی شریروں کے سزا دینے والے بھی موجود ہیں

ماں باپ جَنَم کے ساتھی ہَیں، کَرم کے نَہِیں

ماں باپ زندگی میں ساتھ دیتے ہیں آخرت میں کوئی کام نہیں آتا.

ماں باپ جِیتے، حَرام کا نَہِیں کَہْلاتا

اپنے کسی دعوے کا ثبوت دینے کے لئے کہتے ہیں

ماں بَہَن پُنْنا

کسی کی ماں اور بہن کو برا بھلا کہنا ، کسی کی ماں بہن میں عیب نکالنا ، گالیاں دینا۔

ماں بیٹی دو ذات ، پُھوپی بَھتِیجی ایک ذات

لڑکی میں ماں کے بجائے زیادہ تر پھوپی کی عادتیں ہوتی ہیں.

ماں بیٹی گانے والی ، دِھی ڈومنی باپ پُوت بَراتی

بے سرو سامانی کی کیفیت، غریبوں کی شادی کے متعلق کہتے ہیں.

ماں بیٹوں میں لَڑائی ہوئی، لوگوں نے جانا بَیر پَڑا

اپنوں کی لڑائی کو لڑائی نہیں سمجھنا چاہیے، اپنوں کی لڑائی یا خفگی دیرپا نہیں ہوتی

ماں بَھٹِیاری پُوت فَتَح خاں

اپنی حیثیت سے بڑھ جانے والے کو کہتے ہیں

ماں چاہے بیٹَی کو، بیٹِی چاہے مُوئے ڈِھینگ کو

ماں کو جتنی محبت بیٹی سے ہوتی ہے اتنی محبت بیٹی کو ماں سے نہیں ہوتی، شادی کے بعد بیٹی اپنے خاوند کو زیادہ چاہتی ہے.

ماں چھوڑ موسی سے ٹَھٹَھا

مسلمانوں میں مَوسِی یعنی خالہ سے بھی ہنسی دل لگی کرتے ہیں

ماں ڈائِن، باپ اوجھا

نالائقوں کی نالائق اولاد

ماں دھوبَن پُوت بَزاز

ادنیٰ والدین کی اولاد بڑائی کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں

ماں ایلی، باپ تیلی، بیٹا شاخِ زَعْفَران

جب کوئی چھوٹا آدمی بہت دکھاوا کرتا ہے تب طنزاََ کہتے ہیں

ماں فَقِیْرنی پُوت فَتَح خاں

مجہول النسب مغرور شخص ، ادنیٰ والدین کی اولاد بڑائی کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں.

ماں کا مان بَھلا

ماں اولاد کا فخر کرے تو بجا ہے، اولاد کو ماں کی عزت کرنی چاہیے

ماں کا پیٹ کُمھار کا آوا، کوئی کالا کوئی گورا

ایک ہی ماں کے لڑکے الگ الگ رنگ روپ کے ہوتے ہیں اسی پر کہتے ہیں

ماں کا پُوت ساس کا جَنْوائی

جو شخص والدین کا مطیع اور فرمان٘بردار ہوگا وہ ساس کا بھی ادب کرے گا۔

ماں کالی اور اَولاد پَر گالی

ماں کالی ہو تو اولاد بھی بلاوجہ بُری تصور کی جاتی ہے.

ماں کَہے میرا ہوا بڈیرا ، عُمْر کَہے میں آئی نبیڑا

جب بچّہ جوان ہوتا ہے ماں خوش ہوتی ہے حالانکہ اس کی عمر کم ہوجاتی ہے جو خوشی کی بات نہیں ہے.

ماں کے گَھر بیٹی گُودَڑ لپیٹی

والدین بیٹی سے زیادہ بیٹوں کو چاہتے ہیں، بیٹی کی قدروالدین سے زیادہ سسرال میں ہوتی ہے.

ماں کے پیٹ سے سِیکھ کَر کوئی نَہِیں آتا

ہر شخص کو سیکھنا پڑتا ہے، پیدائشی عالم کوئی نہیں ہوتا

ماں کھیت میں، پُوت جَنیت میں

ماں کھیت میں اور بیٹا برات میں، ادنیٰ ماں کا اعلیٰ بیٹا

ماں کی سوت نَہ باپ کی یاری، کسی ناتے کی تُو مَنہاری

(عو) کوئی خواہ مخواہ کارشتہ جتائے تو کہتی ہیں کہ ترا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے.

ماں کو نَہ باپ کو جو بَنے گی سو آپ کو

ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا آپ ذمہ دار ہے ، کوئی کسی کی بات کا ذمہ دار نہیں ہے.

ماں مارے اور ماں ہی پُکارے

اپنوں کی سختی بھی بری نہیں معلوم ہوتی، اپنا کتنی ہی سختی کرے اپنا ہی کہلائے گا

ماں مَرے بَغَیر کَفَن، بیٹے کا نام بُقچی

گپیّ کی نسبت کہتے ہیں کہ پلّے کچھ نہیں مگر شیخی بہت.

ماں مَرے مَوسی جِیے

خالہ کے متعلق زیادہ پیار دکھانے کو کہتے ہیں

ماں نَہ ماں کا جایا، سَبھی لوگ پَرایا

اجنبی مقام پر بولتے ہیں جہاں کوئی بھی اپنا واقف کار نہ ہو

ماں پنہاری، باپ کنجر، بیٹا مرزا سنجر

مجہول النسب شخص معزز ہونے کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں

ماں پِسَنْہاری باپ کَنجَر، بیٹا مِرزا سَنْجَر

بیٹا ماں باپ سے بڑھ کر نکلا، جب کوئی ادنیٰ شخص اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں

ماں پِسَنْہاری بَھلی، باپ ہَفْت ہَزاری بُرا

ماں غریب بھی ہو تو اولاد کو پال لیتی ہے لیکن باپ امیر بھی ہو تو اتنا نہیں کر سکتا

ماں پسنہاری پوت چَھیلا، چوتڑ پر باندھے بُور کا تھیلا

غریب کا بیٹا بانکپن دکھائے یا شیخی مارے تو کہتے ہیں

ماں رووے تَلوار کے گھاؤ سے، باپ رووے تِیر کے گھاؤ سے

باپ کی نسبت ماں اپنے لڑکے کی بدسلوکیوں اور بدتمیزیوں کو زیادہ صبر و تحمل سے برداشت کرتی ہے

ماں سے لے کر کون آیا ہے

سب سکھائے ہی سیکھتے ہیں

ماں سے زیادہ چاہے سو ڈائِن

رک : ماں سے زیادہ چاہے پھا پھا کٹنی کہلائے.

ماں باپ کو بُرا کَہْوانا

بزرگوں کو پُنوانا.

مانگ جانچ کے گَئے جھانْجھا ، مانگ لیں تو لَگے لاجا

اگر دے دیں تو غصہ آئے ، اگر واپس لے لے تو شرم آئے ، اس کے متعلق کہتے ہیں جو کوئی چیز مجبوراً دے .

مانْگا پُوت پَڑوسی بَرابَر

گود لی ہوئی اولاد سگی اولاد جیسی نہیں ہوسکتی.

مانگے ہَڑ، دے بَہیڑا

کچھ کہنا کچھ سننا، حکم کے برعکس کام کرنا

مانگے ہڑ، وے بہیڑا

سوال دیگر جواب دیگر، ایک کچھ کہے دوسرا کچھ

مانگے کا تانگا بُڑھیا کی بَرات

پرائی چیز پر شیخی مارنے والے کے حق میں بولتے ہیں

مانگے کے منگنی گڑیا کا سنگار

اس وقت کہتے ہیں، جب کوئی پرائی چیز مانگ کر استعمال کرے اور اس پر اترائے

مانگے کی مَنگتی گُڑْیا کا سِنْگار

اس وقت کہتے ہیں جب کوئی پرائی چیز مانگ کر استعمال کرے اور اس پر اِترائے .

مانگے میں تانگا

خود تو مانگیں اور دوسروں کو عاریۃً دیں ۔

مانْگے تانْگے کام چَلے تو بیاہ کَرے بَلا سے

اگر آسانی سے کام نکل جائے تو محنت کی کیا ضرورت ہے

مانگے تانگے ٹُکْرے پَر بازار میں ڈَکار

غیروں کی امداد اور سہارے پر شیخی ظاہر کرنا ، دوسروں کی امداد پر اکڑنا.

مانگی دھاڑ ہے

لوگ متفرق اِدھر اُدھر کے جمع ہو گئے ہیں کام دینے والے نہیں ، غیر منظم جمعیت ہے ، سلیقے سے کام نہیں کرسکتی .

مانس بنا سب ساگ

گوشت نہ ہو تو باقی کھانے گھاس ہیں

مانس سَب کھاتے ہَیں ہاڈ گَلے میں کوئی نَہِیں بانْدْھتا

لائق کو سب پسند کرتے ہیں ، نالائق کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا.

مادَھو آیا اور خاکی سَمایا

خاموشی سے نیک کام کر جانا ، نیکی کرکے غائب ہوجانا ؛ شہرت و صِلہ سے بے نیاز ہوکر نیک کام کرنا.

مادَھوکا دین نَہ اودھو کا لین

کسی سے کچھ مطلب نہ رکھنا، سب جھگڑوں سے الگ بے فکر رہنے کی جگہ مستعمل

ماگھ کا جاڑا جیٹھ کی دُھوپ، بَڑے کَشْٹ سے اُپجے اُوکھ

ماگھ میں سردی کے باعث اور جیٹھ میں گرمی کی وجہ سے درخت یا گنا بہت مشکل سے اُگتا ہے

ماگھ نَنْگی بَیساکھ بُھوکی

بہت غریب ، سدا مفلس ، سردی میں پہننے کو کپڑا نہیں ملتا اور گرمی میں پیٹ بھر کر کھانے کو نہیں ملتا .

ماگھ تَلاتَل باڑھے، پھاگُن گوڑے کاڑھے

ماگھ کے مہینے میں سردی کی وجہ سے ان٘سان سکڑ کر سوتے ہیں، پھاگن میں گھٹنے پھیلا لیتے ہیں

ماگھے جاڑ نَہ پُوسے جاڑ

ماگھ اور پوس کے مہینے میں جب ہوا چلتی ہے تبھی سردی پڑتی ہے

ماگھے جاڑ نہ پوسے جاڑ، بتا سے جاڑ

ماگھ یا پوس میں سردی نہیں ہوتی بلکہ ہوا چلنے سے سردی ہوتی ہے

ماہ ہی ماہ، نَہِیں اَگلے ماہ

آم کا پھل اگر وقت پر نہ ہو تو پھر اگلے برس ہوگا.

ماہ میں کَکوڑے

بے وقت اور بے موسم کوئی چیز نہیں ملتی.

مال کا مُنہ کَرْتا ہے، جان کا مُنہ نَہیں کَرْتا

بخیل کی نسبت کہتے ہیں کہ مال کے مقابلے میں جان کی پروا نہیں کرتا یعنی چمڑی جائے دمڑی نہ جائے

مال کا نُقْصان جان کی خَیر

اس وقت کہتے ہیں جب مال کا نقصان ہو کر جان بچ جائے

مال کے نقصان میں جان کی خیر

جب کسی کا نقصا ن ہو جائے تو اس کی تسلی کے لیے کہتے ہیں کہ مال جا کر جان بچ جائے تو بہتر ہے

مال کی خاطِر پَہاڑ اُٹھاتے ہیں

مال کے لیے مشکل سے مشکل کام کا ذمہ لیتے ہیں .

مال لُٹے سَرْکار کا مِرزا کھیلے ہولی

خرچ کسی کا مزے کوئی اڑائے، بد دیانتی سے دوسرے کے روپے پر مزے اُڑانا یا عیش کرنا، دوسروں کے مال کو برباد کر کے آپ لذت اٹھانا

مال لُٹے سَرْکار کا، مِرْزا کھیلیں پھاگ

بد دیانتی سے یا پرائے روپے پر مزے اُڑانا یا عیش کرنا، اوروں کے مال کو برباد کر کے آپ لذت اٹھانا

مال مُوذی نَصِیب غازی

۔مثل ۔بخیل کامال ملنے کے لئے مستعمل ہے۔سچ کہاہےکسی نے۔؎

مال پَر زَکواۃ ہے

آمد پر خرچ موقوف ہے ، آمدنی پر ہی خیرات منحصر ہے ، ہوت پر جوت ہے .

مالِ عَرَب پیشِ عَرَب

اپنا مال اپنی آنکھوں ہی کے سامنے اچھا رہتا ہے، اپنا مال اپنے ہی قبضے میں رہے تو اچھا ہے

مالِ حَرام بُوَد بَجائے حَرام رَفْت

۔(ف) مثل۔اس محل پر بولتے ہیں جب حرام کا کمایا ہوا مال ضائع ہوجائے یا ناجائز جگہ خرچ ہو۔

مالِ مُفْت دِلِ بے رَحْم

اس موقع پر بولتے ہیں جب پرایا مال بے دریغ خرچ کیا جائے یا مفت کا روپیہ بے دردی سے صرف کیا جائے

مالی کے پُھول ڈالی میں

جو چیز جہاں کی ہو وہیں اچھی معلوم ہوتی ہے۔

مالِک زِنْدَہ مال مِیراث

کوئی زندگی میں ہی جائیداد سے محروم کردیا جائے یا بدمعاش رو برو ہی لوٹ کر کھا جائے تو کہتے ہیں، بدتماش کا کسی کو زبردستی لوٹ یا ٹھگ لینا۔

ماما بَن کَمائِیے اور بِیوی بَن کھائِیے

خود کام کرو اور اس کا پھل پاؤ ، نوکر بھی خود آقا بھی خود۔

مان کا آنکَس گیان ہے

علم سے اعتقاد اور یقین پیدا ہوتا ہے.

مان کا پان بَھلا

رک : مان کا پان بھی بہت ہوتا ہے.

مان کا پان بھی بَہُت ہے

عزّت کے ساتھ تھوڑا ملنا بھی بہت ہے، عزت کی تھوڑی چیز بھی اہم ہے

مان کا پان بھی غَنِیمَت ہے

عزت کے ساتھ تھوڑا ملنا بھی بہت ہوتا ہے ؛ تھوڑا سا پوچھ لینا بھی غنیمت ہے ۔

مان کا پان ہِیرا سَمان

عزت سے ملی ہوئی تھوڑی چیز بھی ہیرے کے برابر ہے.

مان کا زَہْر اور اَپْمان کا لَڈُّو

عزت کا زہر ذِلّت کے لڈّو سے بہتر ہے.

مان نَہ مان مَیں دُولھا کی چَچی

خواہ مخواہ رشتہ جتانا، زبردستی کسی کا رشتہ دار بننا

مان نَہ مان مَیں تیرا مِہْمان

بے بلائے کسی کے یہاں جانے، خواہ مخواہ کسی کی بات میں دخل دینے یا زبردستی کسی کام میں شریک ہونے والے کے لیے بولتے ہیں

مانس کے سے ہاتھ پاؤں مانس کی سی کایا، چار مہینے برکھا بیتی چھپر کیوں نہیں چھایا

یہ وہ دوہرہ ہے جو بئے نے بندر سے کہہ کر اپنا گھوسلا برباد کرایا تھا

مانو تو دیو نَہیں تو بھیت کالیو

رک : مانو تو دیوتا الخ.

مانو تو دیوی نَہ مانو تو پَتَّھر

اعتقاد ہی سے کسی کی عزت و حرمت کی جاتی ہے ، اگر اعتقاد نہیں تو کچھ بھی نہیں.

مانو تو دیوْتا نَہ مانو تو پَتَّھر

اعتقاد ہی سے کسی کی عزت و حرمت کی جاتی ہے ، اگر اعتقاد نہیں تو کچھ بھی نہیں.

مانو تو دیوْتا نَہیں مانو تو پَتَّھر

اعتقاد ہی سے کسی کی عزت و حرمت کی جاتی ہے ، اگر اعتقاد نہیں تو کچھ بھی نہیں.

مانو تو اِیشَر نَہ مانو تو پَتَّھر

اعتقاد ہی سے کسی کی عزت و حرمت کی جاتی ہے ، اگر اعتقاد نہیں تو کچھ بھی نہیں.

مانو تو ٹھاکُر نَہ مانو تو پَتَّھر

اعتقاد ہی سے کسی کی عزت و حرمت کی جاتی ہے ، اگر اعتقاد نہیں تو کچھ بھی نہیں.

مانُس کے پَہچاننے کو مُعامَلَہ کَسَوٹی ہے

جو معاملے میں ٹھیک نکلا وہ بھلا مانس ہے

مانُس کی پَہچان کو مُعامَلَہ کَسَوٹی ہے

جو معاملے میں ٹھیک نکلا وہ بھلا مانس ہے

ماپا کَنّیا اور پَٹواری، بھینٹ لِیے بِن کَریں نَہ یاری

پیمائش کرنے والا مال گزاری تشخیص کرنے والا اور پٹواری بغیر رشوت لیے کام نہیں کرتے

ماپا شورْبَہ اَور گِنی ڈَلْیاں

کھانے پینے کی چیزوں کی کمی؛ کفایت شعاری، سوچ سمجھ کر خرچ کرنا، خِسّت.

