گَئے جوبَن بَھٹار
جوانی جانے کے بعد خاوند اور وقت گزر جانے کے بعد ، ضرورت کی چیز کے ملنے کا کیا فائدہ.
گئے کٹک، رہے اٹک
یہ کہاوت ایسے موقع پر بولتے ہیں جب کسی کے واپس آنے کی اُمید بہت کم ہو
گنگ جہاں رنگ
جہاں گنگا کا پانی پہنچتا ہے وہ زمین بہت زرخیز ہوتی ہے
گَنوار گَنّا نَہ دے بھیلی دے
بیوقوف سہولت سے گَنَّا نہیں دیتا ہے لیکن دھمکانے سے گُڑ یعنی بھیلی دے دیتا ہے، آسانی سے بیوقوف کوئی چیز نہیں دیتا
گَنوَر بُدھ بھیڑ چال
بغیر سوچے سمجھے دوسروں کی دیکھا دیکھی کوئی کام کرنے یا ان٘دھا دھند تقلید کرنے کے موقع پر کہتے ہیں .
گائے نَہ آوے بَچھوے لاج
ماں کو بیٹے کی شرم نہیں ہوتی یا اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ماں کو تو لاج اور شرم نہیں آتی لیکن بیٹا شرمسار ہو رہا ہے
گانڈُو کا حِمایَتی بھی ہارا ہے
(فحش بازاری) کم حوصلہ اور نامرد کا طرف دار بھی زک اٹھاتا ہے ، بودے کا ساتھی بھی شرمندگی اٹھاتا ہے ، نالائق اور کمینے کا ساتھ دینا داخل حماقت ہے.
گاؤں بھاگے پَگھیا لاگے
فصل پکّی ہے اور گانْو والے غیر حاضر ہیں ، ضرورت کے وقت کوئی موجود نہیں ؛ زمینداروں کی لاپروائی کے لیے طنزاً کہتے ہیں.
گاؤں گَئے کی بات ہے
باہر جانے پرکیا کام لگ جائے اور کب لوٹیں اس طرح کے خیال ظاہر کرنے کے لئے کہاوت ہے
گاؤں گَیا سوتا جاگے
جس طرح سوئے ہوئے کا پتہ نہیں کب جاگے گا اسی طرح مسافر کے واپس آنے کا کوئی پتہ نہیں ہوتا
گاؤں کا جوگی جوگنا اَن گاؤں کا سِدھ
وطن میں کوئی کیسا ہی ہنر پیدا کرے عزّت نہیں ہوتی ، وطن میں انسان کی قدر نہیں ہوتی ، باہر ہوتی ہے ، اپنی چیز کی قدر نہیں ہوتی ، پرائی چیز کی قدر ہوتی ہے.
گاؤں میں دھوبی کا چھیل
گاؤں میں دھوبی کا لڑکا ہی شوقین بنا پھرتا ہے، کیونکہ اس کا باپ شہر والوں کے جو کپڑے دھونے کے لئے لاتا ہے، وہ انہیں پہنتا ہے، جو گاؤں والوں کو دیکھنے کو نہیں ملتے،
دھوبی کا لڑکا گاؤں میں خوش پوش ہوتا ہے، کیونکہ اس کے اپنے کپڑے اجلے ہوتے ہیں
گاؤُں نَہ گاؤُں بِرَہ گاؤُں
اوّل تو گاؤں گا نہیں اگر گاؤں گا تو ہجر کا گیت ، اوّل تو کوئی کام نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو نقصان دہ ، اس سے جب ہوگی بیوقوفی ہوگی.
گاؤُں نَہ گاؤُں بِرْہا گاؤُں
اوّل تو گاؤں گا نہیں اگر گاؤں گا تو ہجر کا گیت ، اوّل تو کوئی کام نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو نقصان دہ ، اس سے جب ہوگی بیوقوفی ہوگی.
گاؤُں نا گاؤُں بِرْہا گاؤُں
اوّل تو گاؤں گا نہیں اگر گاؤں گا تو ہجر کا گیت ، اوّل تو کوئی کام نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو نقصان دہ ، اس سے جب ہوگی بیوقوفی ہوگی.
گاؤ آمَد خَر رَفْت
” گاو آمد و خر رفت “ دراصل مشہور مصرعہ ” مارا چہ ازیں قصہ کہ گاو آمد و خر رفت “ کا ایک جزو ہے اور لاتعلقی ظاہر کرنے کے موقع پر بولا جاتا ہے.
