جائے جان رَہے آن
آبرو کے لیے جان تک قربان کی جا سکتی ہے کیونکہ بھرم بڑی چیز ہے .
جائے اُسْتاد خالی اَسْت
استاد کی جگہ ہمیشہ خالی یا باقی رہتی ہے اور دوسرے شخص کی رائے یا مشورے سے اصلاح ہو جائے یا ہونے کی امید ہوتی ہو تو اس موقع پر یہ کہتے ہیں
جان ہَزار اَرْمان
آدمی کے ایک دم کے ساتھ ہزار بکھیڑے اور دھندے لگے ہوئے ہیں کیا کیا کیجیے.
جان ہَزار اُمِّید
آدمی کے ایک دم کے ساتھ ہزار بکھیڑے اور دھندے لگے ہوئے ہیں کیا کیا کیجیے.
جان ہی کی پَہْچان ہے
محبت جب تک رہتی ہے جب تک جان سلامت ہے ؛ جسے جانتے ہیں اسے ہی پہچان سکتے ہیں غیر یا اجنبی آدمی کو کیا پہچانیں.
جان کے ساتھ جیوڑا
جب کوئی اپنی بیوی یا اپنے شوہر سے بہت پریشان اور دکھی رہتا ہو عموماََ تب کہتے ہیں
جان نَہ پَہچان بَڑی خالہ سَلام
یہ کہاوت ایسے موقع پر بولتے ہیں جہاں کوئی ناواقف آدمی نہایت تپاک اورگرم جوشی ظاہر کرے، بیجا خصوصیت ظاہر کرنے والے اور چالاک کی نسبت بھی بولتے ہیں جو خواہ مخواہ دوستی جتا کر اپنا مطلب نکالتے ہیں
جان نَہ پَہْچان خالَہ سَلام
(عو) جب کوئی کسی اجنبی کے ساتھ نہایت گرم جوشی سے پیش آئے یا چالاکی سے دوستی ظاہر کر کے اپنا مطلب نکالنا چاہے تو کہتے ہیں .
جانْوَر ہی تو تھا
جب کوئی حاکم زی اختیار کسی کی طرف داری میں انصاف
کا خون کرے تو یہ مثل بولتے ہیں ، کم عقل .
جاٹ مُوا جَب جانِیے جَب وا کا تِیجا ہو
میو جاٹ بہت سخت جان ہوتے ہیں ، یعنی دغا باز اور فریبی اگر مر بھی جائیں تو ان کا مر جانا قابل اعتبار قبل از سوئم نہیں ؛ دغا باز کی کسی بات کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے
جَب باوا مَریں گے تَب بَیل بَٹیںگے
سر انجام کسی کام کا ایسے وعدے پر کرنا جس کا سردست وقوع دشوار ہو یا ایک کام کو دوسرے کام کے ہونے پر موقوف رکھنا جس کے سرانجام ہونے کا یقین نہ ہو.
جَگَت کی ہَنسی اَپنا مَرَن
دنیا کے لیے ہنسی کا اور اپنے لیے تباہی کا سامان، اپنی تباہی جگت کی ہنسی، لوگ دوسرے کے نقصان پر ہنستے ہیں، دوسروں کو مصیبت میں پھنسا دیکھ کر دنیا ہنستی ہے، دنیا کا یہی اصول ہے
جَہاں دِیدَہ سِیار گویَد دَروغ
سیاح اور مسافر جھوٹ زیادہ بولتے ہیں خاص کر حالات سفر کے متعلق کیون٘کہ کوئی تصدق کنندہ نہیں ہوتا ، تجربے کار آدمی کے جھوٹ بولنے پر کہتے ہیں.
جَہاں گَنْج تَہاں مار
(روایت ہے کہ لوگ دولت کو دفن کرکے اس کی حفاظت کے لیے سان٘پ اس پر بٹھادیتے تھے) دولت کے ساتھ خوف و خطر بھی ہے؛ آرام کے ساتھ مصیبت بھی لگی ہوتی ہے .
جَہان دِیدَہ سِیار گویَد دَروغ
سیاح اور مسافر جھوٹ زیادہ بولتے ہیں خاص کر حالات سفر کے متعلق کیون٘کہ کوئی تصدق کنندہ نہیں ہوتا ، تجربے کار آدمی کے جھوٹ بولنے پر کہتے ہیں.
جَیسا راجا وَیسا پَرجا
جیسا سردار ہوتا ہے ویسے ہی اس کے ماتحت بھی ہوتے ہیں ، حاکم وقت کی نیت اور طرز عمل کا اثر رعایا پر کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے ، جیسا راجا ہوتا ہے، ویسی ہی اس کی رعیت ہوتی ہے.