مَعقُول می شَوَند چُو مَعزُول می شَوَند

(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) جب لوگ اپنے عہدے سے ہٹا دیے جاتے ہیں تو انہیں عقل آجاتی ہے یا انسان جب اپنے عہدے پر نہیں رہتا اس میں انسانیت آجاتی ہے

مار دھاڑ گُسَیّاں تیری آس

رک : مار پیٹ گُسیاں الخ .

مار گزیدہ از ریسماں می ترسد

سانپ کا کاٹا رسی سے ڈرتا ہے، دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے

مار گُسَیّاں، توری آس

نوکر مالک کو یا بیوی خاوند کو کہتی ہے کہ جتنا چاہے مار لے میں تو تیرے بھروسے پر ہوں

مار کے آگے بَنْدَر ناچے

رک : مر سے بھوت بھاگتا ہے .

مار کے آگے بُھوت بھاگے

مار کے آگے سب سرکشی اور شرارت دور ہو جاتی ہے

مار کے آگے بُھوت بھاگْتا ہے

مار سے بھوت بھاگتا ہے، مار کے آگے سب سرکشی اور شرارت دور ہو جاتی ہے، مار سے ہی شریر درست ہوتے ہیں

مار کے آگے بُھوت ناچے

رک : مار سے بھوت بھاگتا ہے .

مار کے آگے سَنوار ، جُوتی سے سِیدھا ہُوا گَنوار

کہا جاتا ہے کہ سختی اور سزا سے سرکشوں کی اصلاح ہو جاتی ہے ، مار سے سرکشی اور بداطواری دور ہو جاتی ہے .

مار کھاتا جائے اور کَہے ذَرا مارو تو سَہی

بزدل اور بے شرم کے لئے کہتے ہیں

مار پِیچھے بید

لڑائی کے بعد انتقام لینا مشکل ہے ؛ کام نکل گیا ، اب کیا ضرورت ہے .

مار پِیٹ گُسَیّاں تُوری آس

نوکر مالک کو یا بیوی خاوند کو کہتی لے کہ مالک تو جتنا چاہے مجھے مارلے میں تو تیرے بھروسے پر ہوں ، ہر حال میں بھروسا کرنا .

مار سے بُھوت بھاگْتا ہے

مار کے آگے سب سرکشی اور شرارت دور ہو جاتی ہے .

مارا مُنْھ طَباق آگے دَھرا نَہ کھائے

مارے ہوئے آدمی کا کھانے کو بھی دل نہیں چاہتا ۔

مارے آپ لَگاوے تاپ

آپ کرے دوسرے کے سر تھوپے .

مارے مَرے نَہ کاٹے کَٹے

مشکل کام جو ختم ہونے ہی کو نہ آئے، ایسا شخص جس سے پیچھا چُھڑانا مشکل ہو

مارے میہَر اور بھاگے پَڑوسَن

کوئی عورت پِٹ رہی ہے اور پڑوسن بھاگتی ہے کہ کہیں میں بھی نہ پِٹ جاؤں

مارے نَہ چُوہی، نام فَتح خاں

ڈینگ ہانکنے والے سے کہتے ہیں

مارے نہ کُوٹے دِل ہی دِل میں گھونٹے

در پردہ کسی کو اذیّت دے کر سیدھا کرنا، پسِ پُشت کسی کو تکلیف پہنچا کر سدھارنا

مارے سے پَدایا اَچّھا

دھمکی سے کام نکال لینا چاہیے

مارے سے ٹَکا پَیدا ہوتا ہے

محنت سے روپیہ حاصل ہوتا ہے

مار مار کر ستی کرنا

زبردستی کام کرانا

مارْنے والے سے جِلانے والا بَڑا ہے

خدا کی حفاظت دشمنوں کی مخالفت پر غالب ہے

مارتے کا ہاتھ پَکڑا جا سَکتا ہے کَہتے کا مُنْہ نَہیں پَکڑا جاتا

بدزبان کی زبان نہیں روکی جا سکتی ، کسی کو کوئی بات کہنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔

مارتے کا ہاتھ پَکڑا جاتا ہے کَہتے کی زَبان نَہیں پَکْڑی جاتی

بدزبان کی زبان نہیں روکی جا سکتی ، کسی کو کوئی بات کہنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔

مارتے کے ہاتھ پکڑے جاتے ہیں کہتے کا منہ نہیں پکڑا جاتا

بد زبان کی زبان نہیں روکی جاسکتی، کسی کو کوئی بات کہنے سے نہیں روکا جاسکتا

مارْتے کے پِیچھے بھاگْتے کے اَگاڑی

۔مثل۔ببزدل کے متعلق مستعمل ہے۔

مارْتے خاں سے سَب ڈَرْتے ہیں

ظالم سے سب ڈرتے ہیں ۔

ماروں گُھٹنا پُھوٹے آنکھ

مارا تو گھٹنے میں سوچ کر مگر آنکھ پھوٹ گئی یعنی جب کرنا ہو کچھ اور ہو جائے کچھ

ماس بِنا سَب گھاس رَسوئی

گوشت کے بغیر سب کھانا ساگ سبزی کی طرح ہے، گوشت کھانے والوں کا کہنا

ماس کھائے ماس بَڑھے اَنّ کھائے اوجھڑی

گوشت کھانے سے آدمی فربہ ہوتا ہے اور اناج کھانے سے پیٹ بڑھتا ہے

ماس کھائے ماس بڑھے، گھی کھائے بل ہوئے، ساگ کھائے اوجھ بڑھے بوتا کہاں سے ہوئے

گوشت کھانے سے گوشت بڑھتا ہے، گھی کھانے سے طاقت آتی ہے، ساگ کھانے سے پیٹ بڑھتا ہے مگر طاقت نہیں آتی

مَعْشُوق کی ذات بے وَفا ہے

معشوق وفادار نہیں ہوتے

ماٹ کا ماٹ ہی بِگڑا ہے

سب کے سب ایک جیسے خراب ہیں، گھر یا سماج کے لوگوں کے لئے کہتے ہیں

ماٹ کَلاٹ بِگْڑا ہے

سب کی عقل جاتی رہی یا سارے خاندان کو داغ لگا، سب کے سب بیوقوف ہوگئے ہیں.

مات کَرْدَم مات کَرْدَم کَس تُرا، ناک کاٹُوں کان کاٹُوں سے چُھرا

بیت بازی میں جو لڑکا جیت جاتا ہے وہ اپنے حریف کے ذلیل کرنے کے لیے کہتا ہے کہ میں نے تم کو شکست دے دی ہے اب تیری ناک اور کان کاٹوں گا.

مات کَرْدَم مات کَرْدَم مَن تُرا، ناک کاٹُوں کان کاٹُوں لے چُھرا

بیت بازی میں جو لڑکا جیت جاتا ہے وہ اپنے حریف کے ذلیل کرنے کے لیے کہتا ہے کہ میں نے تم کو شکست دے دی ہے اب تیری ناک اور کان کاٹوں گا.

مات الْمُفْتی ماتَ الْفَتْویٰ

مفتی مر گیا فتویٰ مر گیا، یعنی مرنے والے کے ساتھ اس کی بات ختم ہو جاتی ہے، جس کا دور ہوتا ہے اس کی بات چلتی ہے

ماتھ منڈا کے پھجیہت بھئے، جات پانت دونوں سے گئے

فقیر ہو کر خیال تھا کہ مزے سے گزرے گی، مگر کہیں کے بھی نہ رہے، ہندوؤں میں جو شخص ایک دفعہ فقیر ہو جائے پھر وہ اپنی ذات میں واپس نہیں آسکتا

ماتھے کا منڈانا بیل کا کھسنا

سر منڈاتے ہی اولے پڑے

ماتھے پَر موٹری، بَسَنْت کے گِیت

سر پر تو گٹھری ہے اور بنست کے گیت گاتی ہے

مایا گَنْٹھ اور بِدّیا کَنْٹھ

روپیہ اپنے قبضے میں ہونا چاہیے اور علم دماغ میں

مایا ہُوئی تو کیا ہُوا ہَرْدا ہُوا کَٹھور، نَو نیزے پانی چَڑھ تو بھی نَہ بِھیگی کور

دولت مند کا دل اگر پتھر ہے تو کسی کام کا نہیں ، کنجوس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا

مایا ہُوئی تو کیا ہُوا ہَرْدا ہُوا کَٹھور، نَو نیزے پانی چَڑھا تو بھی نَہ بِھیگی کور

دولت مند کا دل اگر پتھر ہے تو کسی کام کا نہیں ، کنجوس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا

مایا کا کیا جوڑنا، کَھل کھانا، کَمبَل اوڑھنا

کنجوس کے متعلق کہتے ہیں جو تکلیف اٹھا کر روپیہ جمع کرتا ہے یعنی ایسی دولت جمع کرنے کا کیا فائدہ کہ کھانے پہننے کو بھی ترسے

مایا کے بھی پاؤں ہوتے ہیں، آج میرے کَل تیرے

دولت کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی، آج ایک کے پاس ہے تو کل دوسرے کے پاس

مایا کے لَمْبے لَمْبے ہاتھ

دولت کی رسائی بہت دور تک ہوتی ہے ، دولت سے پہنچ میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔

مایا کے تِین نام، پَرْسا، پَرْسُو، پَرَسْرام

انسان کی عزت دولت کی وجہ سے ہوتی ہے ، جب غریب تھا تو لوگ پرسا کہتے تھے ، جب ذرا حیثیت بنی تو پرسو کہنے لگے ، جب دولت مند ہوگیا تو پرسرام کہلانے لگا ۔

مایا کو مایا مِلے کَر کے لَمْبے ہات، تُلْسی داس غَرِیب کی کوئی نَہ پُوچھے بات

امیر سے امیر بہت اچھی طرح ملتا ہے مگر غریب آدمی کو کوئی پوچھتا بھی نہیں

مایا مَری نَہ مَن مَرے مَر مَر گَئے سَرِیر، آسا تِرِشْنا نا مَرے کَہہ گَئے داس کَبِیر

نہ تو قدرت مرتی ہے نہ دل نہ خواہش نہ اُمید ، بدن مر جاتا ہے امیدوار پیاسا رہ جاتا ہے

مایا مِلی نَہ رام

نہ دنیا ملی ، نہ دین ملا ، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ، نہ یہ ہاتھ آیا نہ وہ ملا ۔

مایا تیرے کے تین نام، پرسو، پرسا، پرسرام

انسان کی عزت و دولت کی وجہ سے ہوتی ہے، جب غریب تھا لوگ پرسو کہتے تھے، جب ذرا حیثیت بنی تو پرسا کہنے لگے، اور جب دولت مند ہوگیا تو پرسرام کہلانے لگا

مَعْزُول شَوَنْد مَعْقُول شَوَنْد

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) معزول ہو کر ٹھیک ہو جاتے ہیں نہیں تو نشہ چڑھا رہتا ہے

مَچَّھر چھانْٹے اور اُونْٹ نِگَل جائے

تھوڑے میں راست بازی اور بہت میں بے ایمانی

مَچھْلی اَپنی جان سے گَئی ، کھانے والوں کو مَزا نَہ آیا

رک : مرغی اپنی جان سے گئی ، کھانے والوں کو مزا نہ آیا ، جو زیادہ مستعمل ہے ۔

مَچھْلی کا کھانا ہَر نِوالے تُھو

بہ مجبوری کوئی ناگوار کام کرنے کے موقع پر کہتے ہیں

مَچھْلی کے بھی پِتّا ہوتا ہے

بے کس و مظلوم کو بھی بعض وقت غصہ آ جاتا ہے

مَچْھلی کے جائے کو تَیرنا کَون سِکھائے

لیاقت مند خود ہوشیار ہوتے ہیں، انہیں تعلیم کی حاجت نہیں ہوتی

مَچْھلی سارے جَل کو گَنْدَہ کَرْتی ہے

جماعت میں ایک شخص خراب ہو تو پوری جماعت بد نام ہوتی ہے ، گھر کے ایک فرد کی بداعمالی سے پورا گھرانا رسوا ہوتا ہے .

مَچْھلی سارے تالاب کو گَنْدَہ کَرْتی ہے

جماعت میں ایک شخص خراب ہو تو پوری جماعت بد نام ہوتی ہے ، گھر کے ایک فرد کی بداعمالی سے پورا گھرانا رسوا ہوتا ہے .

مَچْھلی تو نہیں کہ سڑ جائے گی

۔اکثر اوقات بیٹی کی شادی کی نسبت بولتے ہیں یعنی ایسی جلدی کیا پڑی ہے جب کہیں اچھا برملے گا کردیں گے۔

مچھلیاں تو نہیں کہ سرا جائینگی

ایسی کیا جلدی ہے، عموماً بیٹی کی شادی کے متعلق کہتے ہیں

مَگَر وہ بات کَہاں مَولوی مَدَن کی سی

اگرچہ بہت محنت اور کوشش سے نقل اتاری ہے لیکن پھر بھی نقل میں اصل کی سی خوبی نہیں ، نقل تو اتاری مگر اصل جیسی نہیں ۔

مَگّھا میں مَرْنا، اَگْلے جَنَم میں گَدھا بَننا

بعض ہندوؤں کا اعتقاد ہے کہ جو مگدھ میں مرے وہ گدھے کی زون میں پیدا ہوتا ہے

مَگھّا دیش کنچن پوری، دیس اچھا بھاکا بُری

مگدھ دیس اور کنچن پوری کا علاقہ تو اچھا ہے مگر زبان خراب ہے

مَغْز کو لَگی تو ایڑِیوں میں بُجھی

بہت ناگوار گزرنا ، بہت زیادہ غصہ آنے کے محل پر مستعمل ۔

مَہ نَو می شَوَد ماہِ تَمام آہِستَہ آہِستَہ

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) نیا چاند آہستہ آہستہ پورا ہوجاتا ہے ، ہر ناقص ترقی کرتے کرتے کامل ہو جاتا ہے ، کسی کو کمال رفتہ رفتہ حاصل ہوتا ہے

مہ نور می فشاند و سگ بانگ می زند

چاند نور برساتا ہے اور کتا بھونکتا ہے، حاسد اور بد خواہ غل مچاتے رہتے ہیں اور کام کرنے والے کام کرتے رہتے ہیں

مَہْنگا روئے ایک بار، سَسْتا روئے بار بار

قیمتی چیز میں کوئی عیب نہیں ہوتا اس لیے وہ دیر سے خراب ہوتی ہے ، سستی چیز ناقص ہونے کے سبب بار بار خراب ہوتی رہتی ہے ؛ رک : سستا روئے باربار ، مہنگا روئے ایک بار

مَہاوَٹ بَرسی اور ساڑھی سَرسی

ماگھ کے مہینے میں بارش ہو تو ربیع کی فصل بہت بڑھتی ہے

مَحَلّے میں آئی بَرات، پَڑُوْسَن کو لَگِی گھَبْرَاہَٹ

فضول میں پریشان ہونا جبکہ کوئی مطلب نہیں

مہینہ پُرایا اور کمیرا گھبرایا

مہینہ پورا ہوتے ہی مزدور کو تنخواہ ملتی ہے اس لئے وہ خوش ہوتا ہے اور وقت پر نہ ملے تو گھبرانے لگتا ہے

میں اور میرا مانس تیسرے کا منہ بھلس

نہایت خود غرضی کے موقع پر کہتے ہیں

مَیں بَھلی کہ پَینٹھا

کون زیادہ بے وقوف ہے

مَیں بَھلی تُو شاباش

ایک دوسرے کی تعریف

مَیں بَھرُوں سَرکار کے، میرے بَھرے سَقَّہ

جو شخص خود تو کسی کی خدمت کرے مگر اپنا کام دوسروں سے کرائے اس کے متعلق کہتے ہیں

مَیں ڈال ڈال، تُو پات پات

میں تجھ سے کم چالاک نہیں ، مجھ سے بچ کر نہیں جاسکتا ۔

مَیں دُوسْرا میرا بھائی تِیسْرا حَجّام نائی

اس موقع پر مستعمل ہے جب کوئی شخص (عموماً دعوت میں) بہت سے آدمی اپنے ساتھ لے کر آئے اور یہ ظاہر کرے کہ میرے ساتھ تو بہت کم آدمی ہیں

مَیں ہی پال کِیا مُسٹَنْڈا موہے ہی مارے ڈَنْڈا

ماں نافرمان بیٹے کے متعلق کہتی ہے کہ میں نے اسے پال پوس کر بڑا کیا ہے اور اب یہ مجھے مارنے آیا ہے

مَیں ہُوں اَیسی چاتُر گِیانی چاتُر بَھرے میرے آگے پانی

میں اتنی چالاک ہوں کہ دوسرے چالاک میری خدمت کرتے ہیں ، اپنی ہوشیاری اور چالاکی ظاہر کرنے کے موقعے پر کہتے ہیں

