ہَنْسے اور پَھنْسے
مذاق اور دل لگی سے احتیاط ہی خوب ہے ؛ جب کوئی ہنس پڑے تو اسے شیشے میں اتارنا آسان ہوتا ہے ۔
ہَنسی اَور پَھنس
ہنسی رضامندی کی علامت ہے ، اگر عورت غیر مردوں کے ساتھ ہنسے تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ راضی ہوگئی ہے اور بدچلن خیال کی جاتی ہے ۔
ہَنستا بَھلا نَہ روتا
نہ ہنسی میں مناسبت اور نہ غم کے اظہار کے وقت مناسبت، نہ ہنستا اچھا معلوم ہو نہ روتا اچھا معلوم ہو
ہَنستا پُھول بِکَستی کَلی
نازک اور خوش مزاج آدمی، جو اکثر مسکراتا اور ہنستا رہے مگر جسے ذرا بھی ناگوارِ طبع بات گوارا نہ ہو، تنک مزاج
ہَنستی ہی گَھر بَستے ہَیں
ناخوشگوار باتوں کو ہنسی میں ٹالنے سے گھریلو زندگی خوشگوار رہتی ہے نیز ہنسی ہنسی میں کام بن جاتے ہیں ، باتوں باتوں میں مطلب نکل آیا کرتا ہے ۔
حامِد کی پَگْڑی مَحْمُود کے سَر
ایسے موقع پر مستعمل جب کسی کام یا بات کی زمّہ داری دوسرے پر ڈالی جائے کام کوئی کرے اور زمّہ دار کسی اور کو ٹھہرایا جائے یا کسی کی چیز کسی اور کو دی جائے .
ہار کا نیاؤ کیا
نقصان ہو جائے تو پھر ہاتھ پانو مارنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ، نقصان کے بعد کوشش فضول ہے
ہار مانی جھگڑا جیتا
جو ہار مان لے وہ جھگڑا ختم کر دیتا ہے اور فائدے میں رہتا ہے، جس نے مقدمے بازی نہ کی وہ حقیقت میں فائدے میں رہتا ہے
ہارے بابا داڑھی ہاتھ
اعترافِ شکست اور عجز میں کہتے ہیں کہ ہم ہارے اور تم جیتے (عام طور پر اس وقت ڈاڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں)
ہارے کا ہَتھیار
شکست خوردہ بیکار اسلحہ بھی دفاع کے لیے مجبوراً اُٹھا لیتا ہے ؛ مجبوراً خراب چیز سے بھی گزارا کرنا پڑتا ہے ۔
ہارے تو چَلے نان پارے
بحث میں عاجز ہو کر کوئی بہانہ کرکے ٹل جانا (اودھ میں ایک ریاست کا نام ہے نانپارہ) ۔
ہاتھ ہیکڑا نَہ پاؤں پیکڑا
ہاتھ پانو کے زیور کے بغیر ، نہ ہاتھ میں زیور ہے نہ پانو میں ؛ اس عورت کے متعلق کہتے ہیں جو بغیر کسی زیور یا قیمتی کپڑے کے ہو ۔
ہاتھ کا دیا ساتھ کھانے لگا
۔مثل۔کمینے بھی برابری کادعویٰ کرنے لگے۔ ہاتھ کا سچّا۔ صفت مذکر۔ دیانتدار۔ معتبر۔اعتبار والا۔ ساکھ والا۔ لین دین کا کھرا۔صادق ۔مونث کے لئے۔ ہاتھ کی سچّی۔
ہاتْھ کَنْگَن کو آرْسِی کیا
(لفظاً) ہاتھ کے کنگن کو دیکھنے کے لیے آئینے کی ضرورت نہیں ہوتی، مراد: جو بات ظاہر ہو اس کے دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے، جو چیز آنکھوں کے سامنے ہو اس کو کیا بیان کرنا
ہاتھ لیوا نَہ پانی دیوا
نہ کوئی مدد کرنے والا نہ کوئی پوچھنے والا ، کوئی سہارا دینے والا نہیں ، کوئی پُرسانِ حال نہیں ۔
ہاتھ میں چَکّی کا پاٹ ہے
حماقت کی بات ہے (ایک شہزادے کے قصے میں مذکور ہے کہ بادشاہ نے انگوٹھی مٹھی میں بند کر کے اشارے دیے اور پوچھا کہ بتاؤ مٹھی میں کیا ہے تو اس نے کہا چکی کا پاٹ ہے) ۔
ہاتھ میں لانا پیْٹ میں کھانا
مفلس کے متعلق کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو ، کما کے لائے تو کھائے ، جو کمانا سو کھانا ، محنت سے پیدا کرنا اور غریبانہ طور پر پتل میں کھا لینا
ہاتھ نَہ گلے ناک میں پیاز کے ڈَلے
کم ظرف اور ذرا سی چیز پر اترانے والی عورت کو کہتے ہیں ؛ بے موزوں سنگھار پر طنز بھی ہے کہ ہاتھ اور گلے میں تو کوئی زیور نہیں ہے لیکن ناک میں بھاری زیور ہے .