جَیسا راجَہ، وَیسی پَرجا
جیسا سردار ہوتا ہے ویسے ہی اس کے ماتحت بھی ہوتے ہیں، حاکم وقت کی نیت اور طرز عمل کا اثر رعایا پر کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے، جیسا راجا ہوتا ہے ویسی ہی اس کی رعیت بھی ہوتی ہے
جَیسا سونا وَیسا دھارا
ندی کا بہاؤ یا دھارائیں جیسی ہوں گی ویسی ہی ندی بھی ہو گی، اولاد اپنے ماں باپ کی طرح ہوتی ہے
جَیسے کَنْتھا گَھر رَہے وَیسے رَہے بِدیس
نکما آدمی گھر رہے یا باہر برابر ہی ہے ؛ عورتیں اپنے شوہر کے لیے بھی بیوی سے بے رخی برتتا ہے بولا کرتی ہیں ؛ جو شخص دیس میں اپنی کمائی اڑا لٹا کر گھر خالی ہاتھ آئے اس کی نسبت بھی بولتے ہیں.
جَیسے کَنْتھا گَھر رَہے وَیسے رَہے پَردیس
نکما آدمی گھر رہے یا باہر برابر ہی ہے ؛ عورتیں اپنے شوہر کے لیے بھی بیوی سے بے رخی برتتا ہے بولا کرتی ہیں ؛ جو شخص دیس میں اپنی کمائی اڑا لٹا کر گھر خالی ہاتھ آئے اس کی نسبت بھی بولتے ہیں.
جَیسے کو تَیسا
جیسا انسان خود ہوتا ہے ویسے ہی شخص سے اس کا واسطہ بھی پڑتا ہے
جَم سے بری جَنیت
باراتی یَم سے بھی بدتر ہوتے ہیں کیونکہ لڑکی والے کو ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے
جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا
پردیس میں کسی بڑے کام کرنے کا لطف گھر والے نہیں دیکھ سکتے، جب کوئی اپنی دولت غیر جگہ پردیس میں صرف کرے اور وطن والے محروم رہیں تو یہ مثل بولتے ہیں
جَنتی نہ ڈھول بجتا
کسی عورت کا اپنے احمق بیٹے کے متعلق کہنا، جس کی وجہ سے گھر کی بدنامی ہو رہی ہو کہ اگر میں جانتی تو نہ تجھے پیدا کرتی، نہ ڈھول بجتا اور نہ ہی منگل گیت گائے جاتے
جَپ کے بِرْتے پاپ
(لفظاً) عبادت کی امید پر گناہ کرنا؛ پارسائی کی آڑمیں لوگوں کو ٹھگنا
جُھوٹا بھی کھائے مِیٹھے کے لالَچ
مکروہ چیز کسی مزے کی خابر کھائی جاتی ہے ، انسان کوئی تکلیف اٹھاتا با برا کام یا بری بات کرتا ہے تو ہم کسی فاعدے یا لالچ کے لیے .
جِدھر مولا اُدھر آصف الدولہ
آصف الدولہ والی اودھ نے لکھنئو میں ایام قحط میں شرفا و عوام کے لئے محنت مزدوری کا انتظام کیا تھا کہ اشراف رات کی تاریکی میں پہچانے جانے کی رسوائی سے محفوظ رہیں، یہ مثل مشہور تھی کہ 'جسے نہ دے مولا اسے دلائیں آصف الدولہ'
جی ہے تو جَہان ہے
جب کوئی شخص اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کوئی بہت خطرناک اور جوکَھم بھرا کام کرتا ہے تو اُسے سمجھانے کے لئے کہا جاتا ہے
جی کا بیری جی
انسان ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہے، ایک جانور دوسرے کو کھاتا ہے
جِیو کا آہار جِیو
آدمی سے آدمی کو فائدہ پہن٘چتا ہے ؛ جاندار جان دار کا کھاجا بنتا ہے.
جیوے میرا بھائی گلی گلی بھوجائی
نند کا اپنی بھاوج سے طعنہ مار کر کہنا کہ تو گھمنڈ کس بات کا کرتی ہے، میرے بھائی کے رہتے تیری جیسی بہت سی بھاوجیں مل جائیں گی
جِنسِیَت خُرْما و ہَم ثَواب
(لفظاً) کھجور بھی اور ثواب بھی ، وہ فعل جس میں لذت و لطف بھی ہو اور کارخیر بھی ہو ، فائدہ بھی اور نیکی بھی ، کام جس میں دوہرا فائدہ ہو ۔
جس کا ڈر وہی نہیں گھر
گھر والا موجود نہیں جو چاہو کرو، جب شوہر گھر میں موجود نہیں تو چاہے جو کرے، مکمل آزاد
جِس کا جاوے وُہی چور کَہاوے
پولیس پر طنز ہے جس کا مال چوری ہوتا ہے اسے ہی پولیس تن٘گ کرتی ہے ؛ جس کا نقصان ہو اسے ہی لوگ الزام دیتے ہیں .