گائے کا لوارہ مرگیا تو کھلڑا ویکھ پنہائی
گائے کا بچھڑا مر جائے تو اس کی کھال میں بھس بھرکر اسے دکھاتے ہیں تو وہ دودھ دیتی ہے اس موقع پر کہتے ہیں جب اصل چیز ضائع ہو جائے، یا کوئی مر جائے تو اسکی نشانی دیکھ کر یاد کریں
گَدھا کھرسا میں موٹا ہوتا ہے
بیوقوف کو رنج کے موقع پر خوشی اور خوشی میں رنج ہوتا ہے، احمق مفلسی میں بھی دبلا نہیں ہوتا، احمقوں کو خراب حالت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی
گدھے کے سر سے سینگ
کسی چیز کا نام و نشان معدوم ہونا کی جگہ مستعمل، ایسے غائب ہونا کہ کبھی تھے ہی نہیں
گہرے یار ہیں
بہت دوست ہیں، دلی یا جانی دوست ہیں، ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں
گَلا یا تَلا
طوائف اگر بدکاری شروع کر دے تو اچھا نہیں گا سکتی.
غَم نَہ داری بُز بَہ خَر
فارسی کہاوَت اُردو میں مستعمل ، اگر تجھے کوئی غم نہیں تو بکری خرید لے ، خواہ مخواہ کا ایسا کام اپنے سرلینا جو فکرو تردَد کا باعث ہو ، بیکار رنج و الم پالنا .
غَم نَداری بُز بَخَر
فارسی کہاوَت اُردو میں مستعمل ، اگر تجھے کوئی غم نہیں تو بکری خرید لے ، خواہ مخواہ کا ایسا کام اپنے سرلینا جو فکرو تردَد کا باعث ہو ، بیکار رنج و الم پالنا .
گَنْدُم اَگَر بَہَم نَرسَد جَو غَنِیمَت اَسْت
بڑا فائدہ حاصل نہ ہو تو تھوڑا فائدہ ہی سہی ، اچھی چیز میسّر نہ ہو تو معمولی چیز ہی غنیمت ہے ، اصل چیز حاصل نہ کر کسے تو کھسیانا ہو کر کسی اور چیز پر اکتفا کر لینے کے موقع پر بولتے ہیں.
گَرَجْتے ہَیں سو بَرَسْتے نَہِیں
شور کرنے والا کوئی کام نہیں کرسکتا ، شیخی بازوں کی باتیں ہی باتیں ہوا کرتی ہیں ، لاف زن کچھ نہیں کر سکتا ، جو ڈینگیں مارتے ہیں وہ کرتے کچھ نہیں
غَرَض باؤلی ہوتی ہے
حاجت مند آدمی پاگل ہوتا ہے، وہ اپنی غرض پوری کرنے کے لیے کسی بات سے نہیں ہچکچاتا، ضرورت مند کو بس اپنا کام ہی دکھائی دیتا ہے، یعنی ضرورت اسے اندھا بنا دیتی ہے
گربھ کا سر نیچا
غرور کا سر نیچا، تکبّر کا انجام ذِلّت ہے، غرور کرنے والا آخر میں ذلیل ہوتا ہے
گَواہ چُسْت، مُدَّعی سُسْت
اُس موقع پر بولتے ہیں جب خود اہل غرض تو سستی اور تساہل کرے اور ساتھ والے لوگ اس کی تائید میں کوشش کریں اور زور لگائیں
گَیا وَقْت پِھر ہاتھ آتا نَہیں
(مشہور شاعر میر حسن کا مصرع بطور ضرب المثل مستعمل) جو موقع ہاتھ سے نکل جائے وہ پھر میسّر نہیں آتا، پچھتاوا اور افسوس رہ جاتا ہے
گَزْ دو فاخْتَہ
ایک تیر سے دو نشانے ، ایک تیر سے دو شکار ، ایک کام سے دو فائدے (ایک اقدام سے دو مقصد پورے ہونے کے موقع پر مستعمل).
گَھڑی میں گَھڑْیال ہے
ایک دم یا اچانک کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے، موت کا وقت بھی آ سکتا ہے، یک بیک زمانہ بدل جانا
گھانٹی تَلے مانٹی
مالک ہر وقت کام کرواتا ہے ، حلق سے نیچے غذا کا کوئی مزہ نہیں ہوتا ، جیسے متی ویسی وہ (گھانٹی = حلق ، مانٹی = مٹی).