ہاتھی ہے یا اَمرُود
اس موقعے پر بولتے ہیں جب کسی ایک نے دو نئی مختلف چیزیں دیکھی ہوں اور ان میں ایک چیز کی بابت لوگوں کے پوچھنے پر کہے کہ یہ ہے یا وہ
ہَگا نَہ گَھر رَکھا
ایسا کام ہی نہ کیا جو تکلیف کا باعث ہو ؛ نہ کمایا نہ جمع کیا ؛ ناکارہ آدمی کے متعلق کہتے ہیں
ہَے آدمی ہَے کام نَہیں آدمی نَہیں کام
انسان کے دم قدم سے کام ہے، انسان نہیں ہوتا تو کام بھی نہیں ہوتا، ساری رونق انسان کے دم سے ہے، کرنے والے کے لیے بہت کام ہوتا ہے جو نہ کرنا چاہے اس کے لیے کچھ کام نہیں
ہَیں مَرد وہی پُورے جو ہَر حال میں خُوش ہَیں
مرد وہی ہے جو تکالیف کی پروا نہ کرے ، مرد کامل وہی ہے جو ہر حال میں خوش رہے ؛ نظیر اکبر آبادی کا مصرع (پورے ہیں وہی مرد ، جو ہر حال میں خوش ہیں) تقدیم تاخیر کے ساتھ بطور ضرب المثل مستعمل
ہَل جَزَاء الاحْسَان اِلا الاْحْسَانُ
(قرآنی آیت بطور کہاوت مستعمل) احسان کا بدلہ کیا ہے سوائے احسان کے، احسان کا بدلہ احسان ہی ہے، نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی نیکی کرے تو تم کو بھی اُس کے ساتھ نیکی کرنا چاہیے
حَلال تھوڑا حَرام بَہُت
تھوڑی حلال کی کمائی میں زیادہ برکت ہوتی ہے ، حرام کی بہت میں کچھ نہیں بنتا ؛ حلال تھوڑا ملتا ہے حرام بہت
ہَلْواہی چَرواہے کو
چرواہا ہل نہیں چلا سکتا ، جس کا کام ہو وہی کر سکتا ہے (غیر موزوں آدمی کے سپرد کام کرنے پر مستعمل)
ہَمَاں آش دَرْ کَاسَہ
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ایک معاملے کا دوسری بار پیش آنا، اس وقت کہا جاتا ہے جب پہلی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہو، معاملہ جوں کا توں رہے توکہتے ہیں
ہَماں آشْ دَرْ کاسَہ شُدْ
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ایک معاملے کا دوسری بار پیش آنا ؛ معاملہ جوں کا توں رہے توکہتے ہیں ۔
ہمیں پر کیا ہے
ہماری ذات ہی پر موقوف نہیں، ہم پر منحصر نہیں، مجھ ہی پر کیا موقوف ہے، ہماری ذات پرمنحصر اورموقوف نہیں ہے
ہَمسایَہ ما کا جایا
پڑوسی سگے بھائی کے برابر ہے ، پڑوسی کا بڑا حق ہوتا ہے (رک : ہمسایہ ماں (کا) جایا) ۔
ہَمسایا ما کا جایا
پڑوسی سگے بھائی کے برابر ہے ، پڑوسی کا بڑا حق ہوتا ہے (رک : ہمسایہ ماں (کا) جایا) ۔
ہَمُوں آش دَرْ کاسَہ
رک : ہماں آش درکاسہ ؛ اس وقت مستعمل ہے جب پہلی حالت میں باوجود کوشش کچھ تبدیلی نہ ہو ۔
ہَنُوز دِلّی دُور
رک : ہنوز دلی دور است (ست) ؛ ابھی مطلب پورا ہونے میں بہت دیر ہے ، ابھی منزل بہت دور ہے ، ابھی وہی ابتدائی معاملہ ہے ۔
ہَنُوز دِلّی دُور اَست
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ابھی منزل بہت دور ہے، ابھی وہی ابتدائی معاملہ ہے، ابھی مطلب پورا ہونے میں بہت دیر ہے
ہَنُوز روزِ اَوّل