جِس کی چُھری اُسی کی ناک
اپنی چھری سے اپنی ناک کاٹنا یا دوسرے کی چھری سے اس کی ناک کاٹنا ؛ بے باکی اور بے حیائی میں روک ٹوک نہ ہونتا کے موقع پر مستمعل.
جس کی جوتی اس کا سر
کسی کی خاطر تواضع اسی کے پیسے سے کرنا یا کسی کی کہی بات سے خود اسے ہی ہرا دینا
جِتْنا بَڑا اُتْنا کَڑا
بڑا چھوٹے کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوتا ہے، بڑے چھوٹے سب کی حالت خراب ہے، بڑا بیٹا کلیم ایک ایک بات کے سَو سَو جواب دینے کو تیار ہے
جِتْنا چھوٹا اُتْنا کھوٹا
چھوٹا (قد یا عمر میں) زیادہ ہوشیار زیادہ چالاک اور زیادہ سازشی سمجھا جاتا ہے، کمر عمر یا پستہ قد شریر کی بابت کہتے ہیں، چھوٹا دشمن اور بھی زیادہ نقصان پہنچاتا ہے
جِتنے مُنْھ اُتنی باتیں
ہر شخض اپنی سمجھ کے مطابق بات کرتا ہے، ہر ایک کی رائے دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، ہر شخص اپنی اپنی کہتا ہے
جِتْنی گوڈی ، اُتنی ڈوڈی
کھیت میں گوڈی کرنا پیداوار کے لیے مفید ہے (مکئی وغیرہ کے بیج بونے کے بعد زمین میں ہل چلانے یا کھر پے وغیرہ سے زمین کھود کر نرم کرنے کے عمل کو گوڈی کہتے ہیں.
جِیوں لادی تِیوں سَوا لادی
کسی بار یا دباؤ کے بڑھ جانے کے موقع پر بولتے ہیں ،خرچ کرنے لگے تو اس کی کمی بیشی پر خیال نہ کرنا چاہیے.
جو آنکھ سے دور وہ دل سے دور
جب تک انسان سامنے رہتا ہے تبھی تک اُس سے محبت بھی رہتی ہے یعنی منہ دیکھے کی محبت ہوتی ہے، غیر حاضری میں انسان یاد بھی نہیں رہتا
جو چَڑھے گا سو گِرے گا
جو چڑھے گا سو ڈھئے گا، جو کام کرتا ہے نقصان بھی اٹھاتا ہے، صاحب کمال دھوکا کھاتا ہے، جو کسی کام میں پڑتا ہے یا اس میں ترقی کرتا ہے وہ اس میں نقصان بھی اٹھاتا ہے
جو سَحْری کھائے وَہی رُوْزَہ رکھے
ایک شخص کی سحری کتّا کھا گیا، اُس نے اُسے سارا دن بُھوکا باندھ رکھا کہ اُس نے سحری کھائی ہے وہی روزہ رکھے گا یعنی جو فائدہ اُٹھائے وہی کام کرے، یہ مثل ایسے موقع پر بولتے ہیں جب یہ دکھانا منظور ہو کہ جو شخص فائدہ حاصل کرے وہی کام کرنے میں محنت اور تکلیف بھی اٹھائے،
جوگی کو بیل بَلا
جوگی کو اگر بیل دیا جائے تو وہ تو اس کے لئے مصیبت ہی ثابت ہو گا، وہ اسے کہاں رکھے گا اور کہاں باندھے گا
جوگی مارے چھار ہاتھ
غریب کو مارنے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر جوگی کو ماریں تو راکھ ہی ہاتھ کو لگتی ہے
جُوں جُوں لیا تیرا ناوں وُوں وُوں مارا سارا گاوں
یعنی ہر چند خدا کو یاد کیا مگر بدقسمتی و مصیبت بڑھتی ہی گئیں، سب برباد ہو گئےیا سب کچھ جاتا رہا، یہ اکثر وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو صابر و شاکر نہ رہ کر کفران کرتے ہیں اور اللہ کا شکوہ و شکایت کرنے لگتے ہیں