گھاس کھاؤ
جب کوئی گاہک بہت سستی چیز مانگے، تو دوکاندار اس کے جواب میں کہتا ہے، مطلب یہ ہوتا ہے کہ تو اس کی قدر کیا جانے
گَھبْرائی ڈومْنی پِھر سُہیلے گائے
گھبراہٹ میں عقل ٹھکانے نہیں رہتی یعنی جب ڈومنی گاتے گاتے یا بیل لیتے لیتے گھبرا جاتی ہے تو ہر پھر کر ایک ہی گیت گانے لگتی ہے اور اسے یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ ابھی تو میں اس گیت کو گا چکی ہوں.
گَھر ہی میں بید مَرے کَیسے
جب مالک کے رہتے ہوئے بھی گھر کا انتظام ٹھیک نہ ہو یا گھر میں کسی قابل شخص کے ہوئے بھی کوئی کام بگڑ جائے تو کہتے ہیں
گَھر کا بھیدی لَنْکا ڈھائے
رازدار کی دُشمنی پڑا نقصان پہنچاتی ہے اس موقع پر مستعمل ہے جب کوئی رازدار فتنہ برپا کردے، رامائن کے قصّے کی طرف تلمیح ہے جس میں راون نے رام کو لنکا کے قلعے کی تسخیر کا بھید بتادیا تھا
گَھر میں گَھر، لڑائی کا ڈَر
اگر ایک گھر میں دوسرا گھر بنا دیا جائے تو ہمیشہ لڑائی جھگڑا رہتا ہے، اگر ایک ہی گھر میں دو خاندان کے لوگ رہتے ہوں تو ان میں لڑائی کا ڈر رہتا ہے
گَھر میں شیر باہَر بھیڑ
اس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو گھر والوں پر بیجا رعب جمائے اور باہر والوں سے دب جائے، گھر والوں پر بلاوجہ سختی کرنا اور باہروالوں سے نرم سلوک کرنے والا
گَھر سے آئے ہَیں سَندیسا لائے ہَیں
جب کسی شخص پر کچھ بنی ہو اور اس سے زیادہ سر گذشتہ دوسرا آدمی اس کو سنانا چاہے تو اس وقت وہ یہ فقرہ کہتے ہیں تم مجھ سے زیادہ واقفِ حال نہیں ہو ، کوئی غیر متعلق شخص دخل دے تو کہتے ہیں
گھی جاٹ کا اَور تیل ہاٹ کا
گھی گاؤں سے منگوایا ہوا اور تیل تیلی کی دوکان سے لیا ہوا اچھا ہوتا ہے، کیونکہ گاؤں کا گھی تازہ ہوتا ہے اور دوکان پر سے لیا ہوا تیل کئی دن کا ہونے کی وجہ سے صاف ملتا ہے
گھی کِھچڑی میں دَعویٰ ہے
یہ کہاوت اس کے متعلق کہتے ہیں جسے بہت کچھ مل جائے پھر بھی مزید کا دعویٰ کرے، گھر کی ملکیت چاہے ہیں
گھوڑا گھاس سے آشْنائی کَرے تو بُھوکا مَرے
معاملے کی جگہ مروت برتنے سے نفع نہیں ہوتا ، کوئی شخص اگر اپنے کام کے نفع کی کچھ پروا نہ کرے تو گزارہ ناممکن ہے ؛ مزدور مزدور نہ لے تو بھوکا مر جائے ؛ اپنا مطلب کوئی نہیں چھوڑتا .
گھوڑی بُھسیلے ہی میں دَم لے گی
گھوڑی پر پھر کر اپنے اڈے یا جائے سکونت ہی پر آجائے گی ؛ اس شخص کے بارے میں بولتے ہیں جو گھر سے زیادہ دن دور نہ رہ سکے .
گھوڑی کو گَھر کیا دُور ہے
گھوڑے کے آگے فاصلہ اور مسافرت کچھ چیز نہیں ، کام جاننے والے کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ؛ چالاک شخص اپنا مطلب جلد نکال لیتا ہے .
گھوڑی پَھینسے کی لاگ
گھوڑا اور بھین٘سا جب بھی ملیں گے لڑائی ضرور ہو گی ، سخت دشمنی کے لیے کہتے ہیں .
گھوڑوں کو گھر کتنی دُور
گھوڑں کے آگے مسافت اور فاصلے کی کوئی حقیقت نہیں، کام کرنے والے کے لئے سب کچھ آسان ہے، حیلے حوالے بے سود ہیں
گُھونسوں کا اُدھار کیا
گُھون٘سوں میں مارنے کی جگہ فوراً مارنا چاہے توقف اچھا نہیں ، انتقام فوراً لینا چاہیے ، جرم کی سزا فوراً ملنی چاہیے .
گِلَہْری کا ٹِھکانا پیڑ
ہر شخص کا ٹھکانا مقرر ہوتا ہے، ہر ایک اپنے سکون اور چین کی جگہ تلاش کرتا ہے، ہر ایک شخص اپنے آرام کی جگہ ڈھونڈتا ہے.