مَیں کَرُوں بَھلائی، تُو کَرے میری آنْکھ میں سلائی

اس موقع پر بولا کرتے ہیں جب کوئی شخص کسی کے احسان کرنے کے عوض اس کے ساتھ بدی کرے

مَیں کے گَرْدَن میں چُھری

غرور سے اسی طرح گردن کٹتی ہے جس طرح بکری کی گردن

میں کی گردن میں چھری

مغرور ہمیشہ تباہ ہوتا ہے

مَیں مَیں نَہ جانوں

کام بگڑے یا سنورے مجھ پر الزام نہیں ، میں بری الذمہ ہوں ، میں کیا جانوں

مَیں مَرُوں تیرے لِیے، تُو مَرے وا کے لِیے

بے وفا ہے، میں اس پر جان دیتا ہوں مگر وہ میرے بجائے دوسروں پر توجہ دیتا ہے

مَیں نَہ کَہتا تھا

میں جو کہتا تھا وہی ہوا ، میری بات دُرست تھی ۔

مَیں نَہ سَمْجُھوں تو بَھلا کیا کوئی سَمْجھائے مُجھے

ضدی آدمی کے متعلق کہتے ہیں ، آدمی خود نہ سمجھنا چاہے تو کوئی نہیں سمجھا سکتا

مَیں نے چار بَرساتیں زِیادَہ دیکھی ہَیں

یعنی میں تم سے زیادہ عمر رسیدہ اور زیادہ تجربہ کار ہوں

مَیں نے چُقَندَر بویا اَور گاجَر پَیدا ہو گَئی

انہونی بات ؛ کرنا کچھ ہو کچھ جانا ۔

مَیں نے کیا تُمھاری کِھیر کھائی ہے

کیا میں اس سے دبا ہوا ہوں

مَیں راضی اَور میرا خُدا راضی

رک : میں خوش میرا خدا خوش ، کسی بات پر مکمل رضا ظاہر کرنے کے لیے کہتے ہیں ۔

مَیں صَحِیح سَلامَت آئی، راجَہ کے چُوتَڑ کَٹا آئی

بزدل اور چالاک شخص اپنی مصیبت میں دوسروں کو پھنسا دیتا ہے (چڑیا چڑے کی کہانی کے بول)

مَیں تو ڈُوبا مَگَر تُجھ کو بھی لے ڈُوبُوں گا

مجھ پر تو آفت آئی ہے تجھ کو بھی سلامت نہ چھوڑوں گا

مَیں تو تَیری لال پَگیا پَر بُھولی رے راگھور

(عو) ظاہری شان و شوکت سے لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں

مَیں تُجھے چاہُوں اَور تُو کالے ڈِھینگ کو

جب کوئی کسی کو بُرے کام سے روکے یا منع کرے اور وہ نہ رُکے تو کہتے ہیں

مَیں تُمہاری کِھچْڑی کھاؤُں تُم میرا بَچَّہ کِھلاؤ

میں بے وقوف نہیں جو تمھارے دیے ہوئے تھوڑے سے کے عوض اپنا سب کچھ دے دوں ۔

مَیلا تَکِیَہ اُجلا غِلاف

اوپر سے صاف اندر سے گندہ ، بظاہر کچھ بباطن کچھ ؛ منافق

مَیلے کا بھائی نَوشادَر

دونوں برابر ہیں جیسا یہ ویسا وہ، ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں.

مینا جو مَیں نا کہے دُودھ بھات نِت کھائے، بَکری جو مَیں مَیں کَرے اُلٹی کھال کِھنچائے

انکسار کرنے والا عزت پاتا ہے اور تکبر کرنے والا نقصان اٹھاتا ہے

مجلس میں شیخ شلیتے میں میخ

دونوں خرابی کرتے ہیں

مَجنُوں کو لَیلیٰ کا کُتّا بھی پِیارا

عاشق کو اپنی معشوقہ کی خراب سے خراب چیز بھی اچھی لگتی ہے

مَجْذُوب ہونا

ولی ہونا ، اثر والا ہونا ۔ اسے تومجذوب ہونا چاہیے ۔

مَخْمَل میں ٹاٹ کا پَیوَنْد

کسی اعلیٰ چیز کے ساتھ ادنیٰ کا جوڑ ہو یا کوئی بے جوڑ ، ناموزوں چیز ہو تو اس کے متعلق کہتے ہیں

مکہ میں رہتے ہیں پر حج نہیں کیا

بدقسمت ہر جگہ محروم رہتا ہے

مَکّھی چھوڑنا اور ہاتھی نِگَلنا

(کنایۃً) چھوٹی چھوٹی باتوں میں دیانت داری ظاہر کرنا اور بڑے معاملہ میں بے ایمانی کرنے کی جگہ بولتے ہیں

مَکّھی مار بَڑا چَمار

کنجوس بہت ذلیل ہوتا ہے

مَکر چَکر کی کَہانی، آدھا دُودھ آدھا پانی

وہ بات جس میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہو

مَکر چَکر چَلنا

شوخی نگاہ کا اظہار ، نہایت شوخ دیدہ ہونا ۔

مَلَنگ کا اَور بامنی کا کیا ساتھ

دو غیر جنس کے میل کا نتیجہ فساد ہی ہوتا ہے.

مَلَکُ المَوت نے گَھر دیکھ لِیا

مصیبت کو یہاں تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہوگیا ، آفت مانوس ہو گئی (جب یہ کہنا مقصود ہو کہ اس دفعہ کی مصیبت یا آفت کا غم نہیں ، فکر اس بات کی ہے کہ جب ایک دفعہ ایسی مصیبت یا پریشانی آئی تو دوبارہ نہ آجائے ، تو یہ مقولہ کہتے ہیں) ۔

مَلّاح دَر چِین و کَشْتی دَر فَرَنْگ

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) دو لا تعلق چیزوں میں بڑا فاصلہ اور دوری ہوتی ہے ۔

مَلاّح کا لَنْگوٹا ہی بِھیگتا ہے

کیونکہ وہ کوئی اور کپڑا ہی نہیں پہنتا

مَلّاحی کی مَلاحی دی، بانْس کے بانْس کھائے

پیسہ بھی خرچ کرنا پڑے اور تذلیل بھی ہو یا آمدنی یعنی اَوائی بھی نہ ملے تب کہتے ہیں

مَلاّحی مُفت دی، بانْس گھاتے میں کھائے

ایک نقصان کی جگہ کئی نقصان اٹھائے ۔

مَن عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَد عَرَفَ رَبَّہٗ

(عربی فقرہ (حدیث) اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جو اپنے نفس کی حیثیت کو پہچان لے وہ اﷲ تعالیٰ کے مرتبے کو پہچان سکتا ہے ، عرفانِ باری تعالیٰ کے لیے اول عرفانِ ذات ضروری ہے ۔

مَن اَٹکا تَن جَھٹکا

عشق آدمی کو گھلا دیتا ہے ، محبت کی یہی تاثیر ہے

مَن بھائے مُنْڈِیا ہِلائے

دل تو چاہتا ہے مگر اوپری دل سے انکار ہے ، ظاہراً نفرت باطناً رغبت ؛ رک : من چاہے منڈیا ہلائے ، جو زیادہ مستعمل ہے ۔

مَن بھائے تو ڈھیلا سَپاری

جس چیز کو دل چاہے وہ اچھی معلوم ہوتی ہے

مَن بھائے، مُنْڈِیا ہِلائے

رک : من چاہے منڈیا ہلائے جو زیادہ مستعمل ہے ۔

مَن بھاتا کھائِیے، جَگ بھاتا پَہَنْیے

کھانا وہ کھا ئیے جو دل کو مرغوب ہو اور لباس وہ پہننا چاہیے جو دوسروں کو پسند ہو ؛ رک : کھائے من بھاتا ، پہنے جگ بھاتا

مَن بھاوے مُنْڈِیا ہِلاوے

دل تو چاہتا ہے مگر اوپری دل سے انکار ہے ، ظاہراً نفرت باطناً رغبت ؛ رک : من چاہے منڈیا ہلائے ، جو زیادہ مستعمل ہے ۔

مَن بَھر کا سَر ہِلاتے ہیں ، پَیسا بَھر کی زَبان نَہِیں ہِلائی جاتی

اُس کے متعلق کہتے ہیں جو سلام کے جواب میں صرف سر ہلا دے ؛ مغرور اور بیوقوف کے متعلق کہتے ہیں

مَن بَھر کا سَر ہِلاتے ہَیں ، پَیسا بَھر کی زَبان نَہِیں ہِلتی

اشارے سے کہتے ہیں زبان سے نہیں بولتے ، صاف صاف نہیں کہتے

مَن چَنْگا تو کَٹھوتی میں گَنْگا

اگر دل پاک صاف ہو یا اگر جسم صحت یاب ہو تو گھر میں ہی گنگا ہے

مَن چاہے مُنْڈِیا ہِلائے

دل تو چاہتا ہے مگر اوپری دل سے انکار ہے ، ظاہراً نفرت باطناً رغبت ۔

مَن چَلتا ہے، ٹَٹُّو نَہِیں چَلتا

حوصلہ بڑا ہے مقدور کچھ نہیں یعنی حوصلہ بڑا ہے مگر کچھ ہو نہیں سکتا

من چنچل کرم دلدری

خواہشیں تو بڑی لیکن قسمت کھوٹی

مَن گُفتَم وَ مُحاوَرَہ شُد

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) میں نے کہا اور محاورہ بن گیا ، زبان دانی کی تعریف میں مستعمل ، جس شخص کا قول ہر شخص شد مان لے ۔

مَن عِلْم اَور دَس مَن عَقْل

علم سے مستفید ہونے کے لیے تجربے کے ضرورت ہے، (فارسی) ’بک من علم را دہ من عقل باید‘ کا ترجمہ).

من جانے پاپ، مائی جانے نہ باپ

اپنے کئے گناہوں کو اپنا من ہی جانتا ہے

مَن جَرَّبَ المُجَرَّبَ حَلَّت بِہِ النَّدامَہ

(عربی مقولہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جو شخص آزمائی ہوی بات کو آزماتا ہے اسے ندامت ہوتی ہے/شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے ۔

مَن جَرَّبَ المُجَرَّبَ صِلَّت بِہِ النَّدامَہ

(عربی مقولہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جو شخص آزمائی ہوی بات کو آزماتا ہے اسے ندامت ہوتی ہے/شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے ۔

من کا انکس گیان

علم سے من قابو میں رہتا ہے

من کا آنکس گیا

علم ضمیر دل کو ٹھیک رکھتا ہے

من کرے پہِرن چوتار کرم لکھے بھیڑی کے بار

دل تو نفیس کپڑے پہننے کو کرتا ہے مگر قسمت میں بھیڑ کے بال ہیں

مَن کے ہارے ہار ہے مَن کے جیتے جیت، پار برہم کو چاہیے مَن ہی کے پرتیت

ہمت ہارنے والا ہار جاتا ہے اور دلیر جیت جاتا ہے، دل ہی کی وجہ سے خدا ملتا ہے

مَن کے لَڈُّوؤں سے بُھوک نَہیں مِٹْتی

میٹھی میٹھی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ، ان سے ضرورت پوری نہیں ہوتی

من کے لڈو پھوڑنا کہا بیٹھنا

آپ ہی کام کر بیٹھنا

مَنْ خُوبْ می شَناسَم پِیْرانِ پَارْسا را

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) ظاہر میں کیسے نیک بن رہے ہو مگر میں خوب پہچانتا ہوں کہ تمہارا کردار کیا ہے ، کسی کے کارِ نامناسب پر طعن کے موقع پر مستعمل ۔

مَن کی مُرّی کِس سے کَہُوں پیٹ مَسوسا دے دے رَہُوں

دل کا رنج کوئی دور نہیں کرسکتا سو کسی سے کہنا فضول ہے بس صبر کر کے بیٹھ رہنا چاہیے

مَن کو بھائے مُنڈِیا ہِلائے

رک : من چاہے منڈیا ہلائے ۔

مَن کو بھائے تو ڈھیلا بھی سُپاری ہے

بری چیز بھی اگر دل کو پسند آتی ہے تو سب سے اچھی لگتی ہے

مَن لَلچائے مُنڈِیا ہِلائے

رک : من چاہے منڈیا ہلائے جو زیادہ مستعمل ہے ۔

مَن مانے گَھر جانے

اپنی مرضی کا مالک ہے، جہاں چاہے جا سکتا ہے

مَن مانی اَنجانی

من مانی کرنا

مَن مانی گَھر جانی

خود مختاری ، بے جا ضد ، آزاد ہے جو دل چاہے سو کرتا ہے ۔

مَن مَلِین سُندَر تَن کیسے، بِکھ رَس بَھرا کنک گھٹ جیسے

کپٹی اور دھوکے باز شخص کے متعلق کہتے ہیں

مَن مَوجی، جورُو کو کَہیں بَھوجی

بے وقوف آدمی بے محل بات کرتا ہے

مَن میں بَسی ، سِینے میں دَھنْسی

جو بات دل کو پسند آجائے اس کا خیال ہر وقت رہتا ہے

من میں گانتی ٹس ٹس رووے، چوہا خصم کر سکھ سے سووے

دکھانے کو روتی ہے دل میں خوش ہے کیونکہ شوہر بچہ ہے اس لیے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے

من میں مورکھ جون میں دکھی کوئی نہیں

کسی کو اپنی زندگی بھاری نہیں لگتی

مَن میں شیخ فَرِید، بَغَل میں اِینٹیں

ظاہر کچھ باطن کچھ، ریاکاری کرتے ہیں، منافق ہیں

مَن مِلے کا میلا، چِت مِلے کا چیلا

باطن کی صفائی سے کام چلتا ہے ظاہر کی صفائی سے کچھ نہیں ہوتا

من موتیوں بیاہ، من چاولوں بیاہ

بیاہ تو ہو ہی جاتا ہے موتی لٹاؤ چاہے صرف چاول پکاؤ

مَن سانْچا تو سَب سانْچا

نیت صحیح ہو تو نتیجہ اچھا نکلتا ہے ؛ سچائی عجب چیز ہے ، سچ بول کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری دنیا خوش ہے ، صدق دل عجب شے ہے

مَن تَشَبَّہَہ بِقومٍ

عربی فقرہ (حدیث) بطور کہاوت اردو میں مستعمل ، جو اپنے اقوال اور افعال میں کسی قوم کا مشابہ بنے گا وہ انہی میں شمار ہوگا ۔

مَن ذاقَ ذاق

(عربی فقرہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جس پر گزرے وہی جانتا ہے ۔

مَن ضَحِکَ ضُحِکَ

(عربی مقولہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جو دوسروں پر ہنستا ہے اس پر دو سرے ہنستے ہیں، جو ہنسا وہ ہنسا گیا

مَن دانَم و کارِ مَن

(فارسی فقرہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) میں اپنے فرض کا خود ذمہ دار ہوں ، چو کچھ کرنا چاہیے وہ میں خود کر لوں گا ۔

مَن دِیگرَم تُو دِیگری

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) میں اور ہوں تو اور ہے ، مجھ میں تجھ میں فرق ہے ۔

مَنْدِر ماں سَبھی سانْچ سے راکھو دِیپَک بال، سانْجھ اَنْدھیرے بَیٹْھنا ہے اِتی بَھونْڈی چال

سرِ شام گھر میں چراغ جلانا چاہیے ، کیونکہ شام ہی سے اندھیرے میں بیٹھ رہنا بہت بھونڈی بات ہے

مَنْدِر ماں سَبھی سانْجھ سے راکھو دِیپَک بال، سانْجھ اَنْدھیرے بَیٹْھنا ہے اِتی بَھونْڈی چال

سرِ شام گھر میں چراغ جلانا چاہیے ، کیونکہ شام ہی سے اندھیرے میں بیٹھ رہنا بہت بھونڈی بات ہے

مَنڈوے کے آٹے میں شَرط کیا

سستی چیز کے اچھے ہونے کی دوکاندار کیا شرط کرے وہ تو جان مان کر خراب ہوگی ہی

مَن تُو شُدَم تُو مَن شُدی

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) دونوں ایک جان دو قالب ہوگئے ، ایک جان دو قالب ہونے یک دلی کے موقع پر کہتے ہیں ۔

مَنُش کی پہچان کو معاملہ کسوٹی ہے

کام پڑنے پر ہی انسان کی شناخت یا پرکھ ہوتی ہے

مَنْوا مَر گیا، کھیل بِگَڑ گَیا

دل ٹوٹ جائے تو بہت کام بگڑجاتے ہیں

مَقامِ عَیش مَیَسَّر نَمی شَوَد بے رَنج

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) آرام کی جگہ بغیر تکلیف اٹھائے نہیں ملتی ، تکلیف کے بغیر راحت نہیں ملتی

مَقدُور کی ماں گوڑے ہی رَگَڑتی ہے

تمھارا کچھ زور نہیں چلے گا ، تم کچھ نہیں بنا سکتے

مَر گَئے مَردُود جِن کی فاتِحَہ نَہ دُرُود

بدمعاش اور بُرے آدمی کو کوئی دعائے خیر سے یاد نہیں کرتا

مَر گَیا مَردُوْد جِس کا فَاتِحَہ نہ دُرُوْد

نکّمے اور بے نام و نشان شخص کے بارے میں مستعمل، بدمعاش اور بُرے آدمی کو کوئی دعائے خیر سے یاد نہیں کرتا