اب تک پہلا دن ہے یعنی کام ابھی اپنی ابتدائی حالت سے آگے نہیں بڑھا ، ابھی تک کچھ ترقی نہیں کی ، ابھی وہی ابتدا والا معاملہ ہے ۔
ہَر عَیب کہ سُلطان بَہ پَسَندَد ہُنَر اَست
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) بادشاہ جس عیب کو پسند کرتا ہے وہ ہنر سمجھا جاتا ہے ؛ بڑوں کے عیب بھی خوبی ہو جاتے ہیں ؛ بری بات جو حاکم کرتا ہے لوگ اسی کی تقلید کرتے ہیں ۔
ہَر بار گُڑ مِیٹھا
اچھی چیز بہرحال اچھی ہوتی ہے (ہر دفعہ فائدہ ڈھونڈنے والے کی نسبت کہتے ہیں)
ہَر بَہارے را
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ہر بہار کو خزاں ہوتی ہے ؛ ہر کمال کو زوال ہوتا ہے
ہَر چَہ زُود آیَد دیر نَپایَد
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) جو چیز جلد آتی ہے وہ دیر تک نہیں ٹھہرتی ؛ جو کام جلدی میں کیا جائے وہ دیرپا نہیں ہوتا
ہَر چَند جامَہ تَنگ اَسْت جُزوِ بَدَن نَہ گَردَد
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) کپڑا کتنا ہی تنگ ہو مگر جزوِ بدن نہیں ہوتا ؛ غیروں سے کیسی ہی ملاقات ہو وہ اپنوں کے برابر نہیں ہو جاتے ، غیر جنس ہم جنس کے برابر نہیں ہو سکتا ، اپنے اپنے ہیں اور غیر غیر
ہَر چہ بَر خَرے باشَد مَن پالانَم
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) چاہے گدھے پہ کچھ ہو میں تو پالان ہوں ؛ مجھے ہرکس و ناکس سے پالا پڑتا ہے ؛ اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے (ایسے موقعے پر کہا جاتا ہے جب کسی کو اپنی منصبی مجبوری کے سبب غلط یا حماقت کا کام کرنا پڑتا ہے ؛ جیسے : پالان کے اوپر اچھا بُرا ، قیمتی سستا ہر طرح کا سامان لدا ہوتا ہے)
ہَر چہ بَزَبان آیَد بَزِیاں آیَد
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) جو بات زبان سے نکلتی ہے وہ نقصان بھی پہنچاتی ہے ، بات سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے ورنہ بعد میں پچھتانا پڑتا ہے ۔
ہر دو لعنت
دونوں پر لعنت، دونوں برے ہیں، جب دو بری چیزوں کا مقابلہ ہو تو کہتے ہیں کسی نے اونٹ سے پوچھا اترائی یا چڑھائی اس نے یہ جواب دیا
ہَر حِیلے رِزق ہَر بَہانے مَوت
موت اور روزی ہرحال میں آتی ہے ، روزی اور موت کے لیے بہانہ چاہیے ہوتا ہے ، ذراسی بیماری سے آدمی مر سکتا ہے اور ذرا سی محنت سے روزی مل سکتی ہے (رک : حیلے رزق بہانے موت) ۔
ہر جیسے کو تیسا
سیر کو سوا سیر، بد ذات کے لئے بد ذات، شریر کے لئے شریر مل ہی جاتا ہے یعنی 'جیسے کو تَیسا'
ہَر کار و ہَر مَردے
جس کا کام اسی کو ساجے، کوئی آدمی کسی کام کے لیے موزوں ہے تو کوئی کسی کام کے لیے، ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا
ہَر کَسے را بَہْر کارے ساخْتَند
(فارسی مصرع بطور کہاوت اُردو میں مستعمل) ہر ایک خاص کام کے لیے موزوں ہے ، ہر شخص کو کسی کام کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کام کا عشق اس کے دل میں ڈال دیا ہے ۔