گِنی بوٹی نَپا شورْبا
ایسے موقع پر بولتے ہیں جب قلیل آمدنی کی وجہ سے بہت کھینچ تان کے خرچ پورا کِیا جائے یا کنجوسی کے ساتھ خرچ کیا جائے ؛ صرف گزارے کے قابل آمدنی .
گِرگَِٹ کی دَوڑ بَٹورے تَک
جس کی جہاں تک پہنچ ہوتی ہے وہ وہیں تک جا سکتا ہے، ہرایک کی کوشش اپنی حد تک ہوتی ہے، ہرایک اپنے ٹھکانے پر جاتا ہے
گُڑ کی جُوتی
جب کسی چیز کے نایاب ہونے پرغریب لوگ اس کی شکل تک دیکھنے کو ترسیں، مگر امیر لوگ اسے بے تحاشا استعمال کریں تو اس موقع پر کہتے ہیں
گدڑی میں لال نہیں چھپتا
بُروں میں اچھا نہیں چھپتا، سو پردوں میں بھی اچھی چیز نمایاں ہوجاتی ہے، لائق آدمی اپنی اہلیت ہرجگہ منوا لیتا ہے
گُر گُر بِدّیا، سُر سُر گیان
ہر گرو کا جدا گانہ علم و عمل اور ہر ایک سر میں مختلف عقل اور ہر شخص کی رائے الگ ہوتی ہے ؛ ہر استاد کے سکھانے کا طریقہ الگ ہوتا ہے اور ہر انسان کی عقل مختلف ہوتی ہے.
گُو کا پُوت نوسادَر
سگِ زرد برادرِ شغال دونوں ایک ہی ہیں ، دو بُری باتوں یا بُرے شخصوں کی مساوات ظاہر کرنے کے موقع پر بولتے ہیں .
گُو نَہیں، چھی چھی
تھوڑی ذلت ہو یا زیادہ، دونوں طرح سے رسوائی میں کوئی فرق نہیں، الفاظ سے کیا ہوتا ہے بات تو ایک ہی ہے، بری چیز ہر حال میں بری ہی رہے گی، نام بدلنے سے اس کی خصلت نہیں بدلتی
گُو سے نِکل کَر مُوت میں گِرے
وہیں کے وہیں رہے ، کوئی فرق نہ آیا ، ایک بلا سے نکل کر دوسری بلا میں گرفتار ہوگئے ، جب کوئی شخص کسی خراب حالت سے نکل کر کسی اس جیسی بُری حالت میں گرفتار ہو جائے تو بولتے ہیں .
گُوڑ کھائیں گُلگُلوں سے پَرہیز
جس بات یا جس چیز کو ایک صورت میں ناپسند کریں اسی کو دوسری صورت میں قبول کرلیں ، شوربا حلال بوٹی حرام ، بڑی بات کو کرنا اور چھوٹی سے پرہیز کرنا ، بڑی بدنامی کا خیال نہ کرنا چھوٹی سے پرہیز کرنا ، ادنیٰ برائی سے بچنا اور بڑی برائی کرنا ؛ بڑوں سے ملنا اور چھوٹوں سے دور رہنا
گوئٹھا جلے گوبر ہانسے
بیوقوف کے متعلق کہتے ہیں جو دوسروں کے نقصان پر ہنسے، حالانکہ اس کا اپنا نقصان بھی اسی طرح ہونے والا ہوتا ہے
گُوئِٹھا جَلے اُپْلا ہانسے
بیوقوف کے متعلق کہتے ہیں جو دوسروں کے نقصان پر ہنستا ہے حالانکہ اس کا اپنا نقصان بھی اسی طرح ہونے والا ہوتا ہے
گُوہ کی طَرَح چُھپانا
مراد : بلّی کے گو کی طرح چھپانا ، پوری طرح چھپانا ، ڈھانکتے پھرنا ؛ کمال احتیاط سے رکھنا
گُوہ نَہِیں چِھی چِھی
بُرائی یا رُسوائی میں کوئی فرق نہیں ، کسی کی تھوڑی ذلت اور خفیف رسوائی پر بولتے ہیں
گُزَشْت آنچَہ گُزَشْت
(فارسی کہاوت اردو میں مستعمل)جو کچھ ہوا سو ہوا ، جو کچھ گزرنا تھا سو گزر گیا ، جو ہونا تھا ہوگیا اب اس کا کیا ذکر یعنی ماضی پر افسوس کرنا لاحاصل ہے .