مَر جائیں تو مَکّھی اَور نِکَل جائیں تو شیر

اگر کوئی قیدی جیل میں مر جائے تو ایک مکھی کے مر جانے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی لیکن اگر کوئی قیدی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا تو اسے ایک شیر کے کٹہرے سے نکل جانے کے برابر اہم واقعہ سمجھا جائے گا ۔

مَر مَر نَہ جاتے تو بھر گَھر ہوتے

گھر کے لوگ مرتے نہیں تو گھر بھرا رہتا

مَرا چور پَرائے دَھن پَر

پرائے مال پر جان دینا حماقت ہے ؛ بیوقوف دوسروں کے مال پر جان دیتا ہے

مَرا ہاتھی بھی سَوا لاکھ کا ہوتا ہے

کارآمد اور قیمتی چیز کی نسبت کہتے ہیں، اچھی اور مفید چیز کی قدر ہمیشہ رہتی ہے

مَرا راوَن، فَضِیحَت ہو

برے آدمی کے مرنے کے بعد بھی لوگ اسے کوستے ہیں

مَرا تو شَہِید ، مارا تو غازی

جہاد کرنے والا اگر مر گیا تو شہید کہلایا اور اگر کسی کافر کو مار ڈالا تو غازی کہلاتا ہے

مَرا سوتا بَرابَر

مُردے اور سوئے ہوئے شخص میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔

مَرد عَورَت راضی تو کیا کَرے قاضی

رک : میاں بیوی راضی (الخ) جو زیادہ مستعمل ہے

مَرد بایَد کہ گِیرَد اَندَر گوش، اَز نَوِشت اَست پَند بَر دِیوار

(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) آدمی کو چاہیے کہ نصیحت سن لے چاہے دیوار پر لکھی ہو ، یعنی اچھی بات جس طرح بھی معلوم ہو اور جس سے بھی معلوم ہو اسے یاد رکھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے

مَرد بایَد کہ ہَراساں نَہ شَوَد ، مُشکِلے نِیست کہ آساں نَہ شَوَد

(فارسی شعر اردو میں بطور مقولہ مستعمل) آدمی کو چاہیے کہ ہراساں نہ ہو ، کوئی مشکل ایسی نہیں ہے کہ جو آساں نہ ہو جائے

مَرد بے زَر ہمیشَہ رَنجُور اَست

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) مفلس آدمی ہمیشہ پریشان رہتا ہے

مرد چوپیر شود حرص جواں می گرد

بڑھاپے میں حرص زیادہ ہوتی ہے

مَرد چُوں پِیر شَوَد ، حِرص جَواں می گَردَد

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) بڑھاپے میں حرص زیادہ ہوتی ہے

مَرد جیکڑا گانْٹھ رُوپَیَہ

مرد وہ ہے جس کے پاس روپیہ ہے

مَرد جو مُنْہ سے کَہتے ہَیں وَہی بات کرتے ہَیں

شریف آدمی اپنی بات سے نہیں پھرتے ہیں ۔

مَرد کا دِکھایا نَہ کھائیے، مَرْد کا لایا کھائیے

ممکن ہے کہ مرد اپنی شان دکھلانے کو کچھ بڑھ کر بتائے اُس کا اعتبار نہ کریں ؛ عورتوں کے لیے نصیحت ہے کہ مرد کے سامنے کھانا نہ چاہیے جو کچھ وہ لے آئے وہ کھانا چاہیے

مرد کا ہاتھ پھرا اور عورت ابھری

مرد کا ہاتھ لگنے سے عورت کے پستان بڑھنے شروع ہوتے ہیں

مَرد کا ہاتھ پِھرا اَوراُبھری

مرد کے ہاتھ لگنے سے عورت جلد بڑھتی اور جوان ہوتی ہے

مَرد کا کیا ہے ایک جُوتی پَہنی ایک اُتار دی

مرد جب چاہے عورت کو طلاق دے دے ، مرد کے نزدیک عورت کی حیثیت جوتی کی سی ہے

مَرد کا نام مَرد سے بہتَر ہے

مرد سے زیادہ اس کے نام کا رعب یا اثر ہوتا ہے

مَرد کا نَہانا ، عَورَت کا کھانا بَرابَر ہے

دونوں ان کاموں میں جلدی کرتے ہیں یعنی مرد نہاتا جلد ہے اور عورت کھاتی جلد ہے

مَرد کے چار نِکاح دُرُسْت ہَیں

ازروئے شرع مسلمانوں میں مرد بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتا ہے

مَرد کی بات اور گاڑی کا پَہِیا آگے چَلتا ہے

شریف اپنے اقرار سے پھرتے نہیں ہیں، شریف جو وعدہ کرتا ہے اسے ضرور پورا کرتا ہے

مَرْد کی بات ہاتھی کا دانْت ہے

شریف لوگ اپنی بات سے نہیں پھرتے ہیں ۔

مَرد کی مَوت نا مَرد کے ہاتھ

کبھی کمزور آدمی طاقتور آدمی کو مار لیتا ہے ۔

مَرد کو گَرد ضَرُور ہے

مرد کو محنت کرنی پڑتی ہے

مرد کو نا مرد مارے بنئے کو

نا مرد کمزور سے لڑتا ہے

مَرد مانُس گَھر ہی بَھلے

عورتوں کا اطمینان خاطر مرد کے گھر میں رہنے سے ہے، مردوں کو زیادہ وقت گھر ہی میں رہنا چاہیے

مَرد مَرے نام کو، نامَرد مرے نان کو

جواں مرد آدمی نیک نامی کی خاطر جان سے گزر جاتا ہے لیکن کمینہ آدمی روٹی کے ٹکڑوں پر مرتا ہے

مَرْد سَب کو مَرْد کَرْتا ہے

ایک بہادر ہو تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی بہادر بن جاتے ہیں ، ایک اہل ہو تو اس کی اہلیت کا دوسرے ساتھیوں پر بھی اثر پڑتا ہے.

مَرْد وہ ہے جو دے اَور نَہ لے، اَور نِیم مَرْد وہ ہے جو دے اَور لے، نا مَرْد وہ ہے جو نَہ دے اَور نَہ لے

بزرگوں کا قول ہے کہ بہادر وہ ہے جو دیتا ہے یعنی سخاوت کرتا ہے مگر کسی سے لیتا نہیں ، نیم بہادر وہ ہے جو دیتا بھی ہے اور لیتا بھی ، بزدل اور نالائق وہ ہے جو لیتا تو ہے مگر دیتا کسی کو نہیں

مَردِ بے توشَہ بَر گام

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) بغیر غذا کے ہاتھ پیر کام نہیں کرتے

مَرْدِ بے توشَہ نَگِیرَد گام

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) بغیر غذا کے ہاتھ پیر کام نہیں کرتے

مَردوں کا ایک قَول ہوتا ہے

مرد جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور اپنی بات پر قائم رہتے ہیں

مَرے باوا کی بَڑی بَڑی آنْکھیں

بعد ِوفات بزرگ کی بزرگداشت زیادہ کرنا

مَرے چور پَرائے دَھن

جو دوسروں کا مال تاکے چور ہے

مَرے چور پَرائے دَھن پَر

پرائے مال کی خاطر جان دینا حماقت ہے ، بے گانہ مال مارنا آسان نہیں ، چور پرائے مال پر اپنی جان کھو دیتا ہے

مَرے گھوڑے کا نَعْل نَفَع

جاتی چیز میں سے جو حاصل ہو جائے وہی سہی

مَرے ہُوئے بَیل کے بَڑے بَڑے دِیدے

رک : مرے باوا کی بڑی بڑی آنکھیں ۔

مَرے ہُوؤں پَر مَت روؤ بَلْکِہ بیوَقُوفوں پَر گِرْیَہ کَرو

(ترکی کہاوت اُردو میں مستعمل) ۔ مُردے کو رونے سے بہتر ہے بیوقوف کی بے وقوفی کا ماتم کریں ۔

مَرے کا کوئی نَہیں، جِیتے جی کے سَب لاگُو ہیں

دوستی اور رشتہ داری سب زندگی کے ساتھ ہے موت کے بعد کوئی ساتھ نہیں دیتا

مَرے کو مارے شاہ مَدار

کمزور کو ہر شخص ستاتا ہے

مَرے کو مارے شامَت زَدَہ

رک : مرے کو ماریں شاہ مدار جو زیادہ مستعمل ہے

مَرے کو مَر جانے دے، حَلْوا پُوری کھانے دے

بچوں کی تکبندی جس کا استعمال وہ کبڈی کے کھیل میں کرتے ہیں

مَرے ماں ، جِیوے ماسی

اگر ماں مر جائے اور خالہ جیتی رہے تو بچّے پل جاتے ہیں کیونکہ اس کی محبت بھی ماں کے برابر ہوتی ہے

مَرے نَہ جِئے بَکَر بَکَر کَرے

رک : مرے نہ پیچھا چھوڑے ، جو آدمی ہر وقت تنگ کرے اسے بھی کہتے ہیں ، جب تک زندہ ہے تنگ کرے گا

مَرے نَہ جِئے ہَکَر ہَکَر کَرے

رک : مرے نہ پیچھا چھوڑے ، جو آدمی ہر وقت تنگ کرے اس کے متعلق کہتے ہیں ، جب تک زندہ ہے تنگ کرے گا

مَرے پَر سَو دُرّے

اس محل پر بولتے ہیں جب کوئی پہلے سے کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور دوسری مصیبت اس پر آ جائے

مَرے پَہ بید

وقت گزر جانے پر کوشش کرنے کے موقعے پر کہتے ہیں

مَرے تو شَہِید، مارے تو غازی

مذہب کی حفاظت کے لئے مرنے میں بھی بھلائی ہے اور دوسروں کو مارنے میں بھی، مسلمانوں کا کہنا

مَرْگِ اَنْبوہ جَشْنِ دارَد

وہ مصیبت جو عام ہو اس کا غم نہیں ہوتا

مرِہوں پر ٹرِہوں نہیں

ضدی شخص کے متعلق کہا جاتا ہے

مَری جَب دَم نَہ آیا

جب بالکل بربادی ہو گئی تب آپ کو معلوم ہوا

مَری کِیوں، سانْس نَہ آیا

اظہارِ مصیبت کے وقت بولتے ہیں

مَرکَھنا بَیل جی کا جَلاپا

مراد یہ ہے کہ نہ تو اس کا کوئی خریدار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کو کوئی پال سکتا ہے

مَر مَر بُڑھیا گِیت گاوے ، بھولے لوگ تَماشے آویں

کسی آدمی کے بہت مشکل سے کوئی کام کرنے پر دو سرے بہت سے لوگوں کے ہنسنے کے موقعے پر بولتے ہیں

مَرْنا بَھلا بَدیس کا جَہاں نَہ اَپنا کوئی

پردیس میں مرنا بہتر ہے کہ وہاں کوئی اپنا نہیں ہوتا جو افسوس کرے

مرنا ہے بد نیک کو جینا ناپ سدا، بہتر ہے جو جگت میں نیک نام رہ جا

اچھے کام کرنے چاہیں تاکہ دنیا میں رہ جائے, ویسے تو نیک بد سب کو مرنا ہے

مرنا جینا سب کے ساتھ ہے

دنیا کے جھگڑے بکھیڑے کسی کو نہیں چھوڑتے

مَرنے جائیں ، مَلاریں گائیں

ایسے بے فکر آدمی ہیں کہ مرنے کو بھی کھیل سمجھ کر گیت گاتے ہیں ، بے پروا اور آزاد طبع نیز شیخی خورے کی نسبت بولتے ہیں

مَرنے کو چَلے، کَفَن کا ٹُوٹا

حیلہ جو کی نسبت بولتے ہیں

مرنے کو کیا ہاتھی گھوڑے جڑتے ہیں

جب کوئی مرنے کی دھمکی دے تب بھی کہتے ہیں

مرنے پہ ڈوم راجہ

ہندؤوں میں جب کوئی مر جاتا ہے تو سیاپے کے وقت پہلے الفاظ ڈومنی بولتی ہے، موت پر کمینے لوگوں کا فائدہ ہوتا ہے

مرنے سے کیا ڈرنا

موت سے کسی طرح چھٹکارہ نہیں ہوسکتا اس لئے اس سے ڈرنا نہیں چاہئے

مرو یا جیو ہم کو اپنے حلوے مانڈے سے مطلب ہے

خود غرضوں کا مقولہ چاہے کوئی مرے یا جئے ان کا فائدہ ہو

مَرتا کیا نَہ کَرتا

جس کی جان پر آ بنتی ہے وہ سب کچھ کر گزرتا ہے، بے بسی کی حالت میں سب کچھ کرنا پڑتا ہے

مَرتے ہَیں مَرتے پَر نَہ راہ چَلتے پر

چاہ پیار اپنوں سے ہوتا ہے نہ کہ غیروں یا اجنبیوں سے

مَرتے ہَزاروں کو سُنا ، جَنازَہ کِسی کا نَہ دیکھا

محض بلندبانگ دعوے کرنا اور عمل کچھ نہ کرنا ۔

مَرتے جائیں مَلہاریں گائیں

مشکلوں میں بھی زندگی سے لطف لیں ۔

مَرتےکے ساتھ کَون مَرتا ہے

مصیبت کے وقت کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا ۔

مَرتے کے ساتھ مَرا نَہِیں جاتا

کسی عزیز کی موت کی وجہ سے دنیا کے دھندے نہیں چھوٹتے

مَرتے کو مارے شامَت زَدَہ

غریب کو ہر شخص ستاتا ہے، مصیبت پر مصیبت آتی ہے

مَرتے کو ماریں شاہ مَدار

ہمیشہ غریب ہی کی شامت آتی ہے ، جس وقت غریب آدمی پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اس موقعے پر بولتے ہیں ۔

مرتے کو مر جانے دے حلوا پوری کھانے دے

خود غرض اپنا ہی فائدہ چاہتا ہے

مَرتےمَر گَئے، چونْچلوں سے نَہ گَئے

بے عزت ہوکر بھی غرور نہ گیا

مَرتے پَر کوئی مَرتا ہے

(عو) جو خود کسی پر عاشق ہو اس پر ریجھنا اپنی جان تہلکے میں ڈالنا ہے ۔

مَرتے سَب کو دیکھا ، جَنازَہ کِسی کا نَہِیں دیکھا

عاشقی جتانے اور صرف دعویٰ کرنے والے کی نسبت کہتے ہیں ۔

مَرضی مَولیٰ اَز ہَمَہ اَولیٰ

ہر معاملے میں خدا کی رضا پر راضی رہنا چاہیے ، مالک کی رضا سب سے بہتر ہے (کسی معاملے میں انسان کی بے بسی کے موقع پر مستعمل) ۔

مَشْعَل کے نِیچے سے نِکْلا ہوا ہے

ناچنے والوں کے ساتھ رہا ہے

مَشْعَل کی بُو دَماغ میں سَمائی ہے

غریبی میں تمکنت رکھتا ہے، رسی جل گئی بل نہیں گیا، مفلسا بیگ ہیں فاقہ مست ہیں

مَشْعَلْچی آپ ہی اَنْدھا ہے

اوروں کو نصیحت کرے اور خود عمل نہ کرے، اوروں کو راہ بتانا خود گمراہ رہنا

مَشعَلچی اندھا ہوتا ہے

مشعل دکھانے والے کو اس کی قربت کے سبب دکھائی نہیں دیتا

مَسِیت ڈھے گَئی مِحْراب رَہ گَئی

رک : مسجد ڈھے گئی محراب رہ گئی

مَسْجِد ڈھے گَئی ، مِحْراب رَہ گَئی

کل میں سے جزو باقی ہے ؛ اعلیٰ جاتا رہے ادنیٰ رہ جائے ، اصلی جاتا رہے اور نام رہ جائے توکہتے ہیں

مَت بو چابَڑ اُجڑے ٹابَر

پتھریلی زمین میں کچھ بونا نہیں چاہیے ، سخت نقصان ہوتا ہے

مت کر ساس برائی تیرے بھی آگے جائی

بہو ساس سے کہتی ہے کہ تو میرے ساتھ برائی کرتی ہے حالانکہ تیری بھی بیٹی ہے اور جیسا تو میرے ساتھ کرتی ہے ویسا کوئی تیری بیٹی کے ساتھ کرے گا

مَت کَر وار جو بُھگتے کار

جب تک آسانی سے کام نکلے سختی نہیں کرنی چاہیے، جب تک کام چلے بگاڑ نہیں کرنا چاہیے

مَتَرْس اَز بَلائے کہ شَب دَرْمیانست

(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) اس مصیبت کی فکر میں پریشان نہیں ہونا چاہیے جو ابھی آئی نہیں ہے

