ما مارے تو بھی ما ہی پُکارے
اپنوں کی فریاد اپنوں ہی سے کی جاتی ہے، اپنوں کی سختی بھی بُری نہیں لگتی، جس طرح بچّہ ما سے کیسا ہی پٹے مگر ما، ما کہتا جائے گا.
ما مَرے مَوسی جِیے
یعنی ما مر جائے گی تو خالہ پال لے گی یعنی ما اور خالہ میں کچھ فرق نہیں ہے.
ماں بَہَن پُنْنا
کسی کی ماں اور بہن کو برا بھلا کہنا ، کسی کی ماں بہن میں عیب نکالنا ، گالیاں دینا۔
مانگی دھاڑ ہے
لوگ متفرق اِدھر اُدھر کے جمع ہو گئے ہیں کام دینے والے نہیں ، غیر منظم جمعیت ہے ، سلیقے سے کام نہیں کرسکتی .
مال پَر زَکواۃ ہے
آمد پر خرچ موقوف ہے ، آمدنی پر ہی خیرات منحصر ہے ، ہوت پر جوت ہے .
مالِ عَرَب پیشِ عَرَب
اپنا مال اپنی آنکھوں ہی کے سامنے اچھا رہتا ہے، اپنا مال اپنے ہی قبضے میں رہے تو اچھا ہے
مالِک زِنْدَہ مال مِیراث
کوئی زندگی میں ہی جائیداد سے محروم کردیا جائے یا بدمعاش رو برو ہی لوٹ کر کھا جائے تو کہتے ہیں، بدتماش کا کسی کو زبردستی لوٹ یا ٹھگ لینا۔
مان نَہ مان مَیں تیرا مِہْمان
بے بلائے کسی کے یہاں جانے، خواہ مخواہ کسی کی بات میں دخل دینے یا زبردستی کسی کام میں شریک ہونے والے کے لیے بولتے ہیں
مار پِیچھے بید
لڑائی کے بعد انتقام لینا مشکل ہے ؛ کام نکل گیا ، اب کیا ضرورت ہے .
مار پِیٹ گُسَیّاں تُوری آس
نوکر مالک کو یا بیوی خاوند کو کہتی لے کہ مالک تو جتنا چاہے مجھے مارلے میں تو تیرے بھروسے پر ہوں ، ہر حال میں بھروسا کرنا .
مایا مِلی نَہ رام
نہ دنیا ملی ، نہ دین ملا ، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ، نہ یہ ہاتھ آیا نہ وہ ملا ۔
مَجْذُوب ہونا
ولی ہونا ، اثر والا ہونا ۔ اسے تومجذوب ہونا چاہیے ۔
مَلَکُ المَوت نے گَھر دیکھ لِیا
مصیبت کو یہاں تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہوگیا ، آفت مانوس ہو گئی (جب یہ کہنا مقصود ہو کہ اس دفعہ کی مصیبت یا آفت کا غم نہیں ، فکر اس بات کی ہے کہ جب ایک دفعہ ایسی مصیبت یا پریشانی آئی تو دوبارہ نہ آجائے ، تو یہ مقولہ کہتے ہیں) ۔
مَن عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَد عَرَفَ رَبَّہٗ
(عربی فقرہ (حدیث) اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جو اپنے نفس کی حیثیت کو پہچان لے وہ اﷲ تعالیٰ کے مرتبے کو پہچان سکتا ہے ، عرفانِ باری تعالیٰ کے لیے اول عرفانِ ذات ضروری ہے ۔
مَن بھائے مُنْڈِیا ہِلائے
دل تو چاہتا ہے مگر اوپری دل سے انکار ہے ، ظاہراً نفرت باطناً رغبت ؛ رک : من چاہے منڈیا ہلائے ، جو زیادہ مستعمل ہے ۔
مَن بھاوے مُنْڈِیا ہِلاوے
دل تو چاہتا ہے مگر اوپری دل سے انکار ہے ، ظاہراً نفرت باطناً رغبت ؛ رک : من چاہے منڈیا ہلائے ، جو زیادہ مستعمل ہے ۔
مَن گُفتَم وَ مُحاوَرَہ شُد
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) میں نے کہا اور محاورہ بن گیا ، زبان دانی کی تعریف میں مستعمل ، جس شخص کا قول ہر شخص شد مان لے ۔
مَن سانْچا تو سَب سانْچا