ہَر کِہ دَنداں داد نان ہَم می دَہَد
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) جس نے دانت دیے وہی روٹی بھی دے گا ، انسان کو رزق کی طلب میں زیادہ پریشان نہ ہونا چاہیے خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے
ہَر کِہ خِدمَت کَرد اُو مَخدُوم شُد
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) جو خلق خدا یا بزرگوں کی خدمت کرتا ہے عزت پاتا ہے ؛ جو خدمت کرتا ہے اس کی خدمت کی جاتی ہے ، جو خدمت کرتا ہے اسے عزت ملتی ہے
ہَر مَردے و ہَر کارے
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ہر مرد اور ہر کام ، کوئی آدمی کسی کام کے لیے موزوں ہے کوئی کسی کام کے لیے ، جس کا کام اسی کو ساجے
ہَر مَسالے پَپلا مول
ہر مسالے میں مرچ کام آتی ہے ، ہر کام میں شامل ہو جانے والے کے متعلق کہتے ہیں ، ہر فن مولا (جامع الامثال) ۔
ہَر روز عِید نِیست کِہ حَلوا خُورَد کَسے
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ہر روز عید نہیں ہے کہ کوئی حلوا کھائے ؛ روز روز عمدہ موقع ہاتھ نہیں آتا ؛ ہر روز خوشی حاصل نہیں ہوتی ، زمانہ ایک سا نہیں رہتا ، (بالعموم ایسے موقعے پر مستعمل جب کوئی ایک بار کچھ پانے کے بعد پھر فائدے کی امید رکھے) ۔
حَرام زادے حَلال زادے والی
شریر اور نیک کا قصہ ، اس کہاوت سے ایک کہانی وابستہ ہے شریر النفس آقا نیک خادم کا ناک میں دم کرنتا ہے اور شریر خادم آقا کو ناک چنے چبوا دیتا ہے ایسے موقع پر بولتے ہین جب کوئی کسی کے ساتھ بہت خبائت برتے یا بہت ستائے
ہر بھرے رہو
کامیاب اور با مراد رہو، دولت مند اور با اولاد رہو
ہَر کَمالے را زَوال
(فارسی کہاوت اُردو میں مستعمل) ہر کمال کو زوال ہوتا ہے، عروج کے بعد زوال شروع ہوتا ہے
ہَتھیلی پر سَرسوں نَہِیں جَمتی
مشکل کام آسانی سے نہیں ہو سکتا ، کام میں جلد نتیجے کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ وائسرائے نے سمجھایا کہ میاں ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی ۔
ہَزار دَوا اور ایک دُعا
بیمار کے لیے دُعا ضرور کرنی چاہیے اس سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے ، دُعا دواؤں سے زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے
ہَزار نِعمَت ایک تَندُرُسْتی
ایک تندرستی ہزار نعمت پر غالب ہے ، تندرستی کے آگے نعمت کی کچھ حقیقت نہیں ، ہزار نعمتیں ایک طرف اور تندرستی ایک طرف
حِیلے رِزْق بَہانے مَوت
رزق اور موت کے لیے بہانہ درکار ہے (ادنیٰ سی بیماری سے مر جانے یا تھوڑی سی محنت سے بہت سا رزق مل جانے کے موقع پر بولتے ہیں)
ہِیرا ہِیرے کا کاٹْتا ہے
لوہا لوہے کو کاٹتا ہے، بالعموم کسی ایسے شخص یا شے کے لیے مستعمل جو تیزی یا چالاکی یا خرابی میں کسی کا جواب یا ہم پلہ ہو.