مَطْلَبِ سَعْدی دِیگر اَسْت

سعدی کا مطلب دوسرا ہے یعنی ظاہر یوں ہے مگر دلی مقصد کچھ اور ہے ۔

مَولا ہاتھ بَڑائِیاں، جِس چاہے تِس دے

تمام عزتیں اور بڑائیاں خدا کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہتا ہے دیتا ہے

مولا یار تو بیڑا پار

الٰہی سنبھال لے

مَولَوی ہَڈّا نَہ کانْپ نَہ ٹَھڈَّا

(طنزاً) میاں جی ، مسلمان ۔

مَوسی کا گَھر نَہِیں ہے

خالہ جی کا گھر نہیں ہے ؛ آسان کام نہیں ہے ؛ کھیل نہیں ہے ؛ کسی کی تن آسانی اور لاپروائی کو دیکھ کر کہتے ہیں ۔

مَوت اَندھی ہوتی ہے

موت ہر ایک کو ضرور آنی ہے، جو پیدا ہوا اسے مرنا بھی ہے

مَوت اَور گاہَک کا کوئی اِعْتِبار نَہیں

مرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے معلوم نہیں کس وقت موت آ جائے یہی حال گاہک کا ہے لہٰذا دکان دار کو بھی ہر وقت دکان پر موجود رہنا چاہیے

مَوت بَرْحَق ہے

موت سچ ہے ، موت کا وقت مقرر ہے ، موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا ، موت لازماً آئے گی اس سے بچا نہیں جا سکتا

مَوت بَھلی کہ جان کَنْدَنی

نزع کی تکلیف سے موت بہتر ہے ، روز روز کی تکلیف اور الجھن سے تو مر جانا ہی بہتر ہے

موت بھلی کی جان کندنی

روز روز کی تکلیف سے مر جانا ہی بہتر ہے

مَوت دِیجو پَر مور نَہ دِیجو

بازار مندہ ہونے سے موت بہتر ہے

مَوت گھات میں ہے

موت تلاش میں ہے ، موت بہانہ ڈھونڈتی ہے

مَوت حَق ہے

موت سچ ہے، موت اٹل حقیقت ہے، موت لازماً آئے گی اُس سے بچا نہیں جا سکتا

مَوت کا گَھر گھاٹ نَہِیں

موت ہر جگہ آتی ہے اس کا کوئی مقام نہیں ہے

مَوت کَہو تو بِیماری مانْتا ہے

مشکل کام پر پکڑیں گے تو آسان کام پر راضی ہوگا

مَوت کے آگے کِسی کا بَس نَہِیں چَلْتا، مَوت کے آگے سَب ہارے

موت سے کوئی نہیں بچ سکتا، موت سب کو شکست دیتی ہے، ہر جاندار کو مرنا ہے، کوئی موت سے نہیں بچ سکتا

مَوت کی دارُو کوئی نَہیں

کاہل اور سست بیمار کے متعلق کہتے ہیں

مَوت کی گَھڑی سَر پَر کَھڑی ہے

موت ہر وقت قریب ہوتی ہے، موت کسی وقت آ جائے گی

مَوت کو پَکْڑا تو بُخار پَر راضی ہُوا

مشکل کام پر پکڑیں گے تو آسان کام پر راضی ہوگا ، جب آدمی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو تھوڑے سے دکھ اور محنت کو غنیمت سمجھتا ہے

مَوت کو پَکْڑا تو زَحْمَت قُبُول کی

انسان کی فطرت ہے کہ مشکل کام پر مجبور کریں گے تو اس سے آسان کام پر راضی ہوگا

مَوت نَہِیں زَحْمَت ہے

حق نہیں مارا جاتا دیر البتہ ہے

موت سر پر کھیلتی ہے

موت ہر وقت قریب ہے کسی وقت آجائے

مَوت سے مَفَر نَہِیں

مرنے سے کوئی نہیں بچ سکتا ، سب کو فنا ہونا ہے

مَیّا بابا مَر گَئے، یَہی دَہَریا کَر گَئے

بے سوچے سمجھے دختر ، بیٹی کو کسی بدمزاج کے ساتھ بیاہنا

میا باہا مر گئے، یھی دہریا کر گئے

بے سوچے سمجھے دختر کو بد مزاج کے ساتھ رہنا

مزن بے تامل بگفتار دم

بے سوچے لب نہ ہلا

مَزدُور کو شَہْر، بَھینْس کو ڈَہْر

ہر کسی کو وہ بات پسند ہوتی ہے جس میں اس کا فائدہ ہو

مِینْڈَک چَلے مَداروں کو

کمینے یا نکمے آدمی نے بھی بڑا حوصلہ کیا

مینڈکی کو زُکام ہوا

اپنی حد سے بڑھ کر شیخی مارنے والے کی نسبت بولتے ہیں ۔

مِینْہ بَرْسے گا تو بَوچھاڑ تو آئے گی

اپنے عزیزوں کے پاس دولت ہوگی تو کچھ نہ کچھ فائدہ ہو ہی جائے گا

مینْھ کَہتا ہے آج بَرَس کے پِھر نَہ بَرسُوں گا

متواتر دیر تک بہت تیز بارش ہونا

مِنْہدی تو پانْو میں نَہِیں لَگی ہے

آتے کیوں نہیں بہانے بناتے ہو

مِہمان اَور بُخار کو اَگَر کھانا نَہ دو تو پِھر نَہِیں آتے

فاقے سے بخار میں فائدہ رہتا ہے اور مہمان کو کھانا نہ ملے تو بار بار نہیں آتا

مِحْنَت آرام کی کُنجی ہے

جو شخص محنت کرے گا وہ آرام سے رہے گا

مِحنَت کَرکے مَرغا مَرے، بَچّے کھائے بِلائی

مشقت سے مال کوئی جمع کرے اُڑا دے کوئی، محنت کوئی کرے اور فائدہ کوئی اٹھائے تو کہتے ہیں

مِحْنَت کو راحَت ہے

محنت کرنے سے آرام ملتا ہے ، بغیر محنت ترقی نہیں ہوتی

مِہر کَرے تو بَرساوے

خدا کی مہربانی ہو تو بارش ہوتی ہے

مِہر کَرے تو پِھر بَھرا دے

خدا مہربانی کرے تو نقصان کے بعد دیتا ہے

مِہر تو ہے پَر دُودھ نَہِیں

خالی خاطرداری ہے لینا دینا کچھ نہیں ، روکھی پھیکی محبت ہے

میلے میں جو جائے تو ناواں کر میں ٹانک، چور جواری گٹھ کٹے ڈال سکیں نہ آن٘کھ

میلے ٹھیلے میں جانے پر پیسا اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے جس سے کوئی چرا نہ لے

میرا باپ سَخی تھا پَرائے بَردے آزاد کَرتا تھا

طنزاً شیخی خور کی نسبت بولتے ہیں جو آپ تو کسی قابل نہ ہو اور بزرگوں کی باتوں پر گھمنڈ کرے

میرا بَیل مَنْطِق نَہِیں پَڑھا

جانور کو عیاری نہیں آتی نیز ہم فضول کام نہیں کرتے.

میرا دِل بے دِل ہُوا دیکھ جَگَت کی ریت

ایسے شخص کا کہنا جو دنیا کے حال چال دیکھ کر دکھی ہو رہا ہے

میرے بیاہ جی جی کے ٹِھک ٹِھک

بغیر مطلب دوسرے کے سر میں درد

میرے چاروں پَلّے کِیچَڑ میں ہَیں

دنیا کی فکروں میں مبتلا ہوں

میرے دونوں مِیٹھے

اُس شخص کی نسبت بولتے ہیں، جو دو شخصوں یا دو چیزوں کو یکساں دوست رکھتا ہو، اُن دونوں میں سے کسی کی جدائی گوارا نہ کرتا ہو۔ یہ مثل اُس جگہ بھی بولی جاتی ہے، جب یہ کہنا ہو، ہر طرح فائدہ ہے کسی حالت میں نقصان نہیں

میرے گَھر اَنّا ، دُوسْرے رَوَنّا

ہمارے گھر تھوڑے سے نوکر چاکر ہیں ، ہمارے ہاں کچھ زیادہ سازو سامان نہیں.

میرےہی سے آ گ لائی نام رَکھا بی سَندَر

یعنی اپنے ہی واقف کار اور محرم اسرار سے جھوٹ بولنا اور پردہ کرنا ، جس سے لینا اسی کے آگے شیخیبگھارنا

میرےلال کے سَو سَو یار ، دَھنیا ، جُلاہے اور مِنہار

میرے بیٹے کے دوست تو بہت ہیں مگر ہیں سب نکمے اور کمینے ، جس کے دوست نالائق ہوں اس کے متعلق کہتے ہیں

میرے لالَہ کی اُلٹی رِیت ساوَن ماس اُٹھاویں بِھیت

اس کے متعلق کہتے ہیں جو بے موقع کام کرے

میرے مِیاں کے دو کَپڑے، سُتَّھن ناڑا اور بَس

کوئی عورت اپنے نکمے شوہر کا مذاق اڑا رہی ہے کہ اس کے پاس ایک پاجامہ اور ناڑا بس یہ ہی دو کپڑے ہیں

میرے مُنْھ میں سانْپ کاٹے

عورتیں قسم کھاتے وقت کہتی ہیں ، میرا برا ہو ، مجھے سزا ملے ۔

میرے پُوت کی لَمبی لَمبی بانْہیں

اپنی چیز سب کو قابل تعریف اور عمدہ معلوم ہوتی ہے، اپنوں کی سب بڑائی کرتے ہیں

میرے پُوت کی لَمْبی لَمْبی باہیں

اپنی چیز سب کو قابل تعریف اور عمدہ معلوم ہوتی ہے، اپنوں کی سب بڑائی کرتے ہیں

میری بِلّی اَور مُجھی کو مِیاؤں

رک : میری بلی اور مجھ ہی سے میاؤں جو فصیح ہے ۔

میری بِلّی اَور مُجھی سے مِیاؤں

میرا مطیع اور مجھ ہی سے مقابلہ کرے (زیادہ تر ہماری بلی اور ہمیں سے میاؤں بولتے ہیں)

میری دونوں مامِیں

وہ شخص جو کسی کام میں کسی پر سبقت لے گیا ہو

میری ایک بولی دو بولی میری نَکٹی سَٹاسَٹ بولی

جب لڑکی بہت باتیں کرنے لگے تو ماں کہتی ہے

میری مُرغی کی تِین ٹانْگ

اپنی چیز کی بے جا تعریف

میو مَرا تَب جانِیے جَب وا کا تِیجا ہو

دغا باز اور فریبی اگر مر بھی جائیں تو ان کا مر جانا قابلِ اعتبار قبل از سوئم نہیں

مِگھا کے بَرسے، مَیّا کے پُرسے

بارش سے زمین اور ماں کے کھلانے سے اولاد آسودہ ہوتی ہے .

می چکد آنچہ در آو نہِ من است

جو کچھ میرے برتن میں ہے وہی اس سے ٹپکتا ہے، جیسی میری فطرت ہے ویسے ہی کام مجھ سے سرزد ہوتے ہیں

مِیر خاں کے اُونْٹوں میں روک ہے

اس خاندان کے سب افراد خراب ہیں

میراں کی بوٹی ہے

بڑا حصہ تو بڑے آدمی کو ہی ملے گا

مِیران گور بَرابَر

جس قدر میراں کی قبر کھودی گئی اتنی ہی مٹی اوپر پڑ گئی، میراں کی قبر اتنی ہی لمبی ہے جتنے خود میراں: مراد: کسی چیز کا عدم اور وجود برابر ہونا؛ آمدنی اور خرچ کا برابر ہونا.

مِیراث پِدَر خَواہی عِلْم پِدَر آموز

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) بیٹے کو باپ کا علم حاصل کرنا چاہیے، باپ کا قائم مقام ہونے کے لیے باپ کے طور طریق سیکھنا لازم ہیں

مِیراث پِدَر خَواہی عِلْم پِدَر آموز

رک: میراث پدر خواہی علم پدر آموز، بیٹے کو باپ کا علم سیکھنا چاہیے.

مِیت بَنائے نہ بَنے بیری سِنگھ اور ناگ، جَیسے کَدھے نہ ہو سکیں ایک ٹَھور جَل آ گ

دشمن شیر اور سانپ دوست نہیں بن سکتے جس طرح پانی اور آگ اکٹھے نہیں ہو سکتے

میٹھا اور بھر کٹوری

دگنا فائدہ ہونے پر بھی کہتے ہیں

مِیٹھے کے لالَچ جُھوٹا کھاتے ہَیں

رک : میٹھے کی طمع سے الخ ۔

مِیٹھے سے مَرے تو زَہر کیوں دے

اگر میٹھی میٹھی باتوں سے کام نکل سکتا ہے تو زبردستی نہیں کرنی چاہیے

مِیٹھی باتوں میں دِن رات کَٹتے مَعلُوم نَہیں دیتے

اچھی باتوں یا خوش حالی میں وقت جلد گزر جاتا ہے

میٹھی چھری، زہر کی پُڑی

باتیں نرم اور خوشگوار مگر با طن میں سخت اور دشمن

مِل گَئے کی ہَر گَن٘گا

اتفاقیہ ملاقات اور صاحب سلامت کے موقع پر مستعمل .

مِل گَئی تو روزی وَرنَہ روزَہ

اگر مزدوری یا کام سے اجرت حاصل ہو گئی تو گزارا ہو جائے گا ورنہ بھوکا رہنا پڑے گا

ملن ہیرے کی سی دل میں پھانکیں کھیرے کی سی

ظاہر میں دوست ہے باطن میں دشمن

مل جل کرتے رہئے کاج جیتے ہارے نہ آوے لاج

سب کے صلاح اور مشورے کی بات میں کوئی الزام نہیں دے سکتا

مِلْکی کیا جانے پَرائے دِل کی

کون شخص کیسے زندگی گزار رہا ہے یہ دولتمند کبھی نہیں جان سکتا

مِلْکی نَہ کَہے دِل کی

زمیندار اپنا بھید کسی کو نہیں دیتا .

مِلْکی نَہ کَہے دِل کی، پَلٹیں دَروازے نِکلیں کِھڑکی

امیر آدمی کسی پر اپنے دل کا راز ظاہر نہیں کرتا

ملت میں بڑی لابھ ہے سب سے مل کر چال

میل جول بڑی اچھی بات ہے

مِلْنے سے کوئی مِلتا ہے

باہم ملاقات سے اتحاد ہو جاتا ہے ، جو کسی سے ملتا ہے تو دوسرا بھی اس سے ملتا ہے ۔

مِنبَر بَنائے ، مَسجِد ڈھائے

چھوٹی چھوٹی باتوں میں دین داری اور ضروری امور میں اس کے خلاف طرز عمل

منبر کو بنائے مسجد کو ڈھائے

چھوٹی باتوں سے پرہیز اور بڑی ممنوعہ باتوں پر دلیر

مِمبَر کو بَنانا ، مَسجِد کو ڈھانا

تھوڑے فائدے کے لیے زیادہ نقصان کرنا ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کے آگے بڑی بڑی باتوں کو بھول جانا ۔

مرگ بندر تیتر چور یہ چاروں کھیت کے چور

ہرن بندر تیتر اور چور کھیتی کو نقصان پہنچاتے ہیں

مِسّی کاجَل کِس کو، مِیاں چَلے بُھس کو

مفلس کی حالت پر کہتے ہیں کہ مسّی کاجل کس پر لگاؤں میاں تو جا رہے ہیں بھُس بھرنے

مِٹّی کا گَھڑا بھی ٹھونک بَجا کَر لیتے ہیں

ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی دیکھ بھال کر لینی چاہیے

مِٹّی میں ہاتھ ڈالے تو سونا ہو جائے

نہایت خوش نصیب ہے ، جو کام کرتا ہے اس سے بے انتہا نفع ہوتا یا بہت پیسہ کماتا ہے ، خوش نصیب کو ہر کام میں فائدہ ہوتا ہے

مِٹّی مِٹّی ہے، سونا سونا ہے

کم قیمت شے اپنی جگہ کم قیمت ہے اور قیمتی چیز قیمتی چیز ہی ہے

مِٹْتی نَہیں کَرَم کی ریکھا

قسمت میں لکھی بات ہو کر رہتی ہے ، مقدر کا لکھا اٹل ہے ۔

مٹی پر ہاتھ ڈالتا ہے سونا ملتا ہے، مٹی پکڑنے سے سونا ہوتا ہے

ایسا خوش اقبال ہے کہ جس کام میں ہاتھ ڈالے اس میں سے روپیہ کماتا ہے

مِیاں باہَر پَنج ہَزاری ، بِیوی گَھر میں قَحْط کی ماری

(عور) میاں باہر عیش کررہے ہیں بیوی گھر میں مصیبت جھیل رہی ہے ؛ رک : باہر میاں ہفت ہزاری ، گھر میں بیوی فاقوں ماری جو زیادہ مستعمل ہے