نیت صحیح ہو تو نتیجہ اچھا نکلتا ہے ؛ سچائی عجب چیز ہے ، سچ بول کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری دنیا خوش ہے ، صدق دل عجب شے ہے
مَن تَشَبَّہَہ بِقومٍ
عربی فقرہ (حدیث) بطور کہاوت اردو میں مستعمل ، جو اپنے اقوال اور افعال میں کسی قوم کا مشابہ بنے گا وہ انہی میں شمار ہوگا ۔
مَن ذاقَ ذاق
(عربی فقرہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جس پر گزرے وہی جانتا ہے ۔
مَن ضَحِکَ ضُحِکَ
(عربی مقولہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) جو دوسروں پر ہنستا ہے اس پر دو سرے ہنستے ہیں، جو ہنسا وہ ہنسا گیا
مَن دانَم و کارِ مَن
(فارسی فقرہ اردو میں بطور کہاوت مستعمل) میں اپنے فرض کا خود ذمہ دار ہوں ، چو کچھ کرنا چاہیے وہ میں خود کر لوں گا ۔
مَن تُو شُدَم تُو مَن شُدی
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) دونوں ایک جان دو قالب ہوگئے ، ایک جان دو قالب ہونے یک دلی کے موقع پر کہتے ہیں ۔
مَر جائیں تو مَکّھی اَور نِکَل جائیں تو شیر
اگر کوئی قیدی جیل میں مر جائے تو ایک مکھی کے مر جانے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی لیکن اگر کوئی قیدی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا تو اسے ایک شیر کے کٹہرے سے نکل جانے کے برابر اہم واقعہ سمجھا جائے گا ۔
مَرْد سَب کو مَرْد کَرْتا ہے
ایک بہادر ہو تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی بہادر بن جاتے ہیں ، ایک اہل ہو تو اس کی اہلیت کا دوسرے ساتھیوں پر بھی اثر پڑتا ہے.
مَرے چور پَرائے دَھن پَر
پرائے مال کی خاطر جان دینا حماقت ہے ، بے گانہ مال مارنا آسان نہیں ، چور پرائے مال پر اپنی جان کھو دیتا ہے
مَرے ماں ، جِیوے ماسی
اگر ماں مر جائے اور خالہ جیتی رہے تو بچّے پل جاتے ہیں کیونکہ اس کی محبت بھی ماں کے برابر ہوتی ہے
مَرے پَر سَو دُرّے
اس محل پر بولتے ہیں جب کوئی پہلے سے کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور دوسری مصیبت اس پر آ جائے
مَرنے جائیں ، مَلاریں گائیں
ایسے بے فکر آدمی ہیں کہ مرنے کو بھی کھیل سمجھ کر گیت گاتے ہیں ، بے پروا اور آزاد طبع نیز شیخی خورے کی نسبت بولتے ہیں
مرنے پہ ڈوم راجہ
ہندؤوں میں جب کوئی مر جاتا ہے تو سیاپے کے وقت پہلے الفاظ ڈومنی بولتی ہے، موت پر کمینے لوگوں کا فائدہ ہوتا ہے
مرنے سے کیا ڈرنا
موت سے کسی طرح چھٹکارہ نہیں ہوسکتا اس لئے اس سے ڈرنا نہیں چاہئے
مَرتا کیا نَہ کَرتا
جس کی جان پر آ بنتی ہے وہ سب کچھ کر گزرتا ہے، بے بسی کی حالت میں سب کچھ کرنا پڑتا ہے
مَرتے کو ماریں شاہ مَدار
ہمیشہ غریب ہی کی شامت آتی ہے ، جس وقت غریب آدمی پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اس موقعے پر بولتے ہیں ۔
مَرضی مَولیٰ اَز ہَمَہ اَولیٰ
ہر معاملے میں خدا کی رضا پر راضی رہنا چاہیے ، مالک کی رضا سب سے بہتر ہے (کسی معاملے میں انسان کی بے بسی کے موقع پر مستعمل) ۔