ہیرے کی پرکھ جوہری جانے
اہل ہنر کی قدر قدردان ہی کر سکتا ہے، اہل ہنر کو قدردان ہی پہچانتا ہے، ہر ایک واقف نہیں ہوتا
حِکْمَت بَلُقْمان آموخْتَن
عام آدمی کا کسی بہت بڑے صاحبِ فن کو اس کے فن کے متعلق کچھ سکھانا ، اپنے سے برتر کو تعلیم دینا ، دانا کو دانائی سکھانا ؛ فضول بات کرنا
حِکْمَت لُقْمان کو سِکھانا
عام آدمی کا کسی بہت بڑے صاحبِ فن کو اس کے فن کے متعلق کچھ سکھانا ، اپنے سے برتر کو تعلیم دینا ، دانا کو دانائی سکھانا ؛ فضول بات کرنا
حِساب جَو جَو بَخْشِش سَو سَو
معاملے میں کوڑی کوڑی کا حساب ہونا چاہیے، حساب میں ذرا سا فرق بھی نہ ہونا چاہئے اور انعام کا اختیار ہے چاہے جس قدر دے دو
حِساب کَوڑی کا بَخْشِش لاکھوں کی
معاملے میں کوڑی کوڑی کا حساب ہونا چاہیے، حساب میں ذرا سا فرق بھی نہ ہونا چاہئے اور انعام کا اختیار ہے چاہے جس قدر دے دو، حساب جو جو بخشش سو سو
ہوں گے پُوت تو پُوجیں گے بُھوت
کچھ نفع ہو تو خدمت بھی کریں ورنہ کیا ضرورت ، اپنی غرض کے لیے سب کچھ کرنا پڑتا ہے ، اولاد کی امید پر بھوت پریت کی پرستش بھی منظور ہے ، اولاد کے واسطے سب جائز اور ناجائز بھگتنا پڑتا ہے
ہونٹوں نِکلی کوٹھوں چَڑھی
منھ سے بات نکلتے ہی مشہور ہو جاتی ہے ، بات کہتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے چپکے سے کہنے کے باوجود فوراً پھیل جاتی ہے ۔
ہوتے ہی نَہ مُوا جو کَفَن تھوڑا لَگتا
رک : ہوتے ہی کیوں نہ مر گیا ؛ ایسے شخص کی نسبت بولتے ہیں جس سے سخت نفرت ہو ، ایسا شخص پیدا ہی نہ ہوتا تو بہتر تھا کہ زیادہ کفن بھی نہ دینا پڑتا یا برا آدمی اگر پیدا ہوتے ہی مرجائے تو اچھا ہے.
حُکْمِ حاکم مَرگِ مُفاجات
ناگہانی موت کی طرح حاکم کے فرمان سے بھی مفر نہیں، چار و ناچار حاکم کے فرمان کی اطاعت کرنی پڑتی ہے، طوعاً و کرہاً حاکم کا حکم ماننا پڑتا ہے
حُکُومَت کی گھوڑی اَور پَسیری دانَہ
حاکم کی گھوڑی کے لیے تیس سیر دانہ چاہیے گھوڑی تو تین چار سیر کھاتی ہے باقی ستائیس وغیرہ اڑا جاتے ہیں، حاکم کے نام سے عملے والے لوگوں کو بہت لوٹتے ہیں
حُقّہ پَیر دَوڑی سے روٹی قِسْمَت سے
حقّہ دوڑ دھوپ سے مل جاتا ہے تلاش کرو تو کوئی نہ کوئی حقّہ پیتا مل جاتا ہے یا آگ کی تلاش کرنی پڑتی ہے مگر روٹی دوڑ دھوپ سے حاصل نہیں ہوتی قسمت میں ہو تو مل جاتی ہے
ہُش ہُش کان میں گُھس
نہ رقم پاس ہے نہ خاطر تواضع کا بندوبست ہے لیکن سب کو مہمان بلا لیا ہے (بدنظمی کے اظہار کو عورتیں بولتی ہیں)