مِیاں بِیوی دو جَنے ، کِس کے لِیے پِیسیں جَو چَنے

گھر کے دو آدمی ہوں تو خست (یا زیادہ محنت) کرنا بے فائدہ ہے

مِیاں بِیوی دو جَنے ، کِس لِیے جَو چَنے

اُس موقعے پر کہا کرتے ہیں جب کسی کے لڑکے لڑکی نہ ہو اور پھر وہ خست کرے یعنی جب صرف میاں بیوی ہی کھانے والے ہیں اور خرچ زیادہ نہیں ہے تو پھر خست کرنا اور جمع کرکے مرنا بیکار ہے

مِیاں بِیوی راضی کَیا کَرے گا قاضی

دو فریق ایک ہو جائیں تو دخل اندازی کرنا بیکار ہے

مِیاں گَئے رَوَند ، بِیوی گَئِیں پَٹ رَوَند

خاوند گھر سے باہر جائیں تو بیوی بھی چل دیتی ہے اس عورت کے متعلق کہتے ہیں جو بہت پھرتی رہے

مِیاں گَھر نَہِیں، بِیوی کو ڈَر نَہِیں

خاوند گھر موجود نہ ہو اور بیوی کھل کھیلے توکہا جاتا ہے

مِیاں ہی کی جُوتی، مِیاں ہی کا سَر

رک : میاں کا جوتا ہو اور میاں ہی کا سر ۔

مِیاں جِس کو چاہے وَہی سوہاگَن

رک : جسے پیا چاہے وہی سہاگن جو فصیح ہے ۔

مِیاں کا دَم اور کِواڑ کی جوڑی

کسی ایسے بھلے آدمی کی بات جس کے پاس کچھ نہیں اور جو کسی بات کی فکر بھی نہیں کرتا

مِیاں کا جُوتا ہو اور مِیاں ہی کا سَر

اپنے ہی ہاتھوں لاچار ہونا ، کسی کی بے عزتی اس کے اپنے ہی کارندوں کے ہاتھوں کرانا

مِیاں کَماؤُ بِی بِی اُڑاؤُ

ایک کمائے دوسرا خرچ کرے

مِیاں کَماتے کیا ہو ایک سے دَس، ساس نَند کو چھوڑ دو، ہَمیں تُمہیں بَس

جہاں عورت خاوند کو لے کر الگ گھر کرنا چاہے تو کہتے ہیں

مِیاں کے مِیاں گَئے، بُرے بُرے سَپنے آئے

مصیبت پر مصیبت پڑے تو کہتے ہیں

مِیاں کی چُلِھیا کَہِیں، بِیوی کی ہَنڈکُلِھیا کَہیں

(عو) باہمی ناچاقی یا بے التفاتی ’’ایسے روکھے پھیکے رہتے ہیں جیسے کبھی میل ہی نہ تھا وہی مثل ہوئی کہ میاں کی چلھیا کہیں بیوی کی ہنڈ کلھیا کہیں ‘‘

مِیاں کی داڑھی واہ واہ میں گَئی

جھوٹی تعریف کی لالچ مین جب کوئی اپنی ساری دولت اڑا دے تب کہتے ہیں

مِیاں کی جُوتی مِیاں کا سَر

آدمی اپنے یا اپنوں کے ہاتھوں کے کیے سے لاچار ہے، اسی کے اسباب سے اسی کا نقصان

مِیاں میرا گَھر نَہِیں ، مُجھے کِسی کا ڈَر نَہِیں

رک : میاں گھر نہیں بیوی کو ڈر نہیں ، جو چاہے کروں جو چاہے نہ کروں (عورتوں میںمستعمل) ۔

مِیاں مِٹُّھو پَڑھو تو پَڑھو نَہیں پِنجرا خالی کَرو

لڑکے جب پڑھتے نہیں تو ان سے کہتے ہیں

مِیاں ناک کاٹنے کو پِھریں، بِیوی کَہے مُجھے نَتھ گَھڑا دو

ایک کچھ کہے دوسرا کچھ، ایک کا کچھ مطلب ہو دوسرا کچھ سمجھے

مِیاں نے ٹوئی، سَب کام سے کھوئی

مالک اگر لونڈی سے اختلاط کرے تو وہ کام نہیں کرتی

مِیاں پِھرےلال گلال بیوی کے رَہیں بُرے اَحوال

میاں باہر عیش کررہے ہیں بیوی گھر میں مصیبت جھیل رہی ہے

مِیاں بِیوی کی لَڑائی دُودھ کی مَلائی

میاں بیوی کا جھگڑا وقتی ہوتا ہے، آج لڑائی تو کل میل

مِیاں بِیوی کی لَڑائی جَیسے سَاوَن بھادوں کی جَھڑیک

میاں بیوی کا جھگڑا وقتی ہوتا ہے، آج لڑائی تو کل میل

مِیاؤُں کو کَون پَکڑے گا

زبردست کی آواز سے ہی ڈر لگتا ہے

مِیان میں سے نِکلے ہی پَڑے ہے

بہت تیز مزاج ہے ، بات بات پرلڑتا ہے

مِیو کا پُوت بارَہ بَرَس میں بَدلَہ لیتا ہے

میو لوگ انتقام لے کر رہتے ہیں ، خواہ دیر میں ہی

مِیوں کا گَھر بُرا

کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی

مِزاج کیا ہے اِک تَماشا ہے، گَھڑی میں تولَہ گَھڑی میں ماشا ہے

جس کا دل و دماغ ٹھکانے پر نہ ہو، ایسے شخص کے لئے کہاوت ہے

مِزاجِ عالی، نَہ تو شَک نَہ نِہالی

جب کوئی شخص مفلسی و تہی دستی میں نازک مزاجی دکھاتا ہے تو اس کی نسبت طنزاً بولتے ہیں مزاج تو امیرانہ رکھتے ہیں مگر بچھا نے کے لیے توشک یا نہالچہ تک میسر نہیں ، غریبی میں امیرانہ مزاج رکھنے والے پر طنزاً بولا جاتا ہے

مو کو نَہ تو کو، لے بھاڑ میں جھوکو

نہ خود اپنے کام میں لائیں گے نہ تمھیں کام میں لانے دیں گے چاہے ضائع ہو جائے تو ہو جائے

موچی کو عَرش پَر بھی بیگار ہی نَصِیب ہوتی ہے

کسی ادنیٰ شخص کو اعلیٰ جگہ پر پہنچا دے وہ اپنی اوقات پر ہی رہتا ہے، آدمی اپنی عادت ترک نہیں کرتا

موچی لَڑیں اور سَرکار کا زِین ٹُوٹے

لڑے کوئی اور نقصان کسی کا ہو ، بڑے لڑیں اور نقصان چھوٹوں کا ہو ، کرے کوئی بھرے کوئی

مُحَبَّت دِل لَگی نَہِیں

عشق آسان کام نہیں

مُحَبَّت کے مارے سَدا گور کِنارے

عاشق ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں

مُحَبَّت کے مارے سَوا گور کِنارے

عاشق ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں

موہے اور نَہ تُجھے ٹھور

تیرے بن مجھے اور میرے بن تجھے کل نہیں ، نہ تو مجھ ہی کو دوسرا ملتا ہے اور نہ تجھ کو ہی دوسرا ٹھکانا ہے

موہے گِن ، موہے گِن ، تُجھے کَون گِنے

کوئی پوچھے یا نہ پوچھے مگر آپ دخل دیے جانا ، خواہ مخواہ کسی بات یا کام میں پاؤں اڑانا ، دخل درمعقولات

موم ہو تو پِگھلے، کَہِیں پَتَّھر بھی پِگھلا ہے

سخت دل آدمی پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا

مُوم کی مَرْیَم کاٹھ کے پائے، اُٹھ ری مَرْیَم تِرے دَھگڑے آئے

اپنے میں بوتا نہیں دوسروں پر بھروسا کرنا اور ڈینگ ہانکنے والے کی نسبت کہتے ہیں

موم کی ناک بَچِھیا کا باوا

مراد : بے وقوف اور کچے کانوں کا ۔

موم کی ناک جِدَھر چاہو موڑ لو

رک : موم کی ناک جدھر چاہو پھیر لو ۔

موم کی ناک جِدَھر چاہو پھیر دو

جدھر چاہو موڑ دو، سیدھے آدمی کے لئے کہتے ہیں

مومِن ایک سُوراخ سے دو مَرتَبَہ نَہِیں ڈَسا جا سَکتا

(حدیث) سچا مسلمان بار بار دھوکا نہیں کھا سکتا ۔

مُوْرْچَگاں را چُو بُوَد اِتَّفاق شیرِ ژِیاں را بَدَر آرَنْد پُوْسْت

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) چیونٹیوں میں اگر اتفاق ہو جائے تو شیر کی کھال اتار لیتی ہیں، بہت سے کمزور متفق ہوکر زبردست کو زیر کرلیتے ہیں، آپس کے اتفاق سے کام بنتا ہے، کمزوروں میں اتفاق ہوجائے تو وہ طاقت ور پر غالب آتے ہیں (شیخ سعدی کی گلستان سے ماخوذ)

مورے باپ کے انچل کپاس، مورے لیکھے پڑل تسار

میرے باپ کے گھر بہت دولت ہے لیکن میری قسمت میں اس میں سے کچھ نہیں، ہندووں میں عورت کو باپ کی وراثت سے کچھ نہیں ملتا ہے

مورِ ضَعِیف اَور سُلیماں کا سامنا

کمزور کا زبردست سے سامنا ہو توکہتے ہیں ۔

موری کی اِینْٹ چَوبارے چَڑھی

چھوٹے گھر کی لڑکی بڑے گھر میں بیاہی جائے تو کہتے ہیں

موری کی اِینٹ مَحَل میں نَہِیں لَگ سَکتی

کمینے کو اعلیٰ درجہ نہیں مل سکتا ۔

موری میں پَتَّھر ڈالو گے تو چِھینْٹیں اُڑیں گی

گندے معاملے میں پڑوگے تو بدنامی ہوگی

موٹا آدمی گَھٹے نَہ دُبْلائے، دُبْلے کا تو کام تَمام ہو جائے

زبردست بڑا صدمہ سہارسکتا ہے، کمزور کو تھوڑی تکلیف بھی پست کردیتی ہے، غریب کو ہر بات میں مشکل ہے

موٹا اتنے دبلا ہو دبلے کا کام تمام ہو

کمزور کو بہ نسبت زبردست کے تھوڑا صدمہ بھی بہت ہے، غریب کو ہر بات میں مشکل ہے

موزَہ کا گھاؤ بِیوی جانے یا پاؤں

رک : موزے کا گھاؤ الخ ، اپنی تکلیف کو انسان خود اچھی طرح سمجھتا ہے ۔

موزے کا گھاؤ مِیاں جانے یا پاؤں

رک : موزے کا گھاؤ الخ ۔

مُوئے بَیل کی بَڑی بَڑی آنکھیں

مرے ہوئے رشتے دار کی حد سے زیادہ تعریف کرنے یا کسی چیز یا واقعے کے گزر جانے کے بعد اس کی تعریف کرنے کے موقع پر مستعمل

مُنڈا جوگی اَور پِسی دَوا پَہْچانے نَہِیں جاتے

سر منڈے ہوئے جوگی کی شکل و صورت سے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا باطن کیسا ہے جیسے کہ پسی ہوئی دوا کو دیکھ کر پتا نہیں چلتا کہ کیا چیز ہے

مُنہ چَلے سَتَّر بَلا ٹَلے

ساری طاقت کھانے پینے سے ہوتی ہے، کلہ چلے ستر بلا ٹلے کا مترادف

مُنہ چھوٹا اور بات بَڑی

حوصلے اور حیثیت ، رتبے یا دسترس وغیرہ سے بڑھ کر دعویٰ ، شیخی یا کوئی اور بات ؛ اپنی عاجزی و انکساری ظاہر کرنے کے موقع پر مستعمل

منہ چھوٹا بات بڑی

حیثیت سے بڑھ کر با ت کرنا، جب کوئی کمینہ آدمی نخوت وغرور وغیرہ کی گفتگو کرتا ہے تو کہتے ہیں

مُنہ چِکْنا پیٹ خالی

ظاہری ٹیپ ٹاپ بہت مگر بھوکا اور نادار

مُنہ دَر مُنْہ خالَہ نانی ، پِیٹھ پِیچھے دُشمَن جانی

ظاہر میں خوشامد اور باطن میں عداوت رکھنے والے کے لیے مستعمل ۔

مُنہ دیکھ کے بِیڑا، چُوتَڑ دیکھ کے پِیڑھا

ہر ایک کے ساتھ تہذیب سے پیش آنا چاہیئے

مُنہ دیکھ کے تَھپَّڑ لَگایا جاتا ہے

ہر شخص کی حیثیت دیکھ کر اس سے ویسا ہی برتاؤ کیا جاتا ہے

مُنہ دیکھی سَب کَہتے ہیں، خُدا لَگتی کوئی نَہیں کَہتا

سب خوشامد اور طرف داری کی بات کرتے ہیں سچ اور انصاف کی کوئی نہیں کہتا

مُنہ دھووے، روزے کھووے

رندوں ، بے نمازوں کا مقولہ ہے

منہ گیل طمانچے ہیں

جیسا آدمی ہوتا ہے ویسا ہی اسے ملتا ہے

مُنہ ہالے اور سَتَّر بَلا ٹالے

مقدور والے کے سب دشمن پست رہتے ہیں ؛ غذا ملتی رہے تو بیماری دور رہتی ہے ، ایک منھ چلے اور ستر بلا ٹلے.

مُنہ ہی مُنْہ مارے اور تَوبَہ تَوبَہ پُکارے

خود ہی سزا دے خود ہی پناہ مانگے ، اپنا الزام مظلوم کے سر تھوپے .

منہ کا نوالہ تو نہیں ہے

آسان کام نہیں ہے

منہ کالا جات اجالا

شریفوں کے بد اعمال

مُنہ کے آگے خَندَق نَہیں

بہت بک بک کرتا ہے ، بولنے لگے تو رکتا ہی نہیں ، بڑابکی ہے ، زبان رکتی نہیں.

مُنھ کے چار مُنھ

چہرے پر اتنے زخم لگے کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا .

مُنہ کھائے آنْکھ لَجائے

جس کا کھائے اس کا احسان مند ہونا ہی پڑتا ہے

مُنہ کی مانْگی مَوت نَہِیں مِلتی

رک : منھ مانگی موت نہیں ملتی ۔

مُنہ کی مِیٹھی پیٹ کی کھوٹی

ظاہر میں دوست باطن میں دشمن ، منافق ہے ۔

مُنہ کی مِیٹھی، ہاتھ کی جُھوٹی

میٹھی باتیں تو کرتی مگر دیتی دلاتی کچھ نہیں.

مُنہ کی اتری لوئی، تو کیا کَرے گا کوئی

جس کی عزت چلی گئی ہو اسے پھر کس بات کا ڈر

مُنہ کی اُتری لوئی، تو کیا کَرے گا کوئی

کوئی جان بوجھ کر بے شرمی اختیار کرے تو کہتے ہیں ۔

مُنہ کوئِلَہ سا کالا ، نام بی گُلاب

غیر موزوں نام ، نام اچھا صفات بری.

مُنہ لَگائی ڈومنی بال بَچّوں سَمَیت آئی

رک : منہ لگائی ڈومنی گاوے / ناچے ، تال بے تال.

مُنہ لَگائی ڈومنی کُنْبَہ ساتھ لائی

اس وقت کہتے ہیں جب کوئی ذرا سا بے تکلف کرنے پر سر پر چڑھ جائے.

مُنہ لَگی اور فِعل میرے پیٹ میں

رک : منہ لگنی دو گن پیٹ میں.

مُنْہ لَگْنی دوگَن پیٹ میں

ذرا سی پی اور برے کام کرنے لگے ، ذرا سی بات کا بہت برا اثر ہوتا ہے.

مُنہ مانگے مَوت نَہِیں مِلتی

ہر کام حسب خواہش نہیں ہوتا ، کسی کام کے نہ ہونے کا رنج ہونے پر کہتے ہیں ۔

مُنہ مانگی مَوت مِلتی ہے ، مُراد نَہِیں مِلتی

عاجزی کے وقت عورتیں اپنے لیے بددعا کے طور پر کہتی ہیں.

مُنہ مانْگی مَوت نَہِیں مِلْتی

۔مثل۔ خواہش کے موافق کام نہ ہونے سے رنج نہہونے کے لےے بولتے ہیں۔

منہ مانگی موت تو ملتی ہی نہیں

خواہش کے مطابق کام نہیں ہوتا، جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے

منہ مانگی مراد کسی کو نہیں ملتی

اپنا چاہا نہیں ہوتا خدا کا چاہا ہوتا ہے

منہ مانگی مراد ملے

فقیروں کی دعا، حسب خواہش کام ہوجائے

مُنہ مانگی مُراد نَہِیں مِلتی

اپنا چاہا نہیں ہوتا ، خدا کا چاہا ہوتا ہے.

مُنہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت

کہن سال ہونا، نہایت بڑھاپے کی حد پر ہونا

منہ میں کے دانت ہیں

کیا طاقت ہے، کیا کرسکتے ہو

مُنہ میں روٹی سَر پر جُوتی

کمالِ بے غیرتی کے ساتھ روٹی ملتی ہے، ذلت اور رسوائی سے گزر ہونا

مُنہ میں صابُون گُھلا ہُوا ہے

منھ پھیکا اور بدمزہ ہے.