مت کر ساس برائی تیرے بھی آگے جائی
بہو ساس سے کہتی ہے کہ تو میرے ساتھ برائی کرتی ہے حالانکہ تیری بھی بیٹی ہے اور جیسا تو میرے ساتھ کرتی ہے ویسا کوئی تیری بیٹی کے ساتھ کرے گا
مَوسی کا گَھر نَہِیں ہے
خالہ جی کا گھر نہیں ہے ؛ آسان کام نہیں ہے ؛ کھیل نہیں ہے ؛ کسی کی تن آسانی اور لاپروائی کو دیکھ کر کہتے ہیں ۔
مَوت بَرْحَق ہے
موت سچ ہے ، موت کا وقت مقرر ہے ، موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا ، موت لازماً آئے گی اس سے بچا نہیں جا سکتا
مَوت حَق ہے
موت سچ ہے، موت اٹل حقیقت ہے، موت لازماً آئے گی اُس سے بچا نہیں جا سکتا
میرے دونوں مِیٹھے
اُس شخص کی نسبت بولتے ہیں، جو دو شخصوں یا دو چیزوں کو یکساں دوست رکھتا ہو، اُن دونوں میں سے کسی کی جدائی گوارا نہ کرتا ہو۔ یہ مثل اُس جگہ بھی بولی جاتی ہے، جب یہ کہنا ہو، ہر طرح فائدہ ہے کسی حالت میں نقصان نہیں
مِیران گور بَرابَر
جس قدر میراں کی قبر کھودی گئی اتنی ہی مٹی اوپر پڑ گئی، میراں کی قبر اتنی ہی لمبی ہے جتنے خود میراں: مراد: کسی چیز کا عدم اور وجود برابر ہونا؛ آمدنی اور خرچ کا برابر ہونا.
مِیاں بِیوی دو جَنے ، کِس لِیے جَو چَنے
اُس موقعے پر کہا کرتے ہیں جب کسی کے لڑکے لڑکی نہ ہو اور پھر وہ خست کرے یعنی جب صرف میاں بیوی ہی کھانے والے ہیں اور خرچ زیادہ نہیں ہے تو پھر خست کرنا اور جمع کرکے مرنا بیکار ہے
مِزاجِ عالی، نَہ تو شَک نَہ نِہالی
جب کوئی شخص مفلسی و تہی دستی میں نازک مزاجی دکھاتا ہے تو اس کی نسبت طنزاً بولتے ہیں مزاج تو امیرانہ رکھتے ہیں مگر بچھا نے کے لیے توشک یا نہالچہ تک میسر نہیں ، غریبی میں امیرانہ مزاج رکھنے والے پر طنزاً بولا جاتا ہے
موہے اور نَہ تُجھے ٹھور
تیرے بن مجھے اور میرے بن تجھے کل نہیں ، نہ تو مجھ ہی کو دوسرا ملتا ہے اور نہ تجھ کو ہی دوسرا ٹھکانا ہے
مُنہ چھوٹا اور بات بَڑی
حوصلے اور حیثیت ، رتبے یا دسترس وغیرہ سے بڑھ کر دعویٰ ، شیخی یا کوئی اور بات ؛ اپنی عاجزی و انکساری ظاہر کرنے کے موقع پر مستعمل
منہ چھوٹا بات بڑی
حیثیت سے بڑھ کر با ت کرنا، جب کوئی کمینہ آدمی نخوت وغرور وغیرہ کی گفتگو کرتا ہے تو کہتے ہیں
مُنہ میں زَبان حَلال ہے
منھ میں زبان سچ بولنے کے لیے ہے اگر (جھوٹ کی طرح) حرام ہوتی تو منھ میں نہ رہتی، سچ کہو، انصاف لگتی کہو
منہ نہ توہ نام چاند خاں
جس صفت میں مشہور ہے اس کے خلاف صف سے متصف ہے، (کسی میں) شہرت کے مطابق صفت نہیں پائی جاتی بلکہ اس سے متضاد صفت پائی جاتی ہے
مُنہ سُوئی، پیٹ کُوئی
ذراسا منھ اور بڑا سا پیٹ ، جثہ چھوٹا سا مگر خوراک بہت ہو توکہتے ہیں ، آمدن کم اور خرچ زیادہ ۔
مُفْت کا مال قَاضِی کو بھِی حَلال
مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال ہے، کوئی چیز بے محنت یا بن داموں ملے تو بڑے بڑے متشرع بھی حلال حرام کی پروا کیے بغیرلے لیتے ہیں، کوئی چیز بنا محنت و مول مل جائے تو پرہیزگار بھی حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر لے لیتے ہیں