مُنہ میں زَبان حَلال ہے

منھ میں زبان سچ بولنے کے لیے ہے اگر (جھوٹ کی طرح) حرام ہوتی تو منھ میں نہ رہتی، سچ کہو، انصاف لگتی کہو

منہ نہ توہ نام چاند خاں

جس صفت میں مشہور ہے اس کے خلاف صف سے متصف ہے، (کسی میں) شہرت کے مطابق صفت نہیں پائی جاتی بلکہ اس سے متضاد صفت پائی جاتی ہے

مُنہ نِکلی کوٹھوں چَڑھی

رک : منھ سے نکلی پرائی ہوئی.

منہ نور نہ پیٹ صبور

نہ تو حیثیت اور نہ صبر، غریب ہیں اور صبر بھی نہیں

مُنہ پَڑی اَور ہوئی پَرائی بات

بات منھ سے نکل جائے تو پرائی ہو جاتی ہے یعنی قابو سے باہر ہوجاتی ہے

مُنہ پَر آئی ہُوئی نَہِیں رُکتی ہے

جو بات خیال میں آئے وہ انسان کہہ ہی دیتا ہے

مُنہ پَر آئی تو نَہِیں رُکتی

خیال میں آئی ہوئی یا سچی بات انسان کہہ ہی دیتا ہے ۔

مُنہ پَر بھائی، دِل میں قَصائی

سامنے کچھ ، پیٹھ پیچھے کچھ ، زبان پر بھلائی کی باتیں لیکن دل میں برائی ، منافقت کے اظہار کے لیے مستعمل ۔

مُنہ پَر ڈالی لوئی، تو کیا کَرے گا کوئی

آدمی ڈھیٹ یا بے غیرت ہوجائے تو اسے کسی کی پروا نہیں ہوتی

مُنہ پَر خالَہ نانی، پِیچھے دُشمَن جانی

خوشامدی اور مکار آدمی کے متعلق کہتے ہیں

مُنہ پَرکُچھ ، دِل میں خاک نَہِیں

محض ظاہرداری ہے ، زبانی باتیں بناتے ہیں ۔

منہ پوت پیچھے حرامی موت

سامنے تعریف ، غیر حاضری میں بد گوئی

مُنہ پَر پُوت، پِیچھے حَرامی مُوت

سامنے تعریف ، غیر حاضری میں بدگوئی

مُنہ پَر رام رام اور بَغَل میں چُھری

کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے منافقوں کی نسبت کہتے ہیں ۔

مُنہ پھیر کَر گَھر دیکھ کَر

گھر اُس طرف ہے ، فورا ً چلے جاؤ ۔

مُنہ رَہتے ناک سے پانی پِئیں

فضول اور الٹی باتیں کرتے ہیں ، کسی چیز کا غلط استعمال یا الٹی بات کرنے کے موقع پر مستعمل

مُنہ سے بات نِکلی ہَوا میں پِھری

بات کہنے کے بعد مشہور ہوجاتی ہے

مُنھ سے بولو سر سے کھیلو

بات چیت کرو، خاموش نہ رہو، سب کے ساتھ مستعمل ہے

مُنہ سے دُودھ کی بُو آتی ہے

یعنی ابھی تمہارا بچپن دور نہیں ہوا

مُنہ سے دُودھ ٹَپَکْتا ہے

نادان اور ناتجربہ کار ہے

مُنہ سے کَہنا آسان ہے کَرنا مُشکِل ہے

کچھ کہنا آسان ہے لیکن عمل کر کے دکھانا مشکل ہے

مُنہ سے نِکلی کوٹھوں چَڑھی

رک : منھ سے نکلی پرائی ہوئی ۔

مُنہ سے نِکلی پَرائی ہُوئی

جو بات زبان سے ادا ہوجائے وہ راز نہیں رہتی ، راز منھ سے نکلتے ہی مشہور ہوجاتا ہے ۔

مُنہ سُوئی، پیٹ کُوئی

ذراسا منھ اور بڑا سا پیٹ ، جثہ چھوٹا سا مگر خوراک بہت ہو توکہتے ہیں ، آمدن کم اور خرچ زیادہ ۔

مُدَّعی مُدَّعا عَلیہ ناؤ میں، شاہد تیرتے جائیں

اپنے حمایتی کی بے قدری کرنے کے موقعے پر بولتے ہیں

مُدَّعی سُست گَواہ چُست

رشوت لے کر جو ہمیشہ جھوٹی گواہی دینے کو تیار رہتے ہیں انہیں بھی کہتے ہیں

مُفْلِس اَور فالْسے کا شَربَت

رک : مفلس اور ہاٹ کی سیر

مُفلِس اور ہاٹ کی سَیر

غریب کا فضول خرچی کرنا ، لنگوٹی میں پھاگ کھیلنا ، مفلسی میں امیروں کی سی عادتیں۔

مُفلِس ہَمیشَہ خوار

غریب آدمی ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے

مُفلِس کا چَراغ رَوشَن نَہِیں ہوتا

غریب کے پاس چراغ جلانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا، مفلس ہمیشہ تکلیف میں رہتا ہے

مُفلِس کی جَوانی ، جاڑے کی چانْدنی یُوں ہی جاتی ہے

چیز کا بے کار اور بے فائدہ ضائع ہونا۔

مُفلِس کی جَوانی اور جاڑوں کی چانْدی کِس نے دیکھی

جاڑے کی چاندنی سے لطف نہیں اٹھایا جاسکتا ، بے فائدہ چیز جس سے لطف نہ اٹھا یا جا سکے تو یہ کہاوت کہتے ہیں ۔

مُفلِس کی جورُو سَب کی بھابی

غریب کی چیز پر ہر شخص قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، غریب کی چیز پر سب لوگ حق جتانے لگتے ہیں

مُفلِس کی جورُو سَدا نَنگی

مفلس ہمیشہ تکلیف میں رہتا ہے، غریب کے پاس کچھ نہیں ہوتا

مُفلِس سے سوال حَرام ہے

غریب یا مجبور کو کسی طرح کی تکلیف دینا درست نہیں

مُفلِس تُو خُوش کہ زَر نَہ داری

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) اے مفلس تو ہی اچھا ہے کہ دولت نہیں رکھتا ، یعنی دولت کے جھگڑوں سے تجھے نجات ہے۔

مُفلِسی اور فالْسے کا شَربَت

غریب کا فضول خرچی کرنا ، لنگوٹی میں پھاگ ، مفلسی میں امیروں کی سی عادتیں۔

مفلسی اور ہاٹ کی سیر

غریب کا فضول خرچی کرنا، لنگوٹی میں پھاک

مُفلِسی میں آٹا گِیلا

ناداری میں زیادہ خرچ ہونا، حالتِ افلاس میں ایسے مصارف کا پیش آنا جس سے گریز محال ہو

مُفلِسی میں کھوٹا پَیسہ کام آتا ہے

ضرورت پر وہ چیز بھی کام آتی ہے جسے آدمی ناچیز سمجھ کر پھینک دیتا ہے ، یگانہ کیسا ہی برا کیوں نہ ہو آڑے وقت میں ضرور مدد کرتا ہے۔

مُفلِسی سَب بَہار کھوتی ہے، مَرد کا اِعْتِبار کھوتی ہے

غریبی میں زندگی کا کوئی مزہ نہیں آدمی بے اعتبار ہو جاتا ہے

مُفْت کا چَنْدَن گِھسے جا بَلَلّی

مفت کی چیز آدمی بے دردی سے خرچ کرتا ہے

مُفْت کا دَردِ سَر اَپنے سَر لِیا ہے

یعنی دو سرے کی زحمت خود اوڑھ لی ہے

مُفت کا کَرنا اَور دُور لے جانا

ایک تو بیگار دوسرے دور کی

مُفْت کا کھائیں، گِیت گائیں

مفت کی کھائیں ، بے فکروں اور مفت خوروں کی نسبت کہتے ہیں

مُفْت کا مال کِس کو بُرا لَگْتا ہے

مفت کا مال ہر کسی کو اچھا لگتا ہے

مُفْت کا مال قَاضِی کو بھِی حَلال

مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال ہے، کوئی چیز بے محنت یا بن داموں ملے تو بڑے بڑے متشرع بھی حلال حرام کی پروا کیے بغیرلے لیتے ہیں، کوئی چیز بنا محنت و مول مل جائے تو پرہیزگار بھی حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر لے لیتے ہیں

مُفت کا شِکار ہے

بے مشقت حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتے ہیں

مُفت کے چڑوا بَھر بَھر پھینکے

جو چیز مفت ملے اسے انسان بیدردی سے خرچ کرتا ہے

مُفْت کے کھانے والے ہَم اَور ہمارا بھائی

وہاں کہتے ہیں جہاں کوئی بے شرمی سے لوگوں کا مال کھائے

مُفت کے قِصّے مول لینا

خواہ مخواہ میں کسی کام کا ذمہ لینا

مُفت کی دَعوَت میں فَقَط روٹی ہی گوشت ہے

مفت کی معمولی چیز بھی اچھی ہوتی ہے

مُفت کی گَنْگا اِنعام کے غوطے

مفت کا مال جتنا چاہو خرچ کرو

مُفت کی ماری قاضی کو بھی حَلال ہے

رک : مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال ۔

مُفْت کی شَراب قاضی کو بھی حَلال ہے

مسلمانوں میں شراب پینا منع ہے، خاص کر قاضیوں کے لئے لیکن مفت کی ملے تو پھر پینے میں برا کیا؟

مُفت کی ٹھائیں ٹھائیں

بے کار جھگڑا، بے فائدہ جھگڑا، بے فائدہ زحمت

مُفت میں نِکلے کام تو کاہے کو دیجیے دام

مفت میں کام کرانے والوں کو کہا جاتا ہے

مُفْت را، چَہ گُفت

(اردو میں مستعمل فارسی کہاوت) جو چیز بے محنت یا بے قیمت ملے اس کے لینے میں کیا عذر ہو سکتا ہے ، جو چیز مفت ملے اس میں کیا کلام ۔

مُفت کَرَم داشتَن

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) کوئی کام اپنی غرض سے کرنے اور دوسرے پر اس کی غرض ظاہر کر کے احسان جتانے کے موقع پر مستعمل یعنی خواہ مخواہ احسان جتانا ۔

مُغَل بے مُغَل تیرے سَر پَر کولھو

بے تکی بات کہنے والے کے جواب میں مستعمل ، مثلا ً کسی مسلمان نے ایک ہندو جاٹ سے جو کھاٹ لیے جاتا تھا کہا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ ، وہ مسلمان ایک دن کولھو سر پر رکھے لیے جاتا تھا ، جاٹ نے کہا ’’ مغل رے مغل تیرے سر پر کولھو ‘‘ مغل نے کہا ’’ یار تک تو نہ ملی ‘‘ جاٹ بولا پڑی مت ملو ، بوجھوں تو مرے ۔

مُغَل کا پُوت گَھڑی میں اَولِیا گَھڑی میں بھُوت

رک : پٹھان کا پوت گھڑی میں اولیا اور گھڑی میں بھوت جو زیادہ مستعمل ہے

مُج کو پاتا ہے تو تَلْوار نَہیں پاتا

(چھری کو نہیں پاتا زیادہ بولتے ہیں) دشمن جان ہے کیا کرے کہ بس نہیں چلتا

مُجَرَّد سَب سے اَعلیٰ جس کے لَڑکا نَہ بالا

بن بیاہا یعنی کنوارا آدمی بہت اچھا ہوتا ہے، آزاد ہوتا ہے اور دنیا کے بکھیڑوں سے بچا رہتا ہے

مُجھ کو چاہتے ہو تو میرے کُتّے کو بھی چاہو

اگر مجھ سے محبت ہے تو میری ذریت سے بھی محبت رکھنی ہو گی ۔

مُجھ کو کوئی نَہ مارے تو سارے جَہاں کو مار آؤُں

طنزاً بزدل اور نامرد کو کہتے ہیں

مُجھ کو پاتا ہے تو تَلوار کو نَہِیں پاتا

جان کا دشمن ہے ؛ کیا کرے کچھ بس نہیں چلتا یعنی جب تک خدا نہ چاہے کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔

مجھے اور تجھے ٹھور

مجھے تیرے بغیر اور تجھے میرے بغیر چین نہیں

مُجھے بُڑھیا نہ کَہو کوئی ، مَیں نے جوانوں کی بھی عَقْل کھوئی

چالاک ضعیف اپنے متعلق کہتا ہے کہ وہ جوانوں کو انگلیوں پہ نچا سکتا ہے ؛ ضعیف چالاک عورت کا قول ہے کہ میں بڑھیا ہوں تو کیا ہوا میں نوجوانوں کو بھی فریفتہ کرلیتی ہوں ؛ بزرگوں کی بہ نسبت جوان ناپختہ کار ہوتے ہیں ، جوان بزرگوں سے علم و شعور حاصل کرتے ہیں

مجھے دے سوپ تو ہاتھوں پھونک

خود غرض آدمی کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے اپنے کام سے کام ہوتا ہے دوسرے کی تکلیف کی پروا نہیں ہوتی

مُجھے اور نَہ تُجھے ٹھور

دونوں لازم ملزوم ہیں

مُجھے تو بَھیرْوِیں بھاوے

خواہ مخواہ واقفیت جتانا ، خواہ مخواہ علم جتانا

مُجھی دے سوپ تو ہاتھوں پُھونْک

خود غرض آدمی کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے اپنے کام سے کام ہوتا ہے دوسرے کی تکلیف کی پروا نہیں ہوتی

مُکھ پَر رام رام ، پیٹ میں چُھری

ظاہر کچھ ، باطن کچھ ، ظاہر میں نیک ، باطن میں ظالم ، مکار ، عیار .

مُکْھڑا تَلووں کو نَہ پَہُنْچے

ایک شخص اس قدر خوبصورت ہے کہ دوسرے شخص کے چہرے کا رنگ اس کے تلووں کے رنگ کا مقابلہ نہیں کر سکتا (انسان کی رنگت کی تعریف میں کہتے ہیں) ، مقابلۃً ایک انسان کا دوسرے انسان سے کم تر ہونا ؛ مقابلے میں بہت حقیر ہے ۔

مُلاحَظے کی جَگَہ مُلاحَظَہ کِیا جاتا ہے

مروّت والے کے ساتھ مروّت کی جاتی ہے ، ہر جگہ مروّت کرنا خرابی کا باعث ہوتا ہے

مُلازِمِ نَو، تیز رَو

نیا نوکر کام میں تیزی دکھاتا ہے

مُلک سے مِلک ، مِلک سے مُلک

بہت سے تھوڑا اور تھوڑے سے بہت ہو جایا کرتا ہے .

مُلْکِ خُدا تَنْگ نِیسْت، پائے مُرا لَنْگ نِیسْت

دنیا بہت وسیع ہے اور فقیر چلنے پھرنے سے معذور نہیں

مُلّا کی داڑھی تَبَرُّک میں گَئی

باتوں باتوں میں یوں ہی کسی چیز کے ضائع ہوجانے کے موقع پر بولتے ہیں

مُلّا کی ماری حَلال

بااثر اور بڑے لوگوں کا برا کام بھی اچھا سمجھا جاتا ہے

مُلّا نَہ ہوگا تو کیا مَسْجِد میں اَذان نَہ ہوگی

دنیا کے کام کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے بند نہیں ہوتے

مُلّا شُدَن آسان اَست ، اِنسان شُدَن مُشکِل

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) ملا ہونا آسان ہے انسان ہونا مشکل ہے

منڈے سر پر پانی پڑا ڈھل گیا

بے شرم شخص کے لیے کہا جاتا ہے

مُنْڈی گائے سَدا کَلور

جس گائے کے سینگ نہ ہوں وہ بچھیا معلوم ہوتی ہے نیز سن سے اُتری ہوئی وہ عورت جو جوان بنے

مُقَدَّر کا لِکھا نَہِیں مِٹتا

نوشتۂ تقدیر ضرور ہو کر رہتا ہے

مُقَدَّر میں جو ہے مِلتا ہے

جو کچھ قسمت میں ہو ضرور ملتا ہے، کمی بیشی نہیں ہو سکتی

مُقَدَّر میں جو کُچھ ہے ہو رَہے گا

قسمت میں جو لکھا ہے ضرور ہوگا، ٹل نہیں سکتا

مُرَبّے چور پَرائے دَھن پر

پرائی دولت کی خاطر جان دینا کمال حماقت ہے،بیگانہ مال مارنا آسان نہیں

مُردَہ آئے گا تَکیے پَر

آدمی جائے گا کہاں ہر پھر کے یہیں آئے گا

مُردَہ بِہِشْت میں جائے چاہے دوزخ میں ، حَلوے مانْڈے سے کام

خود غرض آدمی کو اپنے مطلب سے کام ہے کوئی جیے یا مرے ۔

مُردَہ دوزَح میں جائے کِہ بِہِشْت میں ، اَپنے حَلْوے مانْڈے سے مَطْلَب

خود غرض کو اپنے کام سے کام ہے خواہ کوئی مرے یا جیے

مُردَہ دوزَخ میں جائے یا بِہِشْت میں ، ہَمیں اَپنے حَلْوے مانْڈے سے کام

خود غرض کو اپنے مطلب سے کام ہوتا ہے خواہ کوئی جیے یا مرے ۔

مُردَہ پَر جَیسے سَو مَن مِٹّی، وَیسے ہزار مَن

جب مصیبت حد سے گزر جائے پھر سینکڑوں مصیبتیں کچھ معلوم نہیں ہوتیں ؛ مصیبت زدوں کو آنے والی مصیبتوں کا کیا ڈر ؛ مصیبت خواہ تھوڑی ہو یا بہت مصیبت ہی تو ہے

مُردَہ بَدَسْت زِندَہ

غریب اور کمزور ظالم کے ہاتھوں لاچار ہے

مُردَہ دَر دَستِ زِندَہ

رک : ُمردہ بدست زندہ ۔

مردن بہ عزت بہ از زندگانی بذلت

عزت و آبرو کے ساتھ مرنا ذلیل زندگانی سے بہتر ہے

مُردے کی گانْڈ میں لَگا دو تو اُٹھ بَیٹھے

سرخ مرچ کی تیزی اور ترش چیز کی شدت یا اثر وغیرہ ظاہر کرنے کے لیے کہتے ہیں

مُردے کی گور پَہچانتا ہُوں

دوسرے کے داؤ فریب کو اچھی طرح سمجھتا ہوں

مُردے کو بَیٹھ کَر روتے ہَیں، روزی کو کَھڑے ہو کَر

بے روزگاری کا غم سب سے زیادہ ہوتا ہے

مُرْدے پَر جَیسے سَو مَن مِٹّی ، وَیسے ہَزار مَن

جب مصیبت پڑی تو جیسی تھوڑی ویسی بہت ۔

مُردوں پَر کَفَن ہے اَور زِندوں پَر قَبا

تہی دستی ظاہر کرنے کے لیے مستعمل ۔

مُرْغ بانگ نَہ دے گا تو کیا صُبح نَہ ہوگی

کوئی کام کسی کی ذات ِخاص پر موقوف نہیں ، دنیا کا کام وقت پر ہوتا رہے گا

مُرْغ کی بانْگ کو کَون سُنتا ہے

کم درجے کے آدمی کی طرف کون توجہ کرتا ہے

مُرْغ کی ایک ٹانْگ

اپنی بات کی ہٹ ، اپنے غلط یا جھوٹے قول کی پچ (اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اپنی بیجا بات پر اَڑا ہوا ہو)

مُرْغ سَر بُرِیدَہ بانْگ نَمی دَہَد

(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) سر کٹا مرغ بانگ نہیں دیتا ، دشمن کو قتل کرنا ہی بہتر ہے ۔

مُرْغا بانْگ نَہ دے گا تو کیا صُبح نَہ ہوگی

کوئی کام کسی خاص شخص پر منحصر یا موقوف نہیں، بستی دنیا تک کام ہوتے ہی رہیں گے

مُرْغا ہَضم، بَکری پَر دَم

چھوٹی چیز لینے کے بعد بڑی چیز پر نظر ہے

مُرْغا نَہ ہوگا تو کیا اَذان نَہ ہوگی

کوئی کام کسی خاص شخص پر منحصر یا موقوف نہیں، بستی دنیا تک کام ہوتے ہی رہیں گے

مُرْغا پَشم بھیڑ ہَضم

جو بھیڑ کو ہضم کر سکتا ہے اس کے لیے مرغا کیا چیز ہے

مُرغے کی بانْگ کا کیا اِعْتِبار

بکواسی آدمی کی ڈینگ کا کیا اعتبار

مُرغےکی بانْگ کو کَون صَحِیح رَکھتا ہے

بکواسی کی ڈینگ کا کیا اعتبار یا عورت کی بات قابل ِاعتماد نہیں

مُرغےکی ایک ٹانْگ

اُس موقع پر مستعمل جب کوئی اپنی غلط بات پر اڑا رہے یا ہٹ دھرمی کرے ۔

مرغی جان سے گئی کھانے والے کو مزہ نہ آیا

ناقدری کرنے کے موقع پر مستعمل ہے

مرغی کو تکلے کا گھاؤ بہت ہے

۔مثل غریب کو تھوڑا نقصان بھی بہت ہے۔کمزور کو تھوڑا صدمہ بھی بہت ہے۔(محصنات)بڑھیا ہریالی اورکوٹھری کی دیوارمیں آکر بچ گئی مگر وہی مثل ہے مرغی کو تکلے ہی کا گھاؤ بہت ہوتاہے دوتین دوہتڑ جو اس پر جمے سسکیاں لیینے لگی۔

مُرغی کے خواب میں دانَہ ہی دانَہ

جسے جس کی فکر رہتی ہے خواب میں بھی اسے وہی چیز دکھائی دیتی ہے

مُرغی کے لِیے تَکلے کا زَخم بھی بَہُت ہوتا ہے

رک : مرغی کو تکلے کا گھاؤ بس الخ ۔

مُرغی کی اَذان اور عَورَت کی گَواہی کا اِعْتِبار نَہیں

مرغی کا اذان دینا خلاف فطرت ہے اور عورت کی گواہی معتبر نہیں

مرغی کی اذان کون سنتا ہے

عورت کی بات کا کوئی اعتبار نہیں، اگر مرغی کی بجائے مرغے کہا جائے تو بکواسی ڈینگ کا کیا اعتبار

مرغی کی بانگ کا کیا اعتبار

کمزور کو کوئی نہیں پوچھتا

مُرغی کی بانْگ کون سُنتا ہے

کمزور کو کوئی نہیں پوچھتا

مُرغی کی بانْگ رَوا نَہِیں

عورتوں کی مردوں میں قدر نہیں، عورتوں کی بات کی اہمیت نہیں ہوتی

مُرْغی کی ایک ٹانْگ

رک : مرغی کی ایک ٹانگ ، وہاں بولتے ہیں جہاں کوئی اپنی غلط بات پر اڑا رہے ۔

مُرْغی نَو جَگَہ حَلال نَہِیں ہوتی

تھوڑی چیز میں ہر شخص کو الگ الگ ھصہ نہیں دیا جا سکتا.

مُرغی تو جان سے گَئی، کھانے والوں کو مَزا نَہ آیا

رک : مرغی اپنی جان سے گئی کھانے والوں کو مزا نہ آیا ۔

مُرغوں کے خواب میں دانَہ ہی دانَہ

جو آدمی کے دل میں ہوتا ہے وہی خواب میں دکھائی دیتا ہے ، انسان ہر وقت اپنے مطلب ہی کی باتیں سوچتا ہے ؛ بلی کے خواب میں چھیچڑے

مُسَلمانان دَر گور و مُسَلمانی دَر کِتاب

۔(ف) مثل۔ نیک لوگ گزر گئے اور نیکی کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں۔ پکے مسلمانوں کے موجود نہ ہونے کے موقع پر بطور اظہار افسوس یہ فقرہ بولتے ہیں۔

مُسَلْمانی اَورآنا کانی

اپنی جنس سے پہلوتہی کرنے والے کی نسبت بولتے ہیں ، مسلمان ہونے کے باوجود ہمدردی سے پہلوتہی

مسلمانی میں آنا کانی کیا

جو کام کرنا ہی ہے اس میں حیلے حوالے کی ضرورت ہی کیا ہے

مُسَلْمانی آبادانی

مسلمان ہونا باعث ِبرکت ہے

مُشْکِلے نِیْست کہ آساں نَہ شَوَد ، مَرْد بایَد کہ ہَراساں نَہ شَوَد

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے ، انسان کو چاہیے کہ ہراساں نہ ہو ، ناامید نہ ہونا چاہیے ؛ مصیبت سے مقابلہ کرنے کے وقت کہتے ہیں

مُشْتَری ہوشْیار باش

اس موقعے پر کہتے ہیں جب خریدار سودا دیکھ بھال کر نہ لے اور نقصان اُٹھائے

مُشْتے اَزْ نَمُونَہ

رک : مشتے نمونہ از خروارے ۔

مُصِیبَت کبھی تَنہا نَہِیں آتی

کہتے ہیں کہ انسان پر جب کوئی بُرا وقت آئے تو پریشانیاں اور بڑھ جاتی ہیں

مسلماناں در گو و مسلمانی در کتاب

مسلمان مرگئے اور اسلام کتابوں میں رہ گیا، پکے مسلمانوں کے نہ ہونے پر بطور افسوس کہتے ہیں

مُٹّھی بانْدھے آئے ، ہاتھ پَسارے جائے

جیسے خالی ہاتھ آئے ویسے ہی خالی ہاتھ گئے ، دنیا میں جیسے آتا ہے ویسے ہی خالی ہاتھ جاتا ہے

مُٹّھی بَرابَر ہَڈِّیاں اَور دَعْوے یہ

کمزور آدمی ہو کر ایسا دعویٰ کرتا ہے

مُٹّھی مُٹّھی اَنبار ، ذَرَّہ ذَرَّہ کَھنڈسار

تھوڑا تھوڑا مل کر بہت ہو جاتا ہے

مُوئے باپ کی بَڑی بَڑی آنکھیں

انسان کی قدر مرنے کے بعد ہوتی ہے ۔

مُوئے کا کوئی نَہیں، جِیتے کا سَب کوئی

زندہ کی سب خوشامد کرتے ہیں مرے ہوئے کا کوئی نام نہیں لیتا ، روپے کے سب یار ہوتے ہیں کنگال کی مٹی پلید ہے ، طاقت ور کے سب ساتھی ہیں کمزور کا کوئی ساتھ نہیں دیتا

مُوئے کی قَبر اَور جِیتے کا گَھر

مرُدے کو قبر میں آرام اور زندہ کو گھر میں ، ہر شخص اپنی جگہ پر ہی موزونیت کے ساتھ رہتا ہے ؛ ہر شخص اپنے ہی مقام پر خوش رہتا ہے ؛ ہر چیز اپنے صحیح ٹھکانے پر بھلی لگتی ہے

مُوئے کو مارے شاہ مَدار

رک : مرے کو ماریں شاہ مدار جو زیادہ مستعمل ہے ۔

مُوئے پَر تِین دِن بھاری

کہا جاتا ہے کہ مرُدے کی روح پر تین دن تکلیف رہتی ہے ، مردے سے تین دن تک اعمال کی پرسش ہوتی رہتی ہے ۔

مُوئی بَچِھیا بامَن کو دان

نکمّی اور ناقص چیز جو اپنے کام کی نہ ہو دوسرے کو دے دی یا خدا کے نام پر خیرات کردی

مُوئی مائی، ٹُوٹی سَگائی

معاملہ قطع ہونے کے بعد کچھ غرض نہیں ہوتی

مُوں پَو مَسجِد دِل میں بُت خانَہ

ظاہر کچھ باطن کچھ ، بظاہر مسلمان دل میں کافر ۔

مونڈ منڈائے تین گن، گئی ٹانٹ کی کھاج، بابا ہو جگ میں پھرے پیٹ بھر کھایا ناج

سر منڈوانے کے تین فائدے ہیں سر کی کھجلی جاتی رہتی ہے بابا بن کر دنیا کی سیر ہوتی ہے اور پیٹ بھر کر روٹی ملتی ہے یعنی فقیر بن جانے میں مزہ ہے

مُونڈھے بھی اَپنے اَور ہاتھ بھی اَپنے

اختیار ہر طرح سے اپنے قابو میں ہے جیسا چاہیں کریں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں

مُونگ موٹھ میں چھوٹا بَڑا کَون

برادری میں سب برابر ہیں، اپنائیت میں غریب امیر برابر ہوتے ہیں

مُونگ سُونْگھنی نار، بَکری کھائے چار

بہ ظاہر نازک ہے مگر کھاتی بہت ہے ، جو عورت زیادہ کھائے اس کے متعلق کہتے ہیں

مُونْھ میں دانْت نَہ پیٹ میں آنْت

بہت بوڑھے کی نسبت کہتے ہیں ۔

مُوچھ مَروڑا روٹی توڑا

اس شخص کے متعلق کہتے ہیں، جو مفت کی روٹیاں کھائے، کام کچھ نہ کرے اور موچھوں پر تاؤ دیتا پھرے

مُوکُو نَہ تُوکُو بھاڑ میں جھونْکُو

نہ میرے کام کا نہ تمھارے کام کا ، ایسی چیز کا کیا کرنا ہے دور کرو

مُول سے بِیاج پِیارا ہوتا ہے

اصل زر یا مال سے زیادہ اس کی آمدنی بھلی معلوم ہوتی ہے

مُولیم کے چور کو سُولی

چھوٹے جرم پر بڑی سزا (جرم اور سزا میں عدم توازن کے موقع پر مستعمل) ۔

مولی اپنے ہی پتوں بھاری

جب اپنا ہی گزارہ مشکل سے ہے تو دوسروں کو کیا دیں گے

مولی کے پتواتوں پر لون کی ڈلی

اس کے متعلق کہتے ہیں جو اپنی معمولی چیزوں کا ذکر بڑی شیخی سے کرے

مونڈ دیا مانگ کھاؤ

سر منڈاؤ اور مانگ کھاؤ تو چیلا بنو

مُورَک کی ساری رَین چَتُر کی ایک گَھڑی

رک : مورکھ کی ساری رین چتر کی ایک گھڑی

مُورَکھ کے بَکھان سَہاوے

نادان کو نصیحت سننے کی عادت ہوجاتی ہے

مُورَکھ کے ہاتھ کَمان، بُوڑھا بَچے نَہ جَوان

نادان مگر ذی مقدور شخص بغیر سوچے سمجھے کام کرتا ہے

مُورَکھ کے سَمجھائے گِیان گانْٹھ جائے

بے وقوف کو سمجھانے سے علم ضائع ہوتا ہے

مُورَکھ کی ساری رَین چَتُر کی ایک گَھڑی

بے وقوف کے ساتھ ساری رات رہنے کی بنسبت عقل مند کے ساتھ گھڑی بھر رہنا اچھا

مُورَکھ کو مَت سونپ تُو چَتُرائی کا کام، گدھا بِکَت مِلتے نہیں بدھ گھوڑے کے دام

بے وقوف کے سپرد عقل کا کام نہیں کرنا چاہیے، گدھے کی قیمت بڑے گھوڑے کے برابر نہیں ملتی

مُورَکھ کو سَمجھانا سرس بیچ چلی جائے، جیوں َپتَّھر کے مارے چوکھو تیر نسائے

بے وقوف کو نصیحت کرنے سے تمام اچھے مقاصد کا نقصان ہو جاتا ہے

مُوسَل کَریں جَہاں سِینک نَہ سَمائے

کمال مبالغہ کرنے کے موقع پر مستعمل (جہاں سوئی نہ سمائے وہاں موسل گھسیڑ دیں) ۔

مُوت کی دھار نَہِیں سُوجْھتی

انتہائی نقاہت یا شدید تاریکی کے باعث ضعف بصارت ہونے کے موقع پر مستعمل

مُوتیں گے اَور سو رَہیں گے

بے فکر ہو جائیں گے

مُوتْنے کا گھاؤ مِیاں جانے یا پانْو

ہر شخص چھپی جگہ سے خود ہی واقف ہو سکتا ہے ، پوشیدہ حال یا راز دوسرے کیا جانیں

مُوذی کا مال نِکْلے پُھوٹ کَر کھال

موذی کی رقم ہضم نہیں ہوتی، ظلم سے حاصل کیا ہوا مال کسی شخص کو پچ نہیں سکتا

مُوذی کا مال سَب کو حَلال

ظالم یا کنجوس کا مال جس کے ہاتھ لگ جائے اُڑا لیتا ہے

مُوا گھوڑا بھی کَہِیں گھاس کھاتا ہے

بوڑھا آدمی عیاشی کرے تو کہتے ہیں

مُوا سانْپ گَلے میں پَڑا ہے

بڑا دق ہونا ، کچھ تدبیر نہیں چلنا ، بری الذمہ نہیں ہو سکنا

مُزدُور خوش دِل کُنَد کارِ بیش

(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) جو اپنی محنت کے معاوضے کی طرف سے مطمئن ہو وہ زیادہ کام کرتا ہے ۔

مُژدَہ باد اے مَرگ عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے

(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) اے موت خوش ہوکہ خود عیسیٰ بیمار ہے، جس سے مدد کی توقع تھی وہ خود بیمار پڑا ہے، مصیبت میں گرفتار ہے

حوالہ جات: ریختہ ڈکشنری کی ترتیب میں مستعمل مصادر اور مراجع کی فہرست دیکھیں ۔

بولیے

Delete 44 saved words?

کیا آپ واقعی ان اندراجات کو حذف کر رہے ہیں؟ انہیں واپس لانا ناممکن ہوگا۔

Want to show word meaning

Do you really want to Show these meaning? This process cannot be undone