مُفْت را، چَہ گُفت
(اردو میں مستعمل فارسی کہاوت) جو چیز بے محنت یا بے قیمت ملے اس کے لینے میں کیا عذر ہو سکتا ہے ، جو چیز مفت ملے اس میں کیا کلام ۔
مُفت کَرَم داشتَن
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل) کوئی کام اپنی غرض سے کرنے اور دوسرے پر اس کی غرض ظاہر کر کے احسان جتانے کے موقع پر مستعمل یعنی خواہ مخواہ احسان جتانا ۔
مُغَل بے مُغَل تیرے سَر پَر کولھو
بے تکی بات کہنے والے کے جواب میں مستعمل ، مثلا ً کسی مسلمان نے ایک ہندو جاٹ سے جو کھاٹ لیے جاتا تھا کہا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ ، وہ مسلمان ایک دن کولھو سر پر رکھے لیے جاتا تھا ، جاٹ نے کہا ’’ مغل رے مغل تیرے سر پر کولھو ‘‘ مغل نے کہا ’’ یار تک تو نہ ملی ‘‘ جاٹ بولا پڑی مت ملو ، بوجھوں تو مرے ۔
مُجھے بُڑھیا نہ کَہو کوئی ، مَیں نے جوانوں کی بھی عَقْل کھوئی
چالاک ضعیف اپنے متعلق کہتا ہے کہ وہ جوانوں کو انگلیوں پہ نچا سکتا ہے ؛ ضعیف چالاک عورت کا قول ہے کہ میں بڑھیا ہوں تو کیا ہوا میں نوجوانوں کو بھی فریفتہ کرلیتی ہوں ؛ بزرگوں کی بہ نسبت جوان ناپختہ کار ہوتے ہیں ، جوان بزرگوں سے علم و شعور حاصل کرتے ہیں
مُکْھڑا تَلووں کو نَہ پَہُنْچے
ایک شخص اس قدر خوبصورت ہے کہ دوسرے شخص کے چہرے کا رنگ اس کے تلووں کے رنگ کا مقابلہ نہیں کر سکتا (انسان کی رنگت کی تعریف میں کہتے ہیں) ، مقابلۃً ایک انسان کا دوسرے انسان سے کم تر ہونا ؛ مقابلے میں بہت حقیر ہے ۔
مُرْغ کی ایک ٹانْگ
اپنی بات کی ہٹ ، اپنے غلط یا جھوٹے قول کی پچ (اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اپنی بیجا بات پر اَڑا ہوا ہو)
مُرغےکی ایک ٹانْگ
اُس موقع پر مستعمل جب کوئی اپنی غلط بات پر اڑا رہے یا ہٹ دھرمی کرے ۔
مرغی کو تکلے کا گھاؤ بہت ہے
۔مثل غریب کو تھوڑا نقصان بھی بہت ہے۔کمزور کو تھوڑا صدمہ بھی بہت ہے۔(محصنات)بڑھیا ہریالی اورکوٹھری کی دیوارمیں آکر بچ گئی مگر وہی مثل ہے مرغی کو تکلے ہی کا گھاؤ بہت ہوتاہے دوتین دوہتڑ جو اس پر جمے سسکیاں لیینے لگی۔
مُوئے کا کوئی نَہیں، جِیتے کا سَب کوئی
زندہ کی سب خوشامد کرتے ہیں مرے ہوئے کا کوئی نام نہیں لیتا ، روپے کے سب یار ہوتے ہیں کنگال کی مٹی پلید ہے ، طاقت ور کے سب ساتھی ہیں کمزور کا کوئی ساتھ نہیں دیتا
مُوئے کی قَبر اَور جِیتے کا گَھر
مرُدے کو قبر میں آرام اور زندہ کو گھر میں ، ہر شخص اپنی جگہ پر ہی موزونیت کے ساتھ رہتا ہے ؛ ہر شخص اپنے ہی مقام پر خوش رہتا ہے ؛ ہر چیز اپنے صحیح ٹھکانے پر بھلی لگتی ہے
مُوئے پَر تِین دِن بھاری
کہا جاتا ہے کہ مرُدے کی روح پر تین دن تکلیف رہتی ہے ، مردے سے تین دن تک اعمال کی پرسش ہوتی رہتی ہے ۔
مُوچھ مَروڑا روٹی توڑا
اس شخص کے متعلق کہتے ہیں، جو مفت کی روٹیاں کھائے، کام کچھ نہ کرے اور موچھوں پر تاؤ دیتا